https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/07/20/feature-01
| سلامتی

پاکستان میں خود کش حملوں میں کمی کا سبب سیکورٹی آپریشنز ہیں: مبصرین

جاوید محمود

image

پشاور میں 17 جولائی کو پاکستانی سیکورٹی اہلکار ایک خود کش دھماکے کے مقام پر تباہ ہونے والی سیکورٹی کی گاڑی کا معائنہ کر رہا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ایک طالبان خود کش بمبار کے نیم فوجی فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنانے سے دو افراد ہلاک ہوئے۔ سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشنز اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں نے دہشت گردوں کے خودکش حملے کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔ [عبدالمجید/اے ایف پی]

اسلام آباد – مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں خودکش حملوں میں ہونے والی کمی ملٹری اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ہونے والی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے موثر ہونے کا ثبوت ہے۔

ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل ویب سائٹ کے اعدادوشمار کے مطابق 2013 میں ریکارڈ کیے جانے والے 43 خودکش حملوں کے نتیجے میں 751 افراد جاں بحق اور 1,411 زخمی ہوئے۔

2014، جس سال پاکستانی فوج نے آپریشن ضرب عضبکا آغاز کر کے مختلف عسکریت پسند گروہوں کو نشانہ بنایا، خودکش حملوں کی تعداد کم ہو کر 25 ہو گئی جن میں 336 جاں بحق اور 601 زخمی ہوئے۔

اُنیس خودکش حملے 2015 اور دوبارہ 2016 میں واقع ہوئے جبکہ اس سال 9 جولائی تک 10 خودکش حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

کامیاب عسکری آپریشنز

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے سابق سیکیورٹی سیکریٹری اور سیکیورٹی تجزیہ کار، پشاور سے تعلق رکھنے والے برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”عسکری آپریشنز اور سیکیورٹی اقدامات مثبت نتائج کے حامل رہے ہیں، جس سے خودکش حملوں اور شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی اموات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔“

انہوں نے کہا، ”آپریشن ضربِ عضب دہشتگردوں کے لیے مہلک ترین ثابت ہوا ہے اور اس نے نہ صرف عسکریت پسندوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے بلکہ شمالی وزیرستان میں ان کی کمین گاہیں، تربیتی کیمپ اور اسلحہ کے ذخائر بھی تباہ کیے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد ملک میں دہشتگردی کا گراف کم ترین سطح تک آ گیا ہے۔“

اپریل میں مرکز برائے تحقیق و علومِ سلامتی کی جانب سے شائع کی گئی 2016 قومی ایکشن پلان ٹریکر رپورٹ کے مطابق، 2015 اور 2016 میں پاکستان میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 1,816 دہشتگرد مارے گئے اور 5,611 گرفتار ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشتگردی کے خلاف اپنی جنگ میں غیر معمولی کام کیا ہے، جس کے نتیجہ میں 2014 اور 2016 کے درمیان ملک بھر میں تشدد کے نتیجہ میں ہونے والی اموت میں 66 فیصد کمی آئی۔

شاہ نے کہا کہ فروری میں شروع ہونے والا پاک فوج کا نیا آپریشن ردّالفساد بھی عسکریت پسندی کی روک تھام کر رہا ہے اور گزشتہ آپریشن کی کامیابیوں کو مستحکم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ٹارگٹڈ سیکیورٹی آپریشن اور ممکنہ دراندازی والے علاقوں میں باڑ کی تعمیر اور افغانستان کے ساتھ سرحد پر سیکیورٹی میں اضافہ نے بھی عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

شاہ نے کہا کہ اب ”دولتِ اسلامیۂ“ (داعش) پاکستانیوں کا خون بہانے کے ایجنڈا کو چلانے کے لیے پنجاب سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گروہ لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) جیسے اپنے مددگاروں کا استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ”عسکری آپریشنز اور سخت سیکیورٹی اقدامات نے داعش کی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوششوں کو مسدود کیا ہے۔“

سیکیورٹی میں بطورِ کل بہتری

اسلام آباد اساسی تھنک ٹینک پاکستان ادارہ برائے علومِ تنازعات و سلامتی (پی آئی سی ایس ایس) کے مینیجنگ ڈائرئکٹر عبداللہ خان نے کہا، ”خود کش حملوں میں کمی حالیہ برسوں میں سیکیورٹی میں بطورِ کل بہتری کا نتیجہ ہے۔“

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”شمالی وزیرستان عسکریت پسندوں کی مستحکم ترین چھاؤنی تھی، جہاں دہشتگرد نئے بھرتی شدہ عسکریت پسندوں کی تربیت کرتے تھے۔ وہاں دھماکہ خیز آلات بھی تیار کیے جاتے تھے۔“

