صحت

سیکورٹی کی بہتر صورتِ حال کے باعث پاکستانی ڈاکٹر بیرونِ ملک سے واپس آ رہے ہیں

اشفاق یوسف زئی

image

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں 15 جولائی کو ایک ڈاکٹر مریض کا معائینہ کر رہا ہے۔ ]اشفاق یوسف زئی[

پشاور -- پاکستان بھر میں اور خصوصی طور پر خیبر پختونخواہ (کے پی) میں سیکورٹی کے بہتر ہو جانے کے باعث، پاکستانی ڈاکٹر مشرقِ وسطی اور یورپ سے واپس آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر سلطان ان 20 سپشلسٹ ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے حال ہی میں برطانیہ میں اپنی ملازمت سے استعفی دیا ہے تاکہ وہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) میں کام شروع کر سکیں۔

سلطان جو کہ صوابی ڈسٹرکٹ کے شہری ہیں، نے کہا کہ بہت سالوں کے بعد ان کی وطن واپسی کے پی میں بہتر سیکورٹی کے باعث ہوئی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ 14 سال سے بیرونِ ملک تھا مگر جب میں نے دیکھا کہ دہشت گردی ختم ہو گئی ہے اور زندگی مکمل طور پر معمول پر آ گئی ہے تو میں نے واپس آنے کا فیصلہ کر لیا"۔

واپس آنے والے بہت سے ڈاکٹروں کی طرح، سلطان نے کہا کہ وہ اعلی تعلیم اور ملازمت کی تلاش میں بیرونِ ملک گئے تھے اور وہ پاکستان میں سیکورٹی کے نہ ہونے کے باعث وہاں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "دہشت گردی میں کمی کر باعث، ہمارے دوسرے بہت سے ساتھی بھی اب واپس آ گئے ہیں اور وہ امن کی بحالی پر خوش ہیں"۔

نئے واپس آنے والے ڈاکٹروں نے ہسپتالوں میں کام کرنے کے بہتر حالات، تنخواہوں اور پاکستان بھر میں امن و امان میں بہتری کو بیرونِ ملک اپنی ملازمتوں کو ترک کرنے کی مرکزی وجہ قرار دیا۔

حال ہی میں واپس آنے والے ڈاکٹر حامد شہزاد ہیں جو کہ برطانیہ کے سب سے بڑے ٹراما سینٹر -- کوئین الزبتھ ہسپتال برمنگھم میں 15 سال سے کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔

اب وہ ایل آر ایچ میں ایمرجنسی سیکشن کے سربراہ ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میری ترجیح ایک انتہائی جدید ٹراما سینٹر قائم کرنے کی ہے تاکہ بم دھماکوں اور خودکش دھماکوں میں زخمی ہونے والے مریضوں کو فوری طور پر علاج کی سہولیات مہیا کی جا سکیں"۔

ایل آر ایچ کے پوسٹ گریجوئٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے ڈین ڈاکٹر ارشد جاوید نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ جیتنے نے سپشلسٹوں کی واپسی کی راہ ہموار کی ہے۔

پاکستانی ڈاکٹر دوسرے شہروں میں بھی کام کرنے کے لیے بیرونِ ملک سے واپس آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر احمد یار جنہوں نے گزشتہ 8 سال سے دبئی کے ہستپال میں جنرل سرجن کے طور پر خدمات انجام دی ہیں اب مردان میڈیکل کامپلکس میں کام کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں واپس آنے اور اپنے لوگوں کا علاج کرنے کے لیے بہت پرجوش تھا۔ گزشتہ چند سالوں کے مقابلے میں عسکریت پسندی سے متعلق صورتِ حال کافی بہتر ہوئی ہے"۔

فاٹا میں بہتری

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے ڈاکٹر جو اس سے پہلے عسکریت پسندی کے شکار علاقوں میں تعنیاتی سے خوف کھاتے تھے، اب سیکورٹی کے بارے میں صرف معمولی تشویش رکھتے ہیں اور اس کا سہرا اس وقت جاری عسکری مہمات کے سر جاتا ہے۔

