https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/06/19/feature-02
کھیل |

تشدد سے متاثرہ پاکستانیوں کا کرکٹ میں تاریخی فتح کا جشن

جاوید خان

اتوار (18 جون) کو پاکستان بھر میں کرکٹ شائقین نے گلیوں میں رقص کرکے، ڈھول پیٹ کر اور آتش بازی کر کے انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل (آئی سی سی) چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف قومی ٹیم کی فتح کا جشن منایا۔

پشاور — اتوار (18 جون) کو پاکستانی لندن میں ہونے والی انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل (آئی سی سی) چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف قومی ٹیم کی فتح کا مسلسل جشن منا رہے ہیں۔

کرکٹ شائقین نے پاکستان بھر میں گلیوں میں رقص کرکے، ڈھول پیٹ کر اور آتش بازی کر کے جشن منایا۔

کرکٹ کے ایک محوِ رقص شائق اور مقامی کلب کرکٹر طارق خان نے پشاور میں پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ بالکل عیدالفطر سے قبل عید جیسا احساس ہے۔“

image

18 جون کو کرکٹ کے پاکستانی شائقین انٹرنیشنل کرکٹ چیمپیئن شپ (آئی سی سی) چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ پاکستان نے لندن میں دفاعی چیمپیئن کو 180 رنز سے شکست دے کر چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی۔ [عارف علی/اے ایف پی]

image

18 جون کو ضلع مردان میں مقامی افراد پاکستانی کرکٹر فرخ زمان (باریش) کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ زمان نے پاکستان کے 338 میں سے 114 رنز بنائے اور انہیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ [جاوید خان]

پشاور کی رہائشی اور کرکٹ شائق افشین خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”خطہ میں سیاسی رقابتوں اور تشدد کی خشک خبروں کے دوران یہ پاکستان کے لیے ایک اشد ضروری فتح تھی۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی یقین بخش فتح ٹیم کا عزم بلند کرے گی، جو کہ ایک طویل عرصہ سے بہتر کارکردگی نہیں دکھا پا رہی تھی۔

اتوار کی فتح سے قبل آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹس میں پاکستان کا بھارت کے خلاف سات مسلسل شکستوں سمیت 2-13 کا ریکارڈ تھا۔

پاکستان کی فتح کے فوراً بعد کرکٹ شائقین پشاور اور ملک کے دیگر علاقوں میں جمع ہو گئے اور مٹھائیاں تقسیم کیں اور پاکستانی پرچم لہرائے۔

ہرجانب مبارکباد

وزیرِ اعظم میاں محمّد نواز شریف نے ایک بیان میں کہا، ”جس نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ آج کیا گیا، اس پر ٹیم کے کھلاڑی اور انتظامیہ قوم کے ازحد تشکر اور ستائش کے مستحق ہیں۔“

بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹیم نے تمام تر قوم کو رمضان کے ماہِ مقدس میں مسرت کا ایک شاندار موقع فراہم کیا ہے۔

صدر ممنون حسین نے بھی کرکٹ ٹیم کی تاریخی فتح پر اسے اور قوم کو مبارک باد دی۔ صدر نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سخت محنت، جذبہ اور مصمّم ارادے نے شاندار کامیابی کی راہ ہموار کی۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے پاکستانی ٹیم کے لیے عمرہ کے دورہ کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا، ”کوئی چیز اجتماعی کوشش کو شکست نہیں دے سکتی؛ پاکستان ہر خدشہ کے خلاف ایک ٹیم ہے۔“

گورنر سندھ زبیرعمر نے کہا کہ وہ فتح یاب ٹیم کی کراچی ہوائی اڈے آمد پر بذاتِ خود انہیں لینے جائیں گے۔

سابق کرکٹر وسیم اکرم نے ٹویٹ کیا، ”پاکستان نے فاتحین کی طرح کھیلا اور اب وہ عالمی چیمپیئن ہیں۔ آج کی رات سبز اور سفید لباس والے ہیروز کی ہے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”واہ واہ واہ سبز ٹیم کی جانب سے ناقابلِ یقین کارکردگی۔ یہ 1992 کے عالمی کپ میں فتح کی بازگشت محسوس ہوتی ہے۔“

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) جماعت کے سربراہ عمران خان، جنہوں نے 1992 میں عالمی کپ کی فاتح پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی کہا، ”فخر زمان کے خام ہنر کو متحرک دیکھنا حیرت انگیز تھا۔“

انہوں نے کہا، ”ٹیم پاکستان کو ان کی شاندار کارکردگی پر مبارک باد۔“

گزشتہ کئی برسوں میں پاکستانی کرکٹ ٹیم درجہ بندی میں نیچے سے نیچے جا رہی تھی۔ اس ٹورنامنٹ سے قبل یہ آٹھویں درجہ پر تھی۔ اتوار کی فتح کے بعد پاکستانی ٹیم چھٹے درجہ پر آ گئی۔

دن بھر ٹیلی ویژن چینلز نے جوشیلے حریفین کے مابین مقابلہ کی براہِ راست کوریج دکھائی۔ متعدد شائقین نے گروہوں کی صورت میں حجروں، ریستورانوں، دفاتر اور بازاروں میں دیکھا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی عمیر محمّدزئی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ابتدا میں پاکستان نے جدوجہد کی لیکن بڑی ٹیموں اور یہاں تک کہ فائنل میں بھارت کی مضبوط ٹیم کو شکست دینے کے بعد فاتح ٹھہرا۔“

انہوں نے کہا پوری ٹیم عزم کے ساتھ کھیلی جس کا نتیجہ فتح کی صورت میں آیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha