https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/11/28/feature-01
دہشتگردی |

عسکری کاروائی کے بعد پاکستان کی وادیٔ تیراہ میں ترقیاتی کام

سیّد عنصر عبّاس

image

اکتوبر میں ایک سپورٹس فیسٹیول کی اختتامی تقریب کے دوران وادیٔ تیراہ میں پاکستانی قبائلی ایک روایتی رقص پیش کر رہے ہیں۔ [بشکریہ سیّد عنصر عبّاس]

پشاور — حکومتِ پاکستان خیبر ایجنسی میں وادیٔ تیراہ کی تعمیرِ نو کر رہی ہے۔

گزشتہ برسوں میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب سمیت ملک بھر میں فوج کی جانب سے انسدادِ شورش کی متعدد کاروائیوں کے بعد عسکریت پسندی سے تباہ حال خطے کو تعمیر کرنے کا موقع آیا۔

افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع یہ وادی کم از کم 10 برس تک دہشتگردی کا مرکز رہی۔

حکام، عمائدین اور مقامی افراد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب کارکنان اور قبائل کے ارکان سکول، سڑکیں اور دیگر تنصیبات تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔

اکتوبر میں وادیٔ تیراہ میں ایک سپورٹس فیسٹیول کی اختتامی تقریب کے دوران خیبر پختونخوا (کے پی) کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے 3.7 بلین روپے (37 ملین امریکی ڈالر) سے زائد کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا، ”سڑکیں، سکول، نگہداشت صحت کے مراکز، چھوٹے ڈیم اور پل آنے کو ہیں۔“

ترقیاتی منصوبے

مفلوک الحال وادی کی تعمیرِ نو کے منصوبے پرعزم ہیں۔

خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ خالد محمود نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 23 سکول پہلے ہی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

انہوں نے کہا، ”حکومت ہر برس نئے سکول تعمیر کرے گی۔“

دیگر منصوبوں میں پلوں اور ایک سپورٹس سٹیڈیم کی تعمیر اور زراعت میں جدت لانا شامل ہیں۔

صحافیوں کی قبائلی یونین کے خیبر ایجنسی جزُ کے صدر، قاضی فضل اللہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لنڈی کوتل میں پرورش پانے کا مطلب تھا کہ آپ سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے کبھی تیراہ نہیں جا سکتے۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ 2008 میں پہلی مرتبہ تیراہ گئے تو ”دو دن لگے“۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ایک تازہ تکمیل شدہ سڑک کی وجہ سے وہ ”چار گھنٹے میں“ تیراہ پہنچ گئے۔

رہائشیوں کا اظہارِ اطمینان

وادی کے رہائشی خوش ہیں اور ترقی کے ثمرات دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔

ان میں گلی خیل گاؤں کے ایک قبائلی عمائد سرفراز خان ملک دین خیل بھی شامل ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم اب تک تعلیم و صحت کی سہولیات سے محروم رہے۔ ہم سکولوں اور ایک ہسپتال کی جلد تعمیر چاہتے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”حالیہ طور پر ہمیں نگہداشت صحت اور تعلیم کے لیے پشاور اور کوہاٹ جانا پڑتا ہے۔“

میدان کے نوجوان رہائشی قیصر شاہ آفریدی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”وادی میں چند ابتدائی سکولوں کے علاوہ کوئی سکول نہیں۔“

انہوں نے کہا کہ تیراہ کے بیمار باشندے ”علاج کے لیے جاتے ہوئے پشاور اور کوہاٹ کے راستے میں دم توڑ چکے ہیں۔“

وادی کے ایک اور نوجوان باشندے احمد آفریدی نے کہا، ”[مستقبل کا] یہ سپورٹس سٹیڈیم بھی نوجوانوں کو مصروف رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔“

مسلسل واپسی

پولیٹیکل ایجنٹ محمود نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی برسوں تک پاکستان کے نسبتاً محفوظ علاقوں میں رہنے کے بعد آئی ڈی پیز تاحال واپس لوٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”آئندہ ماہ تک واپسی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔“

ریاستوں اور سرحدی علاقہ کے لیے ایک سابق وزیر ملک وارث خان آفریدی نے قبائلی خطوں کی ترقی میں ”غیر معمولی“ کردارپر فوج کی ستائش کی۔

انہوں نے کہا، ”اس سنگلاخ وادی میں پہلی مرتبہ ترقی کے حقیقی دور کا آغاز ہوا ہے۔“

قمرخیل کے سربراہ ملک محمّد امین آفریدی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”مجھے توقع ہے کہ حکومتِ کے پی کی جانب سے اعلان کیے گئے تمام ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہو جائیں گے۔“

انہوں نے کہا، ”خطے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران میں نے اپنے تین نوجوان بیٹے اور بھائی کھو دیے۔“

انہوں نے کہا، ”[دہشتگردوں نے] چار مرتبہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کی کیوں کہ میں ۔۔۔ دہشتگردی سے پاک خیبر ایجنسی کا خواہاں تھا۔ قادرِ مطلق نے مجھے بچا لیا۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
26
نہیں
تبصرے 5
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

ماشأاﷲ بڑی خوشی کی بات ھے ہماراپوراملک پرامن ھوگیاھےہماری بہادر فوج نے بہت اچھا کام کیا ھے
پاکستان زنداباد پاک فوج پائنداباد

جواب

مجھے یہ پیج پسند ہے، بطورِ خاص پاک فوج کو سراہتا ہوں۔ پاک فوج ہمارے اتحاد کی علامت ہے۔ پاک فوج زندہ باد

جواب

حکومت اور پاک آرمی کی بھی بہت اچھی کاوشیں۔
اس صفحہ کو جاری رکھیں۔ شکریہ.

جواب

عزیزم، میں آپ کا پیج پڑھ کر حیران رہ گیا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ حکومتِ امریکہ کا پیج ہے یا پاک فوج کا۔ یہاں پاک فوج اور پشتونوں کے قاتلوں کی ستائش کی جاتی ہے۔ پاک فوج کی وجہ سے پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کے پشتون تباہ اور نابود ہو گئے۔ انہیں ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا اور ان کے گھر کھنڈارات میں بدل دیے گئے۔ لعنت ہو پاک فوج پر! ان کی وجہ سے پشتون بچوں کو مجبوراً ویرانوں میں گرم و سرد موسم برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

جواب

مجھے یہ پسند ہے
جاری رکھیں

جواب