دہشتگردی

اے پی ایس کے قتلِ عام کے دو سال کے بعد پاکستان کا دہشت گردی کو شکست دینے کا عزم

جاوید خان

کے پی کی اسمبلی کے اسپیکر اسد قاضی (بائیں سے دوسرے) اور صوبائی کابینہ کے ارکان اے پی ایس کے قتلِ عام کی دوسری برسی کے موقع پر، سولہ دسمبر کو پشاور میں موم بتیاں جلا رہے ہیں۔ ]جاوید خان[

کے پی کی اسمبلی کے اسپیکر اسد قاضی (بائیں سے دوسرے) اور صوبائی کابینہ کے ارکان اے پی ایس کے قتلِ عام کی دوسری برسی کے موقع پر، سولہ دسمبر کو پشاور میں موم بتیاں جلا رہے ہیں۔ ]جاوید خان[

پشاور - ملک بھر میں پاکستانی شہری پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دو سال پہلے ہونے والے قتل عام میں ہلاک ہونے والوں کو یاد کر رہے ہیں۔ اس واقعہ نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

ملک بھر میں سولہ دسمبر کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بربریت کی دوسری برسی کو ہزاروں لوگوں نے منایا اور اے پی ایس کے سوگوار والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے بچوں کی قربانی کو پاکستان میں امن و تعلیم کے لیے ایک فاونڈیشن کی شکل دے۔

پشاور، اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں موم بتیاں جلانے اور دوسری یادگاری تقریبات میں شرکت کرنے والوں نے ان تقریبا ڈیڑھ سو ہلاک ہونے والوں کو یاد کیا جن میں ایک سو تیس سے زیادہ بچے شامل تھے۔

شہدا کے والدین اور دیگر رشتہ داروں نے ان کی قبروں پر حاضری دی اور قرآن پاک کی تلاوت کی۔

پاکستانی فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سولہ دسمبر کو پشاور میں 2014 کے اے پی ایس قتل عام میں بچ جانے والے سے بغل گیر ہو رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ آئی ایس پی آر[

پاکستانی فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سولہ دسمبر کو پشاور میں 2014 کے اے پی ایس قتل عام میں بچ جانے والے سے بغل گیر ہو رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ آئی ایس پی آر[

سول سوسائٹی کے ارکان نے پشاور پریس کلب کے باہر دھرنا دیا تاکہ عالمی تعلیم اور اسکولوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا جا سکے۔

پشاور بھر میں شہدا کی بڑی بڑی تصاویر لگائی گئی ہیں۔

ہمیشہ موجود رہنے والا المیہ

سولہ دسمبر 2014 ایک ایسی دہشت رہے گا جو کبھی نہیں جائے گی۔

شہید ہونے والے دسویں جماعت کے طالب علم کے والد طفیل خٹک نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پچھلے دو سالوں میں ہم شیرخان کو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں بھول سکے ہیں"۔

ایک اور بیٹا اس حملے میں زخمی ہوا تھا اور اسے صدمے کا سامنا ہے۔

غمزدہ خاندان نے تعلیم کے فروغ اور ملک بھر میں اسکولوں کے بچوں کو محفوظ ماحول مہیا کرنے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔

خٹک نے کہا کہ "وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ہمارے شہید ہونے والے بچوں کی تعظیم کرنے کا بہترین طریقہ دہشت گردانہ حملوں کا خاتمہ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانے میں ہے کہ اے پی ایس جیسے حملے کے خطرے کے بغیر ہر بچہ تعلیم حاصل کر سکے"۔

انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والے بچوں کے والدین اس سانحے سے کوئی ذاتی مفاد حاصل کرنا نہیں چاہتے ہیں کیونکہ کوئی بھی چیز ان کے بچوں کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اس کی بجائے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت شہدا کو قومی ہیروز کے طور پر یاد رکھے۔

خٹک اور شہید ہونے والے بچوں کے دوسرے رشتہ داروں نے پہلے ہی اپنے آبائی ضلع نوشہرہ میں سرکاری طور پر چلنے والے ہائی اسکول کو تعلیم کے فروغ کے لیے ایک پلیٹ فارم بنا لیا ہے۔

شہدا کے خاندان اس وقت اسکول میں داخل نہ ہونے والے بچوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسکول جائیں۔ اسی دوران، وہ تمام والدین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلائیں۔

قربانی، غم

دسویں جماعت کے مرحوم طالب علم شیر کے چھوٹے بھائی احمد شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "جب میں حالات کو معمول پر آتا اور لوگوں کو بازاروں اور عوامی جگہوں پر مصروف دیکھتا ہوں تو مجھے فخر محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے شہید ہونے والے ہیروز کی قربانی کی وجہ سے ہے "۔

