https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/04/21/feature-01
| سلامتی

قاری یاسین کی ہلاک دہشت گرد حلقوں کے لیے ایک 'بڑا دھچکا'

از محمد اہل

image

ایک خودکش بم دھماکے میں ہوٹل کی تباہی کے دو روز بعد، 22 ستمبر 2008 کو پاکستانی پولیس کا ایک اہلکار اسلام آباد میں میریئیٹ ہوٹل کے سامنے بم دھماکے سے تباہ ہونے والی ایک گاڑی کے ڈھانچے کے پاس کھڑا ہے۔ قاری یاسین پر اس دھماکے اور دیگر کئی حملوں کا منصوبہ ساز ہونے کا الزام ہے۔ [پیڈرو اگارتیپیڈرو/اے ایف پی]

پشاور -- دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے رہنماء قاری یاسین کی ہلاکت پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں جانب دہشت گردوں کے مورال کو ایک بڑا دھچکا ہے۔

افغان حکام نے 25 مارچ کو تصدیق کی تھی کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ منسلک ایک سینیئر دہشت گرد رہنماء، قاری یاسین 19 مارچ کو صوبہ پکتیکا میں ایک امریکی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

اس کی ہلاکت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا ہے کیونکہ یاسین پاکستان اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں، نیز القاعدہ نیٹ ورک میں ایک جانا مانا رہنماء تھا۔

image

کئی برس پہلے ایک تقریب میں قاری یاسین کی تقریر کا ویڈیو سکرین شارٹ۔

یاسین، جو کہ استاد اسلم سمیت کئی ناموں سے مشہور تھا، 20 ستمبر 2008 میں اسلام آباد میں میریئیٹ ہوٹل پر ہونے والے بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کرنے کا ملزم تھا جن میں 50 افراد جاں بحق اور کم از کم 266 زخمی ہوئے تھے۔

وہ 3 مارچ 2009 کو، اس بس پر حملے کا بھی ذمہ دار تھا جو لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو لے جا رہی تھی۔ چھ پاکستانی پولیس اہلکار اور دو عام شہری جاں بحق ہو گئے تھے اور ٹیم کے چھ کھلاڑی زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کی "مطلوب ترین افراد" کی فہرستوں کے مطابق، یاسین سنہ 2003 میں سابق صدر پرویز مشرف اور سنہ 2004 میں سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز کو قتل کرنے کی ناکام کوششوں کا پشت پناہ بھی تھا۔

فضائی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان میں امریکی وزیرِ دفاع جم میٹس نے کہا، "قاری یاسین کی ہلاکت ایک ثبوت ہے کہ وہ دہشت گرد جو اسلام کو بدنام کرتے ہیں اور دانستہ طور پر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں انصاف سے بچ نہیں سکیں گے۔"

انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں اضافہ

پاکستان میں افغانی سفیر عمر زخیلوال نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اب، جبکہ دہشت گرد گروہ مدافعانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں، پاکستان اور افغانستان پر لازم ہے کہ سرحد کے دونوں جانب دہشت گردوں کے مزید خاتمے کے لیے کوششوں میں اضافہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ یاسین اور دیگر بہت سے اعلیٰ سطحی دہشت گردوں - جیسے کہ "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے رہنماء حافظ سعید خان اور ٹی ٹی پی کے رہنماء عمر نارے، جو کہ دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کا منصوبہ ساز تھا، اور دونوں کو ہی جولائی 2016 میں صوبہ ننگرہار، افغانستان میں ہلاک کر دیا گیا تھا -- کا خاتمہ معلومات کے تبادلے اور مشترکہ فوجی کوششوں کے مؤثر ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

عسکریت پسندی پاکستان اور افغانستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور دونوں ممالک کو اس سے چھٹکارے کے لیے ہاتھ ملانے چاہیئیں کا اضافہ کرتے ہوئے، زخیلوال نے کہا، "یہ افغانستان کی سرزمین سے تمام اقسام کے دہشت گردوں کو ہر قیمت پر نکالنے کے ہمارے عزم اور عہد کا اظہار ہے۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان اور افغانستان کو چاہیئے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ روپوش دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے انٹیلیجنس نیٹ ورک کو بہتر بنائیں۔"

