https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/12/14/feature-03
| نوجوان

کے پی نئی پالیسی سے نوجوانوں کو مختار بنانے اور ترقی دینے کا خواہشمند ہے

جاوید خان

image

پاکستانی طلباء 8 ستمبر 2016 کو خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر اسکول میں ایک کلاس لے رہے ہیں۔ ]عارف علی/ اے ایف پی[

پشاور - اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ (کے پی) کی حکومت اپنی نئی یوتھ پالیسی سے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ صحت مندانہ تفریحی سرگرمیوں میں شرکت کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ہی انہیں تعلیم، صلاحیتوں کی تعمیر اور ملازمت کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

یہ پالیسی جس کا اعلان کے پی کے وزیراعلی پرویز خٹک نے اٹھائیس نومبر کو پشاور میں کیا، کا مقصد جوان ہوتی ہوئی نسل کو تعلیم اور بہتر ملازمتیں فراہم کرنا اور انہیں عسکریت پسندی اور جرائم سے دور رکھنا ہے۔

کے پی کے سیاحت، ثقافت اور نوجوانوں کے امور کے شعبہ میں کام کرنے والے ایک نوجوان رضاکار قاضی جلال نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یوتھ پالیسی تین ستونوں پر بنائی گئی ہے - سماجی، سیاسی اور اقتصادی- جس کے ذریعہ نوجوان ترقی کریں گے اور خودمختار بنیں گے"۔

image

کے پی کے وزیراعلی پرویز خٹک اٹھائیس نومبر کو پشاور میں نئی یوتھ پالیسی کا اعلان کر رہے ہیں۔ ]جاوید خان[

انہوں نے کہا کہ حکام نوجوانوں کی رسمی تعلیم حاصل کرنے میں حوصلہ افزائی کرنے، آگاہی بڑھانے اور صلاحیتوں کو ترقی دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اس پالیسی کے تحت، نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم مہیا کی جائے کی اور انہیں اپنا کیرئر بنانے کے لیے عمومی صلاحیتیں سکھائی جائیں گی"۔

یوتھ پالیسی کا مقصد نوجوان نسل کو زندگی کے ہر شعبہ میں مواقع فراہم کرنا اور انہیں مثبت و تفریحی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے۔

جلال نے کہا کہ "یوتھ پالیسی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو فیصلے کرنے اور کمیونٹی کی ترقی کے عمل میں شامل کرے گی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں اور مختلف قابلیتیں رکھنے والے نوجوانوں کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

پرجوش اور ہمہ جہتی منصوبے

خٹک نے پالیسی کے منصوبوں کے بارے میں اٹھائیس نومبر کو اپنے اعلان کے دوران بتایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "کے پی کی حکومت 32 جوان مرکز (یوتھ سینٹر) صوبے بھر میں قائم کرے گی جس پر ایک بلین روپے (9.5 ملین امریکی ڈالر) کا خرچہ آئے گا "۔

یہ مراکز پالیسی کے نفاذ میں حکومت کی مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے آغاز میں جس وقت تک ان کی حکومت اپنی معیاد ختم کرے گی، کے پی میں نوجوانوں کے لیے مزید ایک سو اسٹیڈیم اور کھیلوں کے میدان موجود ہوں گے۔

اس پالیسی میں تجویز کیا گیا ہے کہ ادارے اور تنظیمیں اپنی منظور کردہ ملازمتوں میں سے کم از کم پانچ فیصد کے برابر کو نوجوانوں کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مخصوص کریں۔ اس میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ یونیورسٹیاں نوجوانوں کے لیے کیمپس کے اندر ملازمت کا کوٹہ مخصوص کریں جو کہ ان کے کل وقتی داخلوں کے کم ازکم پانچ فیصد کے برابر ہو۔

سماجی امداد اور ملازمت کے انشورنس پروگرام، عارضی یا قلیل المعیاد بے روزگاری سے نپٹیں گے۔ علاوہ ازیں، پالیسی میں مجوعی صحت کی ضروریات اور صنفی برابری کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔

خٹک نے اس پالیسی کو ایک ایسے صوبے میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے جس نے کئی سالوں سے عسکریت پسندی کا مقابلہ کیا ہے۔

خٹک نے کہا کہ کے پی کی حکومت صوبے بھر میں پندرہ تقریبات منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو نوجوانوں کو بہتر ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد کریں گی۔

انہیں "ذمہ دار شہری" بننے میں مزید مدد فراہم کرنے کے لیے، حکومت نوجوانوں کے لیے رسمی تعلیم کو باسہولت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں ایک زیادہ سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنا بھی شامل ہے"۔

حکام نے مختلف اقسام کے اضافی اقدامات بھی سوچ رکھے ہیں: کیرئر کی مشاورت، دباؤ اور غصے سے نپیٹنا اور رضاکارانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کی تشہیر کرنا۔

کے پی کے نوجوانوں، کھیلوں اور سیاحت کے وزیر محمود خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس پالیسی کا نفاذ نوجوانوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی میں ایک سرگرم کردار ادا کرنے کے قابل بنا دے گا"۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی معاشی اور سماجی مقام سے بالاتر ہو کر نوجوانوں کو ایک بنیاد فراہم کرے گی۔ خان نے کہا کہ "حکومت کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں نوجوانوں کے لیے منصوبوں کا آغاز کرنے کا تھا"۔

مشتاق نوجوان

طلباء اور دوسرے نوجوان افراد اس پالیسی کا نہایت بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے گریجوئٹ طالبِ علم کاشف خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "صوبے کے عوام چاہتے ہیں کہ حکومت کسی تاخیر کے بغیر اس پالیسی کو نافذ کرے کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں تمام اضلاع میں لازمی طور پر نوجوانوں کے مراکز بنانے چاہیں تاکہ وہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو بہتر پیشے کا انتخاب کرنے میں مدد فراہم کر سکیں"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے ایک نوجوان کھلاڑی یوب خان نے کہا کہ "تعلیم اور پیشے کے علاوہ، پاکستان کے نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر مرکز، جمنیزیم اور دیگر تفریحی سہولیات کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو کے پی میں ہر طرح کے بین الاقوامی کھیلوں کو دوبارہ سے متعارف کروانا چاہیے اور کے پی کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha