https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/07/19/feature-01
معاشرہ |

راندہ سے پسا ہوا آٹا پاکستان میں طویل عرصے سے مفید ہے

از عدیل سعید

image

پشاور میں وارسک روڈ پر ایک نہر پر پن چکیاں بنی ہوئی ہیں۔ حضرت علی، جو چکی کو چلاتا ہے، کا کہنا ہے کہ اس کا خاندان 100 برسوں سے اس کاروبار کے ساتھ منسلک رہا ہے۔ [عدیل سعید]

image

گندم سے بھرے ہوئے تھیلے پن چکی کے باہر پڑے ہیں۔ [عدیل سعید]

image

پہیئے کی شکل کا ایک پیسنے والا پتھر (جس کے نیچے ایک اور پتھر ہے) وارسک روڈ پر پن چکی پر دکھایا گیا ہے۔ پن چکیوں میں بڑا گھرنی والا پہیہ، جو پانی کے بہاؤ سے چلایا جاتا ہے، گندم، مکئی اور دیگر اناج کو آٹا بنانے کے لیے پیسنے کے لیے دیگر کئی پتھروں کو گھماتا ہے۔ [عدیل سعید]

image

ایک مزدور ایک دائرے کی شکل میں گھومنے والے پہیہ نما پتھروں کے ساتھ پیسنے کے لیے گندم کو چکی کی نالی میں انڈیل رہا ہے۔ [عدیل سعید]

image

پن چکی کو چلانے والا، حضرت علیم بھوسی کو الگ کرنے کے لیے پسی ہوئی گندم کو چھانتا ہے اور آٹے کو بہتر بناتا ہے۔ [عدیل سعید]

image

علی کا بیٹا کاشف، آٹا چھاننے میں اپنے والد کی مدد کرتا ہے۔ [عدیل سعید]

image

حضرت علی آٹے سے بھرا ایک تھیلہ ایک ترازو پر رکھتا ہے۔ [عدیل سعید]

پشاور -- پن چکی، جسے مقامی زبان میں "راندہ" کہا جاتا ہے، گندم، مکئی، باجرہ، جوار اور دیگر اناجوں کو آٹا بنانے کے لیے پیسنے کا ایک قدیم طریقہ ہے۔

راندہ کئی صدیوں سے موجود ہیں اور پسائی کی ملوں میں جدید ٹیکنالوجی آنے کے باوجود، ابھی بھی خیبرپختونخوا (کے پی) اور پاکستان کے دیگر حصوں میں استعمال کی جاتی ہیں۔

پشاور میں وارسک روڈ پر ایک راندہ کو چلانے والے، 50 سالہ حضرت علی نے کہا کہ جو لوگ راندہ سے پسے ہوئے آٹے کے معیار سے واقف ہیں وہ جدید ملوں میں پسے ہوئے آٹے پر اسے ترجیح دیتے ہیں۔

image

6 جولائی کو، گندم کو پانی سے چلنے والی، پہیئے کی شکل کے پتھروں کی چکی کے پاٹ میں ڈالا جا رہا ہے۔ [عدیل سعید]

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہی وجہ ہے کہ راندہ ابھی تک باقی ہے؛ بصورتِ دیگر یہ ٹیکنالوجی کے آنے کی وجہ سے متروک ہو چکی ہوتی۔"

علی کا خاندان تقریباً ایک صدی سے روایتی طریقے سے آٹا پیستا چلا آ رہا ہے۔ اسے اپنے والد کا کاروبار ورثے میں ملا تھا۔

راندہ کو بہتے ہوئے پانی سے چلایا جاتا ہے جو ایک دریا یا ندی سے لایا جاتا ہے۔ پانی کے بہاؤ کی قوت ایک ٹربائن کے پنکھوں کو چلاتی ہے۔ یہ ایک دھرے کو گھماتی ہے جو پیسنے والے پتھر کو چلاتا ہے۔

پانی کے بہاؤ کو ایک ٹکڑے والے گیٹ سے قابو کیا جاتا ہے جو پیسنے والے پتھروں کی دیکھ بھال اور رفتار پر قابو پانے کے قابل بناتا ہے۔

علی نے کہا کہ گندم اور دیگر اناج کو پیسنے کا یہ تاریخی طریقہ خطے کی زرخیز ثقافت کی ایک علامت تصور کیا جاتا ہے۔

اگرچہ صدیوں سے مشینیں تبدیل نہیں ہوئی ہیں، کچھ چیزیں بدل چکی ہیں۔

علی نے کہا کہ تمام پن چکیاں کے پی محکمۂ آب پاشی کی ملکیت ہیں، جو انہیں سالانہ بنیادوں پر کامیاب بولی دہندگان کو ٹھیکے پر دیتا ہے۔

انہوں نے کہا، "جب میں نے کاروبار شروع کیا تھا، ہماری پن چکی کا سالانہ ٹھیکہ 12،000 روپے (120 ڈالر) تھا۔ اس سال میں نے ٹھیکے کے لیے 150،000 (1،500 ڈالر) بولی لگائی تھی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha