https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/02/14/feature-01
دہشتگردی |

پاکستان لاہور دھماکے کے متاثرین پر سوگوار، جوابات کا متلاشی

از آمنہ ناصر جمال اور اے ایف پی

image

ایک پاکستانی پولیس افسر 13 فروری کو لاہور میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کے متاثرین کی نعشوں کے پاس چوکس کھڑا ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑے جماعت الاحرار نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے، اس سے تین روز قبل اس نے پورے ملک میں سرکاری تنصیبات پر حملوں کے سلسلے کی دھمکی دی تھی۔ [ایس ٹی آر/ اے ایف پی]

لاہور -- منگل (14 فروری) کو پاکستانیوں نے لاہور میں طالبان کے ذمہ داری قبول کردہ بم دھماکے کے متاثرین کا سوگ منایا، جبکہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے اور شہر کے مکینوں نے اپنی حفاظت میں ناکام رہنے پر حکومت سے سخت احتجاج کیا ہے۔

سوموار (13 فروری) کو شہر کی ایک مرکزی شاہراہ، مال روڈ پر، ایک احتجاج کے دوران رش کے اوقات میں بم دھماکے کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔

ہنگامی کارروائیاں کرنے والے اہلکار احمد رضا نے اے ایف پی کو بتایا کہ کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں چھ پولیس افسران شامل ہیں، جبکہ 87 افراد زخمی ہوئے تھے۔

image

ایک پاکستانی پولیس اہلکار 13 فروری کو لاہور میں دھماکے کے مقام سے زخمیوں کو نکالنے کی کوششیں کرتے ہوئے۔ ہنگامی امدادی اہلکاروں کے مطابق، دھماکے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 87 زخمی ہوئے تھے۔ [عارف علی/اے ایف پی]

انہوں نے کہا کہ جانی نقصان بہت زیادہ ہو جانا تھا، لیکن دو گاڑیوں -- ایک ٹی وی خبروں کی وین اور احتجاجی مظاہرین کی ایک ویگن -- نے دھماکے کا زیادہ اثر جذب کر لیا۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑے جماعت الاحرار نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو کہ اس کی جانب سے اس دھمکی کے تین روز بعد کیا گیا تھا کہ وہ پورے ملک میں سرکاری تنصیبات پر حملے کرے گی۔

تنظیم کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ سوموار کے روز ہونے والا دھماکہ "محض ایک شروعات" تھا۔

خون میں لت پت اور جواب کے متلاشی

دھماکے کے تناظر میں لاہور کے باشندوں نے دہشت گردوں اور حکومت پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

عمر کے 30 ویں عشرے میں لاہور کے ایک مکین اکبر علی، جو حملے میں زخمی ہوئے اور سر گنگارام ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، نے کہا، "میں نے اپنے دوست کو خون میں لت پت، اور بہت سے دوسرے زخمی افراد کو دیکھا اور وہاں لاشیں بکھری ہوئی دیکھیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میرا دوست جاں بحق ہو گیا۔ میں زندہ ہوں۔ دہشت گرد مسلمان نہیں ہیں۔ کوئی مسلمان اتنی بڑی تباہی کیسے کر سکتا ہے؟"

لاہور کے ایک اور مکین، فضل گل، دھماکے کے بعد اپنے دوست جو مظاہرے میں شریک تھا، کو مقامی ہسپتالوں میں تلاش کر رہے تھے۔

مایوسی سے روتے ہوئے، بدترین خدشات میں گھرے، انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں تمام ہسپتالوں میں گیا ہوں لیکن اسے تلاش نہیں کر سکا۔"

ندیم اختر نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت سے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "ان حملوں میں ہمارے بچے اور لوگ مارے جا رہے ہیں۔"

بمبار کا ہدف پولیس، مظاہرین تھے

دھماکہ شام 6 بج کر 15 منٹ پر اس وقت ہوا، جب تقریباً 400 افراد -- جن میں زیادہ تر کیمسٹ اور ادویات ساز ادارے تھے -- جو کہ طب کے شعبے پر مزید پابندیاں لگانے کے صوبائی حکومت کے منصوبوں پر احتجاج کرنے کے لیے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی عمارت کے سامنے پہنچے تھے۔

پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار امین وینس نے اے پی کو بتایا کہ حملہ "ایک خودکش دھماکہ لگتا ہے"، انہوں نے مزید کہا کہ اس کا نشانہ بظاہر پولیس تھی جو کہ احتجاجی مظاہرے کو منظم بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس مشتاق احمد سکھیرا نے تصدیق کی کہ چھ پولیس اہلکار، جن میں تین اعلیٰ افسران تھے، جاں بحق ہونے والوں میں شامل تھے۔

سکھیرا نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ چیف ٹریفک افسر سید احمد مبین، سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آپریشنز زاہد نواز گوندل اور پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پرویز بٹ جاں بحق ہوئے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق، مبین احتجاجی مظاہرین کو منا رہے تھے کہ وہ مظاہرہ ختم کر دیں اور علاقے کو صاف کر دیں۔

تفتیش کرنے والوں کو جسمانی اعضاء ملے جن کے بارے میں یہ یقین کیا گیا ہے کہ وہ خودکش بمبار کے ہیں، جس نے ایک بارودی جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔ فارنسک ٹیم نے اس کی شناخت کی تصدیق کے لیے انگلیوں کے نشانات جمع کیے۔

