https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/01/17/feature-02
| سلامتی

پنجاب میں مخبری پر مبنی کارروائیوں میں کامیابی نمایاں

از جاوید محمود

image

لاہور میں پنجاب پولیس دسمبر میں ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی کی مقامی عدالت میں پیش کرتے ہوئے۔ سنہ 2016 میں پولیس نے پنجاب میں ہزاروں مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا۔ [تصویر بشکریہ جاوید محمود]

اسلام آباد -- مبصرین نے کہا ہے کہ سنہ 2016 میں پاکستان کے مخبری پر مبنی کارروائیوں (آئی بی اوز) پر انحصار نے عسکریت پسندی پر قابو پانے، عسکریت پسندوں کو شدید دھچکا لگانے میں مدد کی ہے۔

اسلام آباد کے مقامی پاکستانی ادارہ برائے مطالعاتِ تنازعات و دفاع (پی آئی سی ایس ایس) کے انتظامی ڈائریکٹر عبداللہ خان نے کہا، "[سنہ 2016 میں] ملک کے مختلف حصوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف مخبری پر مبنی کُل 25،000 کارروائیاں کی گئیں اور مخبری پر مبنی سب سے زیادہ کارروائیاں صوبہ پنجاب میں ہوئیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے صرف پنجاب ہی میں مخبری پر مبنی 11،000 سے زائد کارروائیاں کیں۔

image

سنہ 2016 کے آخر میں پنجاب پولیس کی جانب سے اس سال پورے صوبے میں مخبری کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں (آئی بی اوز) میں عسکریت پسندوں اور مجرموں سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی لاہور میں نمائش۔ سنہ 2016 میں سیکیورٹی فورسز نے پنجاب میں مخبری کی بنیاد پر 11،000 سے زائد کارروائیاں کیں۔ [تصویر بشکریہ جاوید محمود]

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی)، ملٹری انٹیلیجنس اور پنجاب پولیس کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے یہ کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں ہزاروں عسکریت پسند گرفتار ہوئے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔

آپریشن ضربِ عضب، جو فوج نے جون 2014 میں شروع کیا تھا، کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "مخبری پر مبنی کارروائیاں ان علاقوں میں کی جا رہی ہیں جہاں فوجی آپریشن نہیں کیا جا رہا۔"

خان نے کہا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں سنہ 2016 میں صوبہ پنجاب میں دہشت گرد حملوں میں 70 فیصد کمی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 20 فیصد کمی بتائی گئی۔

امن و امان کی مجموعی صورتحال میں بہتری

اسلام آباد میں مرکز برائے تحقیق و دفاعی مطالعات (سی آر ایس ایس) کے انتظامی ڈائریکٹر، امتیاز گل نے کہا، "[آئی بی اوز نے] اچھے نتائج دکھائے ہیں ۔۔۔ اور عسکریت پسندی کی بیخ کنی کے لیے اس حکمتِ عملی کی رفتار میں اضافہ ہونا چاہیئے۔"

آئی بی اوز امن کے قیام کے لیے پاکستان کی پیشگی فعالیت کی عکاسی کرتی ہیں، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ مخبری پر مبنی کارروائیاں سیکیورٹی فورسز کے لیے، اضافی نفری پر بھروسہ کیے بغیر عسکریت پسندوں کو پکڑنے کے لیے ایک اچھا انتخاب ہیں۔

انہوں نے کہا، "پوری دنیا میں، مخبری پر مبنی کارروائیوں کو فساد اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کو گرفتار کرنے کے لیے بہترین حکمتِ عملی تصور کیا جاتا ہے۔"

پنجاب پولیس کے ترجمان نایاب حیدر نے لاہور سے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ درست ہے کہ 11،000 سے زائد مخبری پر مبنی کارروائیاں پنجاب میں کی گئی ہیں، اور نتیجتاً، سنہ 2015 کے مقابلے میں سنہ 2016 میں پنجاب میں دہشت گردی سے متعلقہ واقعات میں 70 فیصد کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا، "سنہ 2015 کے مقابلے میں سنہ 2016 میں صوبہ پنجاب میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بہت بہتر ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں 65 فیصد کمی ہوئی، جبکہ مسلح ڈکیتیوں میں 60 فیصد کمی واقع ہوئی۔

پنجاب پولیس کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ برس جنوری اور نومبر کے درمیان پولیس نے 33،968 مجرموں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضے سے غیر قانونی ہتھیار برآمد کیے تھے۔

اس عرصے کے دوران، پولیس نے 107،378 اشتہاری مجرموں (مطلوب مفروروں) اور روپوش افراد کو گرفتار تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مجرم عناصر کے درمیان 263 مقابلوں میں، 24 پولیس افسران جاں بحق ہوئے اور 312 مجرم مارے گئے۔

سابق جنگجوؤں کے لیے عام معافی

پی آئی سی ایس ایس کے انتظامی ڈائریکٹر، خان نے کہا، جبکہ یہ اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں، حکومت پر لازم ہے کہ عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا، "[عسکری اور دیگر دفاعی اداروں کی کارروائیوں میں] قوت کا استعمال انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے کافی نہیں ہے۔ حکومت کو دلیرانہ اقدامات کرنا ہوں گے جیسے کہ ایسے جنگجوؤں جو عسکریت پسندی ترک کرنے پر رضامند ہیں، کے لیے عام معافی اور بہبودی پیکیج کا اعلان۔"

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں، صوبائی حکومت نے ایسے سینکڑوں باغیوں کو معافی دی جنہوں نے گزشتہ چند برسوں میں سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور اس حکمتِ عملی کو دیگر صوبوں تک وسیع ہونا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات میں قائدین یہ ہی پالیسی اپناتے ہیں، تو کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو مزید دھچکے لگیں گے کیونکہ ان کے ہزاروں ارکان فساد کو ترک کر سکتے ہیں اور پُرامن شہری بن سکتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
22
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

جان کر خوشی ہوئی

جواب