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے سابق سیکریٹری دفاع، بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ یاسین، جو کہ 2 ملین روپے (19،100 ڈالر) کی انعامی رقم کے ساتھ پاکستان کو مطلوب تھا، کی ہلاک اس کے ہمدردوں اور دہشت گرد حلقوں جن کے ساتھ وہ منسلک تھا، کے لیے کمر توڑنے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ اہم تھا اور اب دیگر اعلیٰ سطحی اہداف جیسے کہ ٹی ٹی پی کے رہنماء ملا فضل اللہ لشکرِ اسلام کے کمانڈر منگل باغ کو ختم کرنے کے لیے مزید کوششیں کی جانی چاہیئیں کیونکہ اس سے "دہشت گرد نیٹ ورکس کے اعصابی نظام پر چوٹ لگے گی۔"

دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک 'بڑا دھچکا'

یونیورسٹی آف پشاور میں پاک افغان تعلقات کے ماہر، پروفیسر حسین شہید سہروردی نے کہا کہ جب بھی ایک بڑا ہدف مارا جاتا ہے، دہشت گرد نیٹ ورکس کو ہونے والا نقصان اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہو سکتا ہے کہ ہم یہ کہنے کے قابل نہ ہوں کہ دہشت گردی کا خطرہ ختم ہو گیا ہے، لیکن جب ان کا کوئی قیمتی بندہ مرتا ہے تو یہ نیٹ ورک کے کمانڈر اینڈ کنٹرول کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "قاری یاسین کی ہلاکت بھی ایک بڑا کارنامہ ہے اور جہاں تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے تو یہ ایک عظیم کامیابی ہے۔"

سہروردی نے کہا کہ یاسین راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹرز پر حملوں، انٹر سروسز انٹیلیجنس کے دفاتر پر حملوں، نیز پاکستان کی دیگر اہم تنصیبات اور رہنماؤں پر کئی حملوں میں ملوث تھا، "اس لیے اس کی موت فوج کے لیے مورال بڑھانے کا ذریعہ ہے۔"

پشاور کے مقامی ایک قبائلی صحافی ناصر داور نے کہا، "قاری یاسین بڑے حملوں کے لیے مرکزی منصوبہ ساز نیز نوجوان رنگروٹوں کے لیے ایک تحریک دہ شخصیت تھا، اس لیے دہشت گرد نیٹ ورکس کو اس کے بغیر بہت نقصان ہو گا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ یاسین کی ہلاکت "ٹی ٹی پی اور پنجابی طالبان جن کے ساتھ وہ ایک طویل عرصے سے منسلک تھا، کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔"

ایشین ٹریبیون کی ایک صحافی، فرزانہ شاہ نے کہا، "قاری یاسین اہم تھا کیونکہ اس کا علاقے پر بہت زیادہ تسلط تھا اور اس کے القاعدہ نیز تمام دہشت گرد گروہوں کے ابھرتے ہوئے نئے گٹھ جوڑ کے ساتھ قریبی روابط تھے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اس کے افغان طالبان نیز دیگر غیر ملکی لڑاکوں کے ساتھ بھی اچھے روابط تھے، اس لیے یہ ہر طرح سے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔"

انہوں نے کہا، "قطع نظر اس سے کہ کتنا بڑا ہدف مارا جاتا ہے اور کہاں مارا جاتا ہے، اہم یہ ہے کہ انہیں مسلسل ہدف بنایا جائے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کو دوبارہ گروہ بندی کرنے اور دوبارہ متحد ہونے سے روکا جائے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
11
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

اسے کتے پاکستان کے لیے خطرہ ان کتوں کا مرنہ پاکستان کی بڑی کامیابی ھے

جواب

ES TARH KE ATTKE KRNE MN PAKISTAN KA NUQSAN HITA HN Q KY RAW NY AFGHAN GOVT ANDR PUSHER RAKHA HN....

جواب