https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/09/08/feature-01
معاشرہ |

وادیٔ کیلاش کے لوگ منفرد ثقافت اور تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں

از عالمگیر خان

image

اگست کے مہینے میں ضلع چترال میں وادیٔ کیلاش میں ایک کیلاش لڑکی اپنے گھر کے باہر کھڑی ہے۔ [عالمگیر خان]

image

اگست کے مہینے میں کیلاش لڑکیاں کمپیوٹر کی مہارت سیکھتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

ایک کیلاش لڑکی اپنے برتن میں چشمے کا پانی بھرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

ایک کیلاش ماں اپنے بچے کو تھامے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

ایک کیلاش خاتون اپنے بچے کے ساتھ اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ [عالمگیر خان]

image

ایک کیلاش لڑکی کیمرے کے لیے پوز بناتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

کیلاش لڑکے اس مقام پر کرکٹ کھیلتے ہوئے جہاں دیگر اوقات میں خواتین رقص کرتی ہیں۔ [عالمگیر خان]

image

ایک کیلاش خاتون گھر میں نان (روٹی) پکاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

کیلاش لڑکیوں کو کھیلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

ایک کیلاش خاتون اپنی دکان میں روایتی لباس فروخت کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

ایک کیلاش خاتون اپنے روایتی لباس میں فوٹو کھنچواتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

کیلاش خاتون روایتی رقص کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

دیگر کیلاش خواتین کو رقص کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

کیلاش مرد مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

ضلع چترال -- خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں ایک وادی، جو ہندوکش کے پہاڑوں میں محصور ہے، کیلاش قبیلے کے لوگ اپنی ثقافت، زبان اور مذہب کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔

کیلاش قبیلے کے لوگ ایک مذہب، کیلاش کے پیروکار ہیں، جسے اسلام اور قدیم ہندومت کا ایک مرکب بتایا جاتا ہے۔

کیلاش خاتون شاہین گل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہماری ایک منفرد ثقافت ہے۔ سیاح ہمارے گھروں میں آتے ہیں اور کیلاش لباس خریدتے ہیں اور ہماری ثقافت کے متعلق جانتے ہیں۔"

image

خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں وادیٔ کیلاش، اگست میں دکھائی گئی ہے۔ [عالمگیر خان]

گل یونیورسٹی آف پشاور سے فارغ التحصیل ہیں اور وادیٔ کیلاش کے صرف 12 دیہات میں سے ایک، کرکال گاؤں میں مقیم ہیں۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا، "[اپنے وقت کے صدرِ پاکستان] جنرل پرویز مشرف میرے گھر آئے تھے۔"

ایک اور کیلاش خاتون، 27 سالہ شاعرہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کل 12 دیہات میں ہماری آبادی محض 4،100 نفوس پر مشتمل ہے۔" وہ پہلی کیلاش خاتون تھیں جنہوں نے یونیورسٹی آف پشاور سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی تھی۔

انہوں نے کہا، "غربت اور تعلیم کی کمی نے میرے قبیلے کو پسماندہ اور اپنے بنیادی انسانی حقوق سے لاعلم رکھا ہے۔"

اسی سال ہی، پشاور ہائی کورٹ نے حکومتِ پاکستان کو مردمِ شماری میں کیلاش مذہب کو بطور ایک اختیار شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

اچھا ہے

جواب