فاٹا ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر اختیار علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "4.5 ملین کی آبادی کے لیے صحت کی 970 سہولیات میں 600 ڈاکٹر جن میں 110 سپشلسٹ بھی شامل ہیں، موجود ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے تباہ کیے جانے والے 50 کلینکس کی مرمت کر کے انہیں کام کرنے کے قابل بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب خواتین ڈاکٹر بھی فاٹا میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2012 کے وسط سے پہلے، عسکریت پسندی کے شکار علاقوں میں ہسپتالوں میں ڈاکٹر یا عملہ موجود نہیں تھا اور مریضوں کو علاج کے کیے کے پی کا سفر کرنا پڑتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "مشکل علاقوں میں ملازمین کو زیادہ تنخواہ فراہم کرنے کی ہماری حکمتِ عملی بھی کامیاب رہی ہے کیونکہ طبی عملے نے دور دراز کے علاقوں میں موجود سہولیات میں ملازمت حاصل کر لی ہے"۔

علی نے فاٹا میں امن کو بحال کرنے پر پاکستانی فوج کی تعریف کی۔

'واضح تبدیلی'

ڈاکٹر محمد سلیم جو کہ پشاور کے خیبر میڈیکل کالج کے گریجوئٹ ہیں اور جو 2003 میں برطانیہ چلے گئے تھے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ایک واضح تبدیلی موجود ہے جو ہمیں یہاں لے آئی ہے"۔

سلیم جو اب خیبر ٹیچنگ ہسپتال (کے ٹی ایچ) میں کام کرتے ہیں نے کہا کہ "اپنے تجربے کے ساتھ مقامی مریضوں کا علاج کرنے قابل ہونے ایک بہت بڑا موقع ہے"۔

وطن واپس آنے والے ڈاکٹر اب میڈیکل کے طلباء اور سپشلسٹ کی تربیت حاصل کرنے والوں کو جدید ترین طبی ٹیکنالوجی کے بارے میں لیکچر دے رہے ہیں کیونکہ وہ کے پی واپس آنے کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ یہ بات کے ٹی ایچ کے ترجمان فرہاد خان نے بتائی۔

خان نے کہا کہ حکومت نے تقریبا 2,000 سیکورٹی کے اہلکاروں کو بھرتی کیا ہے جنہیں ملک بھر میں طبی سہولیات کے باہر تعینات کیا گیا ہے تاکہ عملے کے تشدد سے محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم باقاعدگی سے بیرونِ ملک سے وفود کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں جو مریضوں کا آپریشن کرنے اور صوبائی ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹروں کو ویڈیو سے لیکچر وغیرہ دینے کے لیے آتے ہیں"۔

سوات ڈسٹرکٹ کے ہیلتھ آفسر ڈاکٹر غلام سبحانی نے کہا کہ حکومت نے ڈسٹرکٹ کے 90 ہسپتالوں میں 100 فیصد عہدوں کو پُر کر لیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "طالبان کےغیر قانونی قبضے کے دوران مریضوں کو خاتون ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اب مکمل امن ہے"۔

سبحانی 10 سالوں سے دبئی میں سرجن کے طور پر کام کرتے رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے واپس آنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ "چند سال پہلے، لوگ سوات واپس آنے سے خوفزدہ تھے مگر اب طالبان کا باب ختم ہو چکا ہے اور فوج عوام کی حفاظت کر رہی ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 3

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

بہت خوب، اب پاکستان انشا اللہ محفوظ اور مستحکم ہے۔

جواب

کیا ڈی آئی خان اور مردان میں بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے؟ ؤائی ڈی اے کے پی کے کا کیا نقطۂ نظر ہے؟ کے پی کے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد اور کے پی کے سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک ملین مزدور جو سعودی عرب میں کام کرتے ہیں، مستقبل قریب میں واپس لوٹ آئیں گے، اس لیے نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے حالات بہتر کیے ہیں، بلکہ اس لیے کہ سعودی عرب میں حالات بدتر ہو گئے ہیں۔

جواب

دیگر ممالک کی نسبت پاکستان نے بہت غربت اور طرزِ زندگی کے نہایت کم تر معیار دیکھے ہیں۔۔۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے ملک کو عظیم بنائیں تاکہ بیرونِ ملک مقیم تمام پاکستانی واپس آ کر پاکستان کو عظیم بنا سکیں۔

جواب