مزید برآں، شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے دھماکے سے کچھ ہی دیر پہلے تین مشتبہ مجرموں کو روکنے کی کوشش کی تھی جو مبین تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مشتبہ افراد ہجوم میں غائب ہو گئے، لیکن پولیس نے ایک کا تعاقب کیا اور اسے گرفتار کر لیا۔

دہشت گردی کی دھمکیوں سے چوکسی میں اضافہ

سی ٹی ڈی اہلکاروں کے مطابق، دھماکے سے تین روز قبل، ٹی ٹی پی نے اعلان کیا تھا کہ وہ سرکاری تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ شروع کرے گی۔

سی ٹی ڈی کے سربراہ محمد اقبال نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "شہر کی انتظامیہ کو بھی گزشتہ مہینے سے ہی [ممکنہ] خونریز حملوں کے بارے میں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں"۔

انہوں نے کہا کہ سوموار کو ہونے والا حملہ"دہشت گردوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ طالبان اور اس کے اتحادی فوج اور دفاعی ایجنسیوں کے حملوں کا دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔"

قومی محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (نیکٹا) نے پنجاب حکومت کو حالیہ ہفتوں میں لاہور میں دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں دو مواقع پر خبردار کیا تھا۔

23 جنوری کو ارسال کردہ ایک مراسلے میں، نیکٹا نے شہر میں بارودی مواد لائے جانے سے خبردار کیا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی دفاعی حکام سے ملاقات کی تھی، اور 24 جنوری کو، پنجاب پولیس نے خطرے کی چھان بین کے لیے لاہور کی مرکزی شاہراہوں کو دو گھنٹے کے لیے بند کر دیا تھا۔

مزید برآں، پاکستان فارورڈ کی نظروں میں آنے والی ایک خفیہ یادداشت جو 7 فروری کو پنجاب کے سیکریٹری داخلہ کو بھیجی گئی تھی، میں نیکٹا نے متعلقہ حکام کو تمام حساس تنصیبات، بشمول اہم عمارات، ہسپتالوں اور اسکولوں کی حفاظت میں اضافہ کرنے کی ترغیب دی تھی۔

یادداشت میں کہا گیا تھا، "ایک نامعلوم دہشت گرد گروہ نے لاہور میں ایک دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کی ہے۔"

انسدادی اقدامات

ایک ٹیلی فون انٹرویو میں پنجاب کے وزیرِ قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "خطرے کی اطلاع ملنے کے بعد زیادہ سے زیادہ تیاریاں کی گئی تھیں۔"

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے پورے صوبے میں کالعدم تنظیموں کے ارکان کے خلاف مخبری پر مبنی مکمل کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے کہا، "ہمیں معلوم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پورے پاکستان میں پھیل چکی ہے، لیکن ہم امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پولیس کو ہدایات دی گئی ہیں کہ مشتبہ افراد اور کالعدم مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے تاکہ سماج دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو بے نقاب کیا جا سکے۔"

تاہم، رانا نے کہا کہ عسکریت پسند پنجاب کو غیر مستحکم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا، "دہشت گرد اب خوف اور عدم استحکام پھیلانے کے لیے پُرہجوم عوامی مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کے مکروہ مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے، حکومت نے [۔۔۔] اہم تنصیبات کی حفاظت میں اضافہ کر دیا ہے۔"

جبکہ دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے، رانا نے اعتماد کا اظہار کیا کہ امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے۔

انہوں نے کہا، "حکومت کو پختہ یقین ہے کہ صوبے میں دہشت گرد نیٹ ورک توڑ دیئے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے دہشت گرد نیٹ ورکس کو دوبارہ خود کو قائم کرنے سے روکنے کے لیے چوکس ہیں۔"

'مایوسی کا ایک فعل'

لاہور کے مقامی ایک پولیٹیکل سائنٹسٹ اور عسکری تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے کہا کہ لاہور حملہ "ٹی ٹی پی کی جانب سے ایک مایوسی کا فعل" ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سیکیورٹی فورسز نے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو [قبائلی علاقہ جات سے] نکال دیا ہے اور اب وہ جس دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اس کو کم کرنے کے لیے اور اپنے مضبوط ٹھکانوں کے تباہ ہو جانے کے بعد امن و استحکام میں خلل ڈالنے کے لیے ملک کے بڑے شہروں میں جنگ کو منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

لاہور میں 2016 کے دوران پاکستان میں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک حملہ ہوا تھا -- جماعت الاحرار کے ایک خودکش بمبار نے گزشتہ ایسٹر کے موقع پر ایک پارک میں حملہ کیا تھا جس میں بہت سے بچوں سمیت 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ لیکن حالیہ برسوں میں شہر میں ایسے واقعات خال خال ہی ہوئے ہیں۔

ایک بیان میں وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا، "دہشت گردی ہمارے لیے ایک انوکھی چیز نہیں ہے۔ ہماری کہانی اس کی گرفت کے خلاف ایک مسلسل جدوجہد، اور پاکستان کی روح کے لیے ایک لڑائی سے عبارت رہی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم نہیں رکیں گے تاوقتیکہ ہم خود کو ایک آزاد اور محفوظ قوم کہہ سکیں؛ یہ ایک وعدہ ہے۔"

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حملے کی مذمت کی اور مقامی فوجی کمانڈروں اور انٹیلیجنس اداروں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ سول انتظامیہ کو تمام ضروری معاونت مہیا کریں اور اس "مکروہ فعل" کے ذمہ داروں کو گرفتار کریں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

اوہ نہیں

جواب