اے پی ایس کے حملے کے بعد، پاکستانی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قومی ایکشن پلان (این اے پی) کا آغاز کیا تھا جو کہ ابھی تک جاری ہے۔ این اے پی نے فوج کی طرف سے اڑھائی سالوں سے شمالی وزیرستان میں چلائی جانے والی مہم کے ساتھ مل کر، سینکڑوں عسکریت پسندوں کو ہلاک اور ان کے ٹھکانوں سے نکال باہر کیا ہے۔

احمد اپنے بھائی کے علاوہ اپنے ان دوستوں کو بھی یاد کرتا ہے جو ہلاک ہوئے۔ احمد اے پی ایس آڈیٹوریم، جہاں زیادہ تر بچوں کو ہلاک کیا گیا، میں بچ جانے والے چند طلباء میں سے ایک ہے۔

اس نے اس دن کے قتل عام کے بارے میں کہا کہ "میں اس منظر کو یاد کرنا نہیں چاہتا"۔

اے پی ایس کے بہت سے والدین ابھی تک اپنے دکھ سے مختلف طریقوں سے بندھے ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر شہید ہونے والے ایک بچے کے والد اورنگزیب نے اس واقعہ کے بعد سے ہمیشہ کالے کپڑے پہنے ہیں۔

غیاث الدین جن کا بیٹا بھی شہید ہوا تھا، کئی ماہ تک بستر پر پڑے رہے۔

یہاں تک کہ وہ خوش قسمت والدین جن کے بچے بچ گئے وہ بھی صدمے کا شکار ہیں۔

وقار احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں اس دن کو نہیں بھول سکتا جب مجھے وارسک روڈ کی طرف بھاگنا پڑا۔ میرے دونوں بیٹوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا مگر بڑی تعداد میں دوسرے بچوں کو کھو دینا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اسے آسانی سے نہیں بھلایا جا سکتا"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی دو بچوں کی والدہ آمنہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کوئی بھی شخص اس ماں کے دکھ کا اندازہ نہیں کر سکتا جس نے اس بچے کو کھو دیا ہو جسے اس نے اسکول بھیجا ہو نہ کہ میدانِ جنگ"۔

انہوں نے حکومت سے کہا کہ "ان سب کا خاتمہ کر دیں جو ہماری مستقبل کی نسل کے لیے خطرہ ہیں۔ ہم سب مائیں آپ کے ساتھ کھڑی ہیں"۔

دہشت گردی کا "مکمل خاتمہ"

اعلی عہدہ داروں نے بھی یہ سنجیدہ برسی منائی۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے اس برسی کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ سولہ دسمبر پوری قوم کے لیے ایک تکلیف دہ دن ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ "حکومت ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے تمام ممکن کوششیں کرنے کا عزم رکھتی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم اے پی ایس کے متاثرین کے والدین کے ساتھ کھڑی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سولہ دسمبر کو پشاور کا سفر کیا تاکہ بچ جانے والوں اور سوگوار والدین سے ملاقات کر سکیں۔ انہوں نے اے پی ایس کے شہدا کی مقامی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور اے پی ایس میں خطاب میں شہید ہونے والے بچوں کی عزت افزائی کی"۔

انٹرسروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق انہوں نے کہا کہ "دہشت گردوں نے آسان اہداف کو نشانہ بنا کر ملک اور مسلح افواج کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کی۔ مگر میرا ملک کے دشمنوں کو پیغام ہے کہ ہمارے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "فوج دہشت گردوں کا ان کے آخری ٹھکانے تک تعاقب کرے گی"۔ انہوں نے آخیر میں کہا کہ "ہم اپنی مادرِ وطن سے ان کے مکمل خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے"۔

خیبرپختونخواہ (کے پی) حکومت کے حکام نے بھی ان یادگاری تقریب میں شرکت کی۔

کے پی اسمبلی کے اسپیکر اور مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے موم بتیاں جلائیں اور شہید ہونے والوں اور ان کے اہلِ خاندان کے لیے دعائیں مانگیں۔

کے پی اسمبلی میں تقریب کے دوران قیصر نے کہا کہ "پورا ملک اے پی ایس کے بچوں کی عظیم قربانی کو تسلیم کرتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات، جن میں این اے پی اور شمالی وزیرستان کا آپریشن ضربِ عضب شامل ہے، نے ملک اور صوبے میں امن بحال کرنے میں مدد کی ہے۔

کے پی کے سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے تقریب کے موقع پر کہا کہ "اس حملے کا اثر اثنا زیادہ تھا کہ اس نے ملک کی تمام طاقتوں کو امن کے لیے لڑنے پر متحد کر دیا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500