انہوں نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب نے عسکریت پسندوں کے اس گڑھ کا خاتمہ کیا جبکہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز نے دہشتگرد گروہوں کے لیے پاکستان میں از سرِ نو گروہ بندی کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا، ”حالیہ حملوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کو پتا چلا کہ خود کش حملہ آوروں کو افغانستان میں تربیت دی جاتی تھی۔“، انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت ماضی کے رجحانات کی تنسیخ کی نمائندگی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا، ”چند برس قبل پاکستان میں عسکریت پسند گروہ خودکش حملہ آوروں کو افغانستان بھیجا کرتے تھے، لیکن اب بمبار [افغانستان سے پاکستان] آ رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”یہ اس بات کی دلیل ہے کہ [پاکستان میں] کالعدم عسکریت پسند گروہ اب بمباروں کو بھرتی کر کے ان کی تربیت کرنے کی صلاحیّت نہیں رکھتے۔“

دہشتگردی کے لیے مالیات فراہم کرنے والوں پر کریک ڈاؤن

ایک تحقیقی ادارے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے اسلام آباد باب کے چیئرمین مرتضیٰ مغل نے کہا کہ پاکستان میں عسکریت پسندی کا خاتمہ کرنے کے لیے سرحدی سلامتی اور عسکری آپریشنز ہی کافی نہیں۔

انہوں نے پاکستان فاوروڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو ملک میں با رسوخ ترغیب کنندگان، تسہیل کاروں اور دہشتگردوں کو فراہمیٔ مالیات کرنے والوں کا احتساب کرنا چاہیئے۔“

انہوں نے کہا، ”جب تک عسکریت پسندوں کو فراہمیٔ مالیات کرنے والوں اور تسہیل کاروں کو مثالی سزائیں نہیں دی جائیں گی، ملک میں دیرپا امن ایک خواب رہے گا۔“

انہوں نے کہا کہ افواج کی جانب سے ملک بھر میں اسلحہ کے ذخائر پکڑے جانا ظاہر کرتا ہے کہ عسکریت پسند تاحال پاکستان میں کہیں سے حمایت حاصل کر رہے ہیں۔

مغل نے حکومت اور اس کی سیکیورٹی ایجنسیوں کو ان کے خلاف فیصلہ کن کاروائی نہ کرنے پر موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشت گردی کے لیے فراہمیٔ مالیات کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنا انسدادِ دہشتگردی کے قومی ایکشن پلان کا جزو ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
17
نہیں
تبصرے 14
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

میں پولیس میں شمولیت چاہتا ہوں. مجھے پولیس سے محبت ہے.

جواب

پاک فوج بہترین ہے

جواب

مجھے اپنی فوج سے پیار ہے۔

جواب

مجھے رینجرز سے پیار ہے

جواب

مجھے رینجرز پسند نہیں کیوں کہ تعیناتی کے لیے ان کے کوئی قواعد نہیں۔

جواب

Mashallah buhat he acha eqdam hai.

جواب

میرا طرف سے تمام اہل وطن کو جش آزادی مبارک ہوں ۔اللہ ہمارے وطن کو ہمشہ سلامت رکہ ۔یا اللہ ہمارے وطن کو دہشتگردی سے صاف کرے۔یا اللہ ہمارے وطن میں اتفاق اور اتحاد قائم فرمائے ۔یا اللہ جو لوگ اس ملک میں ظلم کرنے چاہتے ہے اس کو ہدایت فرمائے ۔امین
پاکستان آرمی زنداباد

جواب

مجھے پاکستان رینجرز سے پیار ہے

جواب

مجھے پسند ہے

جواب

مجھے رینجرز سے پیار ہے

جواب

شکریہ

جواب

خوب

جواب

یہ مقالہ ایک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے اور میرا خیال ہے کہ اسے اردو میں بھی شائع کیا جانا چاہیئے کیوں کہ پاکستانیوں کی اکثریت انگریزی پڑھ اور سمجھ نہیں سکتی۔ اگر یہ پالیسی کے مطابق صرف عاقلوں کے لیے ہے تب تو درست ہے۔ آخر سے تیسرا پیرا حقیقی شرط ہے اور یہ صرف اسی طور ہی ممکن ہے کہ جب ہمارے پاس ایک مستحکم حکومت ہو اور اس کے سامنے صرف قومی مفادات ہوں اور معاشرہ بڑی حد تک بدعنوانی سے پاک ہو۔ فی الوقت ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایسا نہیں۔

جواب

اچھی معلومات

جواب