https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/12/15/feature-02
دہشتگردی |

سولر پینل فاٹا میں دہشت گردوں کی ویکسینیشن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں

اشفاق یوسفزئی

image

تکنیکی ماہرین 28 اپریل کو وانا، جنوبی وزیرستان میں سولر پینل نصب کرتے ہوئے۔ [تصویر بشکریہ اشفاق یوسفزئی]

پشاور -- وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں محکمۂ صحت کے حکام نے صحت مراکز میں بجلی کی متواتر فراہمی اور ویکسین کے سرد سلسلے کو برقرار رکھنے لیے سولر پینل نصب کر دیئے ہیں، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ بچوں کو مؤثر مامونیت میسر ہو۔

توسیعی پروگرام برائے مامونیت (ای پی آئی) کی فاٹا شاخ کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر اختیار علی کے مطابق، کوشش کا آغاز جنوری میں ہوا تھا اور فاٹا میں ویکسینیشن کے 200 مراکر تک پہنچ چکی ہے۔

بجلی کی بلاتعطل فراہمی ویکسین پلانے والے اہلکاروں کو مزید بچوں تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے باوجودیکہ طالبان مامونیت کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گزشتہ برسوں میں فاٹا میں ہسپتالوں کو دہشت گردوں کی جانب سے بجلی کی لائنوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو خراب کرنے کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔

پولیو اب صرف تین ممالک: افغانستان، نائیجیریا اور پاکستان میں ایک متعدی مرض ہے۔

اختیار نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فاٹا میں طالبان کی مخالفت کی وجہ سے ویکسینیشن کا عمل بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔"

انہوں نے کہا، "گزشتہ دو برسوں سے، ہم مامونیت میں اضافہ کرنے اور بچوں کو ویکسین کے ذریعے محفوظ رکھنے والے نو وبائی امراض سے بچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں ویکسینیشن کی شرح 30 فیصد ہے، جو کہ پورے ملک کی اوسط 70 فیصد سے بہت زیادہ کم ہے، کیونکہ فاٹا میں عسکریت پسند ویکسین پلانے والوں اور والدین کو یکساں طور پر دہشت زدہ کرتے اور دھمکاتے ہیں۔

طالبان ہسپتال کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیتے ہیں

جون 2012 میں طالبان نے شمالی اور جنوبی وزیرستان اور فاٹا کے دیگر حصوں میں مامونیت کے لیے اپنی مخالفت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد آنے والی تخریف اور دہشت گردی نے ان علاقوں میں ویکسینیشن کے پروگراموں کو تہہ و بالا کر دیا، جس سے بچے قابلِ انسداد مرض کی زد میں آ گئے اور اس کی وجہ سے کئی بار وبائیں پھیلیں۔

عسکریت پسندوں نے ویکسینیشن کو نا صرف مسلمانوں کے خلاف فرضی مغربی سازش سے غلط طور پر منسلک کیا، انہوں نے بہت سے صحت مراکز میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی اڑا دیا، جس سے ویکسینیشن کے لیے سرد سلسلے کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔

اختیار نے کہا کہ جنوری کے بعد سے فاٹا میں 200 ویکسینیشن مراکز میں سولر پینلز کی تنصیب نے ریفریجریٹرز کو "بلا تعطل بجلی" فراہم کی ہے اور ویکسینز کی استعداد کو یقینی بنایا ہے جسے ایک مخصوص درجۂ حرارت کے تحت ذخیرہ کرنا درکار ہے۔

مہمند ایجنسی میں ایک ہسپتال میں ای پی آئی تکنیکی ماہر، مشتاق علی نے کہا کہ سولر پینلز کی تنصیب سے پہلے، ویکسینز کو محفوظ رکھنا ایک بڑا مسئلہ تھا۔

انہوں نے کہا، "ہم خراب ہو جانے پر مہنگی ویکسینز کو ضائع کر دیا کرتے تھے کیونکہ ان کے بچوں کی صحت پر مضر اثرات پڑتے تھے۔ اب، سرد سلسلے کا مسئلہ مستقلاً حل ہو چکا ہے۔"

پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر، امین جان گنڈاپور، نے فاٹا میں ویکسینیشن کی کم شرح کو درست کرنے کے لیے اپنی کوششیں بڑھانے پر حکومت کو سراہا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "گزشتہ چند برسوں میں بچوں کی ویکسینیشن نہ ہونے کی وجہ سے فاٹا میں خناق، کالی کھانسی اور خسرہ کی وبائیں پھوٹتی رہی ہیں۔ سولر پینلز کی تنصیب ایک درست اقدام ہے یہ یقینی بنانے کے لیے کہ بچوں کو معیاری ویکسین ملے اور وہ مستقبل میں بیماریوں سے محفوظ رہیں۔"

تمام بچوں کو وبائی امراض سے بچانا

فاٹا کے محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جواد حبیب خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ دس لاکھ بچوں کو ویکسین فراہم کرنے کے مقصد کے ساتھ، ای پی آئی سات قبائلی ایجنسیوں میں پہلے ہی سے مصروفِ عمل 506 ویکسین پلانے والوں میں شامل ہونے کے لیے مزید 350 ویکسین پلانے والے بھرتی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم سکیورٹی فورسز کی امداد پر انحصار کر رہے ہیں ایسے علاقوں میں بچوں کی ویکسینیشن [میں مدد] کے لیے جہاں طالبان کی موجودگی کی وجہ سے کم ترین شرحیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔"

آپریشن ضربِ عضب، جو فوج نے شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں شروع کیا تھا، کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "ایک فوجی آپریشن میں طالبان کے اخراج کے بعد، ہم مامونیت کو بہتر بنانے کے راستے پر گامزن ہیں۔ سولر پینلز کی تنصیب اور مزید ای پی آئی مراکز کا قیام ایک منصوبے کا جزو ہے جو بجلی کی بندش کا مقابلہ کرنے اور اس طرح ویکسین کو خراب ہونے سے بچانے اور تمام بچوں کو مامون بنانے کے لیے ہے۔"

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں اڑتیس ای پی آئی ویکسینیشن مراکز ابھی بھی سولر پینلز کے منتظر ہیں جو ان کے ریفریجریٹرز کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے ضامن ہیں۔

وانا، جنوبی وزیرستان ایجنسی میں ایجنسی ہیڈکوارٹرز ہسپتال پر ایک معالج، رحیم شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ شمسی توانائی کے نظام نے ای پی آئی مراکز کو فعال بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "تین سال پہلے جب طالبان غیر قانونی طور پر علاقے پر حکومت کر رہے تھے تو انہوں نے ویکسین پلانے والوں کو مارا پیٹا اور ای پی آئی مراکز کو بند کر دیا ۔"

انہوں نے کہا کہ ضربِ عضب "بچوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا ہے کیونکہ طالبان کی شکست نے تحفظ فراہم کیا ہے، جس سے ویکسین پلانے والے اپنا کام بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے قابل ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ مہمند ایجنسی میں تمام 46 ای پی آئی ویکسینیشن مراکز امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے فعال ہیں۔

پاکستان کے ویکسینیشن پروگرام کے سربراہ، ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ فوج کی عسکریت پسندی کے خلاف کارروائی نے فاٹا میں بچوں کو معمول کی ویکسینیشن وصول کرنے کے قابل بنا دیا ہے بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں کسی بھی اور جگہ ہوتی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فاٹا سے طالبان کے انخلاء کے بعد، ہم پولیو [ویکسینز] کے لیے ہدف آبادی کے 99 فیصد کا احاطہ کرتے رہے ہیں۔ سنہ 2015 اور 2014 میں بالترتیب 16 اور 179 کے مقابلے میں ہمارے ہاں سنہ 2016 میں پولیو کے صرف دو واقعات ہوئے۔"

طالبان کے بچوں کو نقصان کی تلافی

پشاور کے مقامی ایک طبی محقق احتشام الحق نے کہا کہ طالبان نے بچوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا جب انہوں نے انہیں اسکول جانے اور ویکسین وصول کرنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے پاس یہ شاندار موقع ہے کہ قبائلی آبادی میں حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "شمسی توانائی بچوں کو اچھی ویکسین دینے میں ایک بڑا اقدام ہے۔ اسے تمام ہسپتالوں، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں بجلی پہلے دستیاب نہیں تھی، کا احاطہ کرنے کے لیے وسیع ہونا چاہیئے۔"

باجوڑ ایجنسی کے ایک مکین، احسان اللہ شاہ نے کہا کہ وہ حال ہی میں اپنے تین بچوں کو معمول کی ویکسینیشن کے لیے ایک ای پی آئی مرکز لے کر گیا تھا۔

اس نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "طالبان کے زمانے میں، میرے ایک بچے کو ویکشینیشن نہ ہونے کی وجہ سے خسرہ نکل آیا تھا، لیکن اب صورتحال اچھی ہے اور بچوں کو بیماریوں سے بچایا جا رہا ہے۔"

شاہ نے طالبان کی ویکسینیشن کے خلاف مہم کی مذمت کی اور اپنے بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا عہد کیا۔

اس نے کہا کہ حکومت کو تمام ہسپتالوں میں سولر پینل نصب کرنے چاہیئیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

آپ کی پیش رفت سے متعلق پڑھنے کے بعد، ان سب کا شکریہ جن کے مرہونِ منت یہ ممکن ہوا

جواب