https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/04/05/feature-02
| دہشتگردی

طالبان خودکش حملہ آور کا لاہور میں مردم شماری ٹیم پر حملہ

اے پی ایف اور سٹاف

image

5 اپریل کو لاہور میں پاکستانی سیکیورٹی اہلکار اسی روز مردم شماری ٹیم کو نشانہ بنانے والے بم حملے کے جائے وقوعہ کو گھیرے ہوئے ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان کے خودکش حملے میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ [عارف علی/اے ایف پی]

لاہور — حکام کا کہنا ہے کہ بدھ (5 اپریل) کو ایک مردم شماری ٹیم کو ہدف بنانے والے ایک طالبان خودکش دھماکہ میں کم از کم 5 افراد جاںبحق اور 18 تک زخمی ہو گئے۔

شاہدین نے بیان کیا کہ صبح 8 بجے کے کچھ ہی دیر بعد وہ دھماکے سے زمین پر جا لگے، اس کے بعد خون اور لاشوں اور چلّانے کی آواز کا ”وحشت ناک منظر“ تھا۔

بیدیاں روڈ پر ہونے والے اس حملے، جس سے متعلق فوج نے تصدیق کی کہ وہ خودکش حملہ تھا، کی ذمہ داری فوری طور پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کر لی۔ ٹی ٹی پی نے کہا کہ انہوں نے یہ حملہ سیکیورٹی فورسز سے بدلہ لینے کے لیے کیا۔

ایک طالبِ علم، فرحان اسلم نے کہا کہ وہ اور اس کے والد موٹرسائیکل سے گر گئے۔

اس نے ہسپتال سے اے ایف پی کو بتایا، ”میں نے موقع پر دو لاشیں اور دیگر کو روتے دیکھا۔“

پنجاب کے وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر نے تصدیق کی کہ پانچ افراد جانبحق ہوئے۔ ایک سیکیورٹی ذریعہ نے اے اپف پی کو بتایا کہ ان میں سے تین فوجی اور دو عام شہری تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ کم از کم 18 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک بچہ بھی تھا، جس کی حالت نازک تھی۔

پاکستان ادارۂ شماریات نے تصدیق کی کہ بمبار نے عسکری اہلکاروں کو لے جانے والی ایک ویگن کو نشانہ بنایا جو مردم شماری کرنے والی ایک ٹیم کا جزو تھے۔

فوج اور سیکیورٹی فورسز کے تحفظ میں مردم شماری کرنے والوں کی ٹیمیں 1998 کے بعد سے اب تک پاکستان کی پہلی مردم شماری کر رہے ہیں، جوایک بہت بڑا اور ذمہ داری کا کام ہے جو کہ پارلیمانی انتخابات سے ایک سال قبل ملک کا نیا سیاسی نقشہ کھینچ سکتی ہے۔

لاہور کے عہدیدار عبداللہ سمبل نے کہا، ”مردم شماری ایک قومی فریضہ ہے، اور ہم اس کام کو پورا کریں گے۔ سیکیورٹی کی کوئی کمی نہیں تھی، لیکن آپ جانتے ہیں کہ خودکش حملوں سے نمٹنا کس قدر مشکل ہے۔“

سربراہ مردم شماری کمشنر آصف باجوہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مردم شماری بلا روک ٹوک جاری رہے گی اور بروقت مکمل ہو گی۔

وسیع پیمانے پر مذمت

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اس حملہ کی مذمّت کی۔

وزیرِ اعظم میاں محمّد نواز شریف نے ان سب سے اظہارِ تعزیت کیا جنہوں نے اپنی زندگیاں کھو دیں اور عسکری اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا ”جنہیں قومی مردم شماری کے دوران اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ہدف بنایا گیا۔“

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ صوبائی حکومت کو تمام تر درکار معاونت فراہم کریں۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بیان میں کہا کہ مردم شماری کرنا ایک ” قومی فریضہ“ ہے۔

انہوں نے کہا، ”سول شمار کنندگان اور فوجیوں کی قیمتی جانوں کی قربانی بلا شبہ ایک عظیم قربانی ہے۔ یہ قربانیاں صرف ہمارے عزم کو مستحکم کرتی ہیں اور پوری قوم کے تعاون سے ہم اپنی دھرتی سے دہشتگردی کی بلا کا خاتمہ کر دیں گے۔“

صدر ممنون حسین نے کہا، ”ایسے بزدلانہ حملے دہشتگردی اور شدت پسندی کی بلا کی بیخ کنی کرنے کے ہمارے قومی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔“

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے حکام کو دھماکے سے متعلق ایک رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ معصوم افراد کے قتل کے ذمّہ داروں کو قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دہشتگردی کے خلاف اتحاد

پاکستانی شہریوں نے دہشتگردی اور شدت پسندی کی تمام صورتوں کے خلاف اتحاد کا اظہار کیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”عسکریت پسندوں کے خاتمہ کے لیے ۔۔۔ تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی جانی [چاہیئے]۔“

انہوں نے کہا، ”عسکریت پسند کبھی بھی انارکی پیدا کرنے کے اپنے ایجنڈا میں۔۔۔ پیش قدمی میں کامیاب نہیں ہوں گے کیوں کہ لوگوں کے سیکیورٹی فورسز پر حملے کرنے کی حمایت میں عسکریت پسندوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تمام توجیحات کو مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، ”عسکریت پسند اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے بے خبر لوگوں پر حملہ کرتے ہیں،“ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو خوف کے سامنے سرنگوں نہیں ہونا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم یک زبان ہو کر بموں اور خودکش حملوں کی مذمت کر رہی ہے کیوں کہ وہ فوج، پولیس اور نیم فوجی فورسز کے ارکان کو قتل کرتے ہیں، جو کہ دوسروں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے اپنی جانیں دیتے ہیں۔

فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے محمّد زبیر نے کہا کہ عسکریت پسند فوجیوں اور عام پاکستانیوں کے قتل کے لیے مذمّت کے سزاوار ہیں۔

انہوں نے پاکستان فاورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”مسلسل عسکریت پسندی سے فاٹا کے 8 ملین سے زائد رہائشیوں کے جان و مال تباہ ہوئے۔ ایک دہائی طویل شورش نے قبائلی علاقوں کے صحت و تعلیم کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں کوئی عسکریت پسندوں کی حمایت نہیں کرتا۔“

انہوں نے جون 2014 سے شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف فوج کی جارحانہ کاروائی کو حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب ”بے گھر ہونے والے ان افراد کے لیے امید کی ایک کرن بن چکا ہے جو اب عسکریت پسندوں کی بے دخلی کے بعد اپنے علاقوں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔“

جامعہ پشاور میں معاشرتی علوم کے ایک طالبِ علم محمد جنید مہمند نے ”عوام کے خلاف عسکریت پسندوں کی جانب سے دکھائی جانے والی سنگدلی“ کی مذمّت کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”[ضربِ عضب] کے بعد فاٹا سے عسکریت پسندوں کی شکست کے بعد اب وہ آسان اہداف کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کو تشدد پیدا کرنے والوں کے خلاف مہم کو تیز کرنا ہوگا تاکہ ایک ایسا پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں قانون کی عملداری کی حاکمیتِ اعلیٰ ہو۔“

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ فرمان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پوری قوم ایک نقطہ پر متحد ہے: کہ دہشتگردی کا مقابلہ ایک آہنی ہاتھ سے کیا جانا چاہیئے۔“

انہوں نے اس امّید کا اظہار کیا کہ پاکستان مکمل امن کے دور کی راہ پر گامزن ہے۔

انہوں نے کہا، ”بطورِ خاص صوبہ خیبر پختونخواہ نے دہشتگردی کے واقعات میں کمی لانے میں قابلِ ذکر پیش رفت کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے عوامی حمایت کے ساتھ بہادری سے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کیا ہے۔“

[پشاور سے اشفاق یوسفزئی نے اس رپورٹ کی تیاری میں مدد کی]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
5
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

خدا کے واسطے پاکستان کے عوام کے جذبات سے مت کھیلو، اپنی ویب سائٹ کی شہرت کے لئے تم پرانی خبروں کو اور افسوسناک واقعات کو ترویج دے رہے ہو، کیوں؟ تمھارے بچے نہیں ہیں؟ خاندان؟،محبت؟ تم کیوں پاکستان کا تشخص تباہ کر رہے اور لوگوں کا ذہنی سکون برباد کر رہے ہو؟ کیا تم اتنے زیادہ لالچی ہو؟ ہم لالچی کتے کے بارے میں سنتے ہیں لیکن آج مجھے پتہ چلا کہ انسان سرفہرست ہیں۔

جواب