https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/11/09/feature-03
تعلیم |

پاکستانی انتہا پسندی کا مقابلہ بذریعہ تعلیم کر رہے ہیں

عدیل سعید

image

کراچی میں بچے ٹی سی ایف کی جانب سے 2015 میں تعمیر کیے گئے سکول کے باہر کھیل رہے ہیں۔ ٹی سی ایف پشاور کے آرمی پبلک میں دہشتگردوں کے ہاتھوں قتلِ عام میں شہید ہونے والے بچوں اور اساتذہ کی یاد میں پاکستان بھر میں امن کی خاطر 141 سکول تعمیر کر رہی ہے۔ [بشکریہ عدیل سعید]

پشاور — تعلیم پر تشدد عسکریت پسندی کی انسداد کا بہترین ہتھیار ہے۔ ”امن کے لیے 141 سکول“ اقدام کے پسمنظر میں یہی پیغام ہے، جس کا مقصد دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) میں دہشتگردوں کے ہاتھوں قتلِ عام میں جانبحق ہونے والے بچوں اور اساتذہ کی یاد میں 141 سکول تعمیر کرنا ہے۔

کراچی کی ایک ماورائے منافع پر مبنی تنظیم، دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (ٹی ایف سی) 141schools.org کے ساتھ اشتراک سے یہ سکول تعمیر کر رہی ہے۔ متعلقہ کمیونیٹی کی ضروریات کی بنا پر چند ابتدائی اور چند ثانوی سکول بنائے جائیں گے۔

اب تک چوبیس سکول مکمل کیے جا چکے ہیں۔

ٹی سی ایف کے صدر اور سی ای او سید اسد ایوب احمد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ اقدام ایک پیغام ہے کہ پاکستان تعلیم سب کے لیے کے ساتھ کھڑا ہے اور یہ کہ دیرپا امن ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔“

تعلیم امن و ترقی کی کنجی ہے

انہوں نے گزشتہ دسمبر منصوبے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے ایک ای میل پیغام میں کہا، ”اے پی ایس حملے سے پورا پاکستان لرز اٹھا تھا۔ امن کے لیے 141 سکولوں کا اقدام ایک بہتر اور خوبصورت تر پاکستان کے لیے ہماری جدوجہد کا مرکز و محور ہے۔ ہمارے ملک کے حالیہ مسائل کے لیے ہمارا ردِّ عمل تعلیم ہے۔“

انہوں نے لکھا، ”قوم کو درپیش ہولناک چیلنجز کے ساتھ، ہمیں پورے عزم کے ساتھ یقین ہے کہ صرف تعلیم ہی کے پاس ذہنوں کو روشن کرنے، حقوق و فرائضِ شہریت کو اجاگر کرنے اور ہر پاکستانی کی صلاحیّت کو سامنے لانے کی طاقت ہے۔“

انہوں نے کہا، ”امن کے لیے 141 سکول، جنہیں ہم مل کر بنا رہے ہیں، امید، برداشت اور پاکستان کے تمام بچوں کو تعلیم دینے کے ہمارے عہد کی ایک پائیدار علامت کے طور پر قائم رہیں گے۔“

ٹی سی ایف کی ترجمان سارہ طاہر نے کہا کہ ٹی سی ایف کم مراعات یافتہ کمیونیٹیز کے لیے تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کرنے والی پاکستان کی ہراول تنظیم ہے۔

ٹی سی ایف کے بانی، شہریوں کا ایک گروہ، تعلیم کو پھیلا کر مثبت معاشرتی تبدیلی لانے پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”1995 میں اپنے قیام سے اب تک ٹی سی ایف نے 1,200 سکول تعمیر کیے، جہاں 175,000 مستحق طالبِ علم نہایت کم فیس پر معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”اے پی ایس متاثرین کی یاد میں 141 سکول تعمیر کرنے کا تصور ایک تارکِ وطن پاکستانی ذکی پاٹیل کے خیال میں آیا، جو سمجھتے ہیں کہ تعلیم کو عام کرنا عسکریت پسندوں کی پر تشدد سوچ کا ایک موزوں ردِّ عمل ہے۔“

انہوں نے کہا کہ کراچی سے کمپیوٹر سائنس میں تعلیم مکمل کرنے والے ذکی، جو کینیڈا میں مقیم ہیں، نے ٹی سی ایف کے سامنے اپنا تصور پیش کیا، جس نے گرمجوشی سے اسے قبول کیا۔

سارہ نے کہا کہ 24 سکول مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ کارکنان اس وقت 18 دیگر پر کام کر رہے ہیں۔ مکمل ہونے والے 24 سکولوں میں سے چار صوبہ خیبر پختونخوا(کے پی) میں ہیں جہاں اے پی ایس کی سفّاکی پیش آئی۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر تک 35 عطیہ دہندگان نے 41 سکولوں کی مکمّل تعمیر کا ذمّہ لیا ہے، جبکہ دنیا بھر سے 1,000 سے زائد عطیہ دہندگان نے اس منصوبہ کو مکمل کرنے کے لیے بنائے گئے خزانۂ مالیات میں حصّہ ڈالنے کا وعدہ کیا ہے۔

ہر سکول کی تعمیر پر تقریباً 15 ملین روپے (150,000 امریکی ڈالر) لاگت آتی ہے، لہٰذا تمام 141 سکولوں پر 21 ملین ڈالر سے کچھ زیادہ لاگت آتی ہے۔

سارہ نے کہا کہ ہر سکول میں تقریباً 180 طالبِ علموں کی گنجائش ہے، لہٰذا تقریباً 25,380 سکول جانے والے بچے اس اقدام سے مستفید ہوں گے۔

امن کے لئے 141 اسکولز کی وسیع پیمانے پر حمایت

پاکستانی گلوکار اور اداکار علی ظفر سمیت معاشرے کے ہر طبقے سے 141 اسکولز ڈاٹ اوآرجی اور ٹی سی ایف کے مشترکہ اقدام کو حمایت حاصل ہوئی ہے۔

مارچ میں بین الاقوامی میڈیا میں ایک انٹرویو کے دوران، علی ظفر نے بتایا کہ انہوں نے اے پی ایس کے شہیدوں کی یاد میں گائے ہوئے اپنے گانے "اڑیں گے" (وی ول فلائی) سے حاصل ہونے والی آمدنی 141 اسکولز کی تعمیر کے لئے مختص کردی ہے۔

حملہ کے وقت نویں جماعت کے طالب علم حذیفہ آفتاب شہید کی والدہ اور اے پی ایس پشاورکی ٹیچر عندلیب آفتاب نے بتایا، "یہ دہشت گردوں کو ایک مناسب جواب ہے، کیونکہ انتہاپسندی کی بیخ کنی کے لئے ہمیں اس کی جڑ کو ختم کرنا ہے جو بنیادی طور پر ناخواندگی، جہالت اور غربت ہے۔"

عندلیب نے اقدام کی بہت تعریف کرتے ہوئے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "تعلیم کے ذریعے ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جیت سکتے ہیں اور اپنے ملک کو ترقی پسند اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں۔"

ایک دہشت گرد ایک دن میں نہیں تیار ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا، ایک عام شخص کو ایک انتہاپسند نوجوان بننے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا، "معاشرہ کو ان بنیادی وجوہات پر غور کرنا چاہیئے جو ہمارے ملک کے لوگوں کو انتہاپسندی کی طرف لے جاتی ہیں اور ملک کے ہر گلی کوچہ میں تعلیم کو پھیلانے جیسے احتیاطی اقدامات کرنے چاہئیں۔"

عابد علی نے، جن کی شریک حیات فرحت بی بی، اے پی ایس میں ٹیچر تھیں جو حملہ میں شہید ہوئیں، نے ٹی سی ایف کے اقدام کی تعریف کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا. "ہمارے نقصان کو پورا نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہم وطن دہشت گردوں کی طرف سے پہنچنے والے نقصان سے محفوظ رہ سکیں"۔

"اے پی ایس کے شہیدوں کی یاد میں ٹی سی ایف کا 141 اسکولوں کی تعمیر کا فