https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/11/29/feature-02
دہشتگردی |

خیبر پختونخواہ کا بم اسکواڈ پاکستان کی خدمت کے لیے سب کچھ داؤ پر لگائے ہوئے ہے

جاوید خان

image

بم ڈسپوزل یونٹ کے رکن زاہد خان پچیس اکتوبر کو داودزئی میں ایک آئی ای ڈی کے پھٹ جانے پر، جسے وہ ناکارہ بنا رہے تھے، زمین پر گر پڑے۔ وہ حفاظتی سامان کو پہننے کے باعث موت کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ ]جاوید خان[

پشاور - بہادری پر دیا جانے والا ایک حالیہ ایوارڈ، اس غیر جذباتی طریقہ کار پر روشنی ڈالتا ہے جس پر چلتے ہوئے خیبرپختونخواہ (کے پی) پولیس کا بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) ہر روز موت کا سامنا کرتا ہے۔

آٹھ نومبر کو، کے پی کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ناصر خان درانی نے پشاور میں بی ڈی یو کے ارکان کے لیے ایک ایوارڈ جاری کیا جن میں ماہر زاہد خان بھی شامل تھے۔

پچیس اکتوبر کو پشاور میں، زاہد اس بم کے دھماکے سے بچ گئے جسے وہ ناکارہ بنا رہے تھے اور اس کی وجہ وہ حفاظتی سامان تھا جو انہوں نے پہن رکھا تھا۔

درانی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کے پی پولیس کے بم ڈسپوزل کے ماہرین اس خطرناک ترین کام کو زیادہ سے زیادہ جانیں بچانے کے اپنے عزم کے ساتھ کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ بی ڈی یو کے تمام مرد ہیرو ہیں۔

دھماکے کے وقت، زاہد جو کہ بی ڈی یو کے ایک تجربہ کار افسر ہیں اور جنہوں نے گزشتہ کچھ مہینوں میں بہت سے بموں کو ناکارہ بنایا ہے، داودزئی کے علاقے کو ایک دوسرے دھماکے کے بعد محفوظ بنا رہے تھے جس میں علاقے میں ایک پولیس افسر ہلاک ہو گیا تھا۔ ہلاک ہونے والا افسر پولیو کے قطرے پلانے والی ایک ٹیم کی حفاظت کر رہا تھا۔

زاہد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پولیس نے زاہد کی ٹیم کو علاقے میں نصب کی جانے والے دوسرے بم ناکارہ بنانے کے لیے بلایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ایک بم ملا جسے پولیس کو چال سے پھنسانے کے لیے پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "دھماکہ اس وقت ہو گیا جب میں بم کو ناکارہ بنا رہا تھا۔ میرے حفاظتی سامان نے مجھے محفوظ رکھا"۔

ہیروز کی ایک ٹیم

بی ڈی یو کے سربراہ اور اسسٹنٹ آئی جی پی شفقت ملک نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ بی ڈی یو کا ہر رکن اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2009 سے اب تک بی ڈی یو کے پندرہ ارکان سب سے بڑی قربانی دے چکے ہیں۔

اس المناک فہرست میں حکم خان اور عبدل حق بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی خوش قسمتی کے ختم ہو جانے سے پہلے انفرادی طور پر سینکڑوں بم ناکارہ بنائے تھے۔

بی ڈی یو کے ایک اور اعلی رکن، عنایت اللہ المعروف ٹائیگر ایک دھماکے میں اپنی ٹانگ سے محروم ہو چکے ہیں۔

عنایت اللہ نے اگست میں پشاور میں ایک تقریب کو بتایا کہ "میں اپنے ملک کے لیے قربانی دے کر فخر محسوس کرتا ہوں اور اپنی ساری زندگی کے دوران اپنے لوگوں کے لیے کام کرنا جاری رکھوں گا"۔

بی ڈی یو کے دوسرے دو ارکان، شاکر خان اور غزان خان کو اس وقت معمولی چوٹیں آئیں جب نو نومبر کو پشاور میں ایک بم کو ناکارہ بنانے کے عمل میں وہ پھٹ گیا۔ خبروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ صحت یاب ہو رہے ہیں۔

کے پی کے حکام نے اس خطرے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے جس کا سامنا بی ڈی یو کا عملہ ہر روز کرتا ہے۔

حال ہی میں، کے پی نے بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے روبوٹ حاصل کیے مگر ابھی تک روبوٹ صرف ہموار سطحوں پر ہی کام کرنے کے قابل ہو سکے ہیں۔

بی ڈی یو کے ارکان انسدادی اقدامات بھی کرتے ہیں اور کسی بھی منصوبہ شدہ بڑی تقریب سے پہلے عوامی جگہوں کو بم کا پتہ لگانے والے آلات سے چیک کرتے ہیں۔

علاقہ بم دھماکوں سے آٹا ہوا

گزشتہ دہائی میں، کے پی سینکڑوں بم دھماکوں، راکٹ حملوں اور قتل کے واقعات سے لرز چکا ہے۔

ایک وقت پر پشاور میں تقریبا ہر روز بم دھماکہ ہوتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ فوج کی طرف سے جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد سے سیکورٹی بہتر ہوئی ہے مگر بدترین سالوں میں بھی بی ڈی یو کی بہادری میں کبھی کمی نہیں آئی۔

آئی جی پی درانی نے کہا کہ "بی ڈی یو کے بہادر ارکان نے گزشتہ سال سالوں کے دوران کے پی میں چھہ ہزار سے زیادہ بموں کو ناکارہ بنایا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 4
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

جناب میں اس فورس میں شامل ہونا چاہتا ہوں

جواب

ٹھیک ہے، آپ کر سکتے ہیں

جواب

جناب میں اس فورس میں شامل ہونا چاہتا ہوں، یہ قوم کے ہیرو ہیں۔۔ میں آئی ایس پی آر اور دیگر میڈیا سروسز سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک فلم بنائیں، مختصر دورانیئے کی نہیں بلکہ باقاعدہ فلم۔

جواب

بالکل جناب میں پوری کے پی کے پولیس کو شاباش دیتاہو اور سیلوت کرتاہو جس نے ملک وقوم کی خاطر اپنے جانوں کے نزرانے پیش کئے اورمیں اپنے بی ڈی یو اہلکاروں کو سلام پیش کرتاہوں اور سیلوٹ کرتاہوں۔۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کے پی کے پولیس نے دہشت گردی کے خلاف ملک مین سب سے زیادہ قربانیاں دی اوردہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ لیکن مراعات اس کے باقی تمام صوبون پولیس سے کم ہے ۔۔۔ستم طریفی تو یہ ہے کہ انصاف اور تبدیلی کے نام جو پارٹی اس صوبےمیں حکومت کررہی ہے اس نے بھی کے پی کے پولیس کے لئے کچھ نیہں کیا ۔۔۔دوسرے محکموں میں کلاس فور کو چھ سکیل دیا گیا جبکہ پولیس کا ایک کانسٹیبل جوکہ 24 گھنٹے ڈیوٹی کرتاہے اورمیٹرک پاس ہوتاہے وہ 5سکیل میں ہے ،،،،یہ کتنا بونڈا مذاق ہے ۔۔۔۔دوسرا یہ کہ کے پی کے پولیس اپنے جیبوں سے پیسے جمع کرکے شہداء پیکج میں ہر ماہ لاکھوں کروڑوں روپے جمع کرتے ہے اور جب کوئی پولیس اہلکار شہید ہوتاہے تو اس کو شہداء پیکج اسی پیسے سے دیاجاتاہے ۔۔۔۔۔۔کے پی کے پولیس زندہ باد

جواب