https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/03/17/feature-01
دہشتگردی

کئی تہوں سے بنی سیکیورٹی اسلام آباد کو دہشت گردی سے محفوظ رکھ رہی ہے

از جاوید محمود

image

اسلام آباد کا ایک پولیس اہلکار منگل (14 مارچ) کو جناح ایوینیو پر ایک چیک پوسٹ پر۔ سخت سیکیورٹی نے اسلام آباد کو پاکستان کا محفوظ ترین شہر بنا دیا ہے۔ [جاوید محمود]

اسلام آباد -- اسلام آباد ایک قابلِ رشک ریکارڈ کو جاری رکھنے میں کوشاں ہے۔

پاکستانی دارالحکومت نے اپریل 2014، جب فروٹ منڈی میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں 24 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، کے بعد دہشت گردی سے پاک رہنے کے لیے سخت سیکیورٹی اور بہت سے دوسرے اقدامات استعمال کیے ہیں۔

اس کے بعد سے، پاکستان میں دیگر بہت سے مقامات کے برعکس، اسلام آباد دہشت گرد حملوں سے پاک رہا ہے۔

دفاعی ماہرین اسلام آباد کو محفوظ رکھنے کا سہرا دیگر خصوصیات کے علاوہ، کئی تہوں سے بنی سیکیورٹی جو معلومات اکٹھی کرنے اور پڑتالی چوکیاں قائم کرنے پر منحصر ہے، کے سر باندھتے ہیں۔

پاکستان کے دیگر بہت سے شہروں کی طرح ماضی میں اسلام آباد نے دہشت گرد حملوں میں ہونے والے قتلِ عام کے نقصانات کو سہا ہے۔

مثال کے طور پر ستمبر 2008 میں، میریٹ ہوٹل پر ایک ٹرک بم حملے میں 50 سے زائد جانیں گئی تھیں۔

دارالحکومت کو نشانہ بنانے سے قاصر رہنے والے دہشت گردوں نے آخرکار وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا)، سندھ، بلوچستان اور صوبہ پنجاب کے دیگر حصوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

ایک کثیر المحکمہ کوشش

ایک دفاعی تجزیہ کار اور اسلام آباد کے مقامی مرکز برائے تحقیقی و دفاعی مطالعات کے انتظامی ڈائریکٹر، امتیاز گل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پولیس، فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اسلام آباد کی سیکیورٹی کی نگرانی کرتے ہیں۔ انہوں نے شہر کو کسی بھی بڑی دہشت گردی سے محفوظ رکھا ہے۔"

آپریشن ضربِ عضب اور عسکریت پسندوں کے کمانڈ اور کنٹرول کے نظام کو تباہ کرنے والے دیگر آپریشنوں کو کریڈٹ دیتے ہوئے، گل نے کہا کہ ان دفاعی محکموں، جو سب مل کر کام کرتے ہیں، نے برسوں سے اسلام آباد کو دہشت گردی سے پاک رکھا ہے۔

فوج نے ضربِ عضب جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں شروع کیا تھا۔ یہ تاحال جاری ہے۔

یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ فوج باقاعدگی سے ان پناہ گاہوں کو نشانہ بناتی ہے جنہوں نے برسوں سے دہشت گردوں کو تحفظ دیا ہے، گل نے مزید کہا کہ ضربِ عضب کے بعد سے، "ہماری سیکیورٹی فورسز جارحانہ رہی ہیں اور دہشت گرد مدافعانہ رہے ہیں۔"

دہشت گردوں کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب انہوں نے فروری میں پورے ملک میں حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا۔ فوج نے 22 فروری کو آپریشن رد الفساد شروع کرتے ہوئے اس کا جواب دیا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، پورے ملک میں ہونے والے آپریشن میں ابھی تک 150 سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔

اقدامات کا ایک مرکب

ایک حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے مراحل پر ملزمان کو پکڑنے کے ساتھ ساتھ، سیکیورٹی فورسز انہیں کوشش کرنے سے بھی روکنے کے لیے کئی اقدامات پر انحصار کرتی ہیں۔

ایک دفاعی تجزیہ کار اور اسلام آباد کی مقامی فرم فلیش سیکیورٹی کے سی ای او، کرنل (ر) علی رضا میر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "نرم اور سخت اقدامات" کا ایک مرکب "گزشتہ دو برسوں میں اسلام آباد میں عسکریت پسندی کو کچلنے" میں کامیاب رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کیمرے دن رات مسلسل دارالحکومت کی سڑکوں کی نگرانی کرتے ہیں، جبکہ پولیس اور نیم فوجی رینجرز انہی سڑکوں پر گشت کرتے ہیں۔

علی رضا نے مزید کہا جبکہ سیکیورٹی فورسز چھاپے مار رہی ہیں اور دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہیں، سول سوسائٹی اور علماء دہشت گردوں کے پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو چکے ہیں۔

بہتری کے لیے تجاویز

سب جانتے ہیں کہ دارالحکومت تشہیر کے بھوکے دہشت گردوں کے لیے ایک بہترین ہدف ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے علی رضا جیسے مبصرین کا کہنا ہے کہ تاہم اسلام آباد کو اپنی کامیابی پر ہی قناعت نہیں کرنی چاہیئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز کو چاہیئے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی مخبری پر مبنی کارروائیوں میں شدت لائیں۔

اسلام آباد کے مقامی ادارہ برائے مطالعاتِ تنازعہ و دفاع، عبداللہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردی [اسلام آباد میں] سیکیورٹی کو تباہ کرنے کی مزید کوششیں کریں گے۔ دارالحکومت میں ایک دہشت گرد حملے کو پاکستان میں کسی بھی دوسری جگہ حملے کی نسبت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں زیادہ تشہیر ملے گی۔"

خان نے پولیس کی دہشت گردوں کے حربوں اور سماجی طرزِ عمل کو جاننے کے لیے تربیت کرنے کی ترغیب دی تاکہ وہ انہیں زیادہ مؤثر طریقے سے روک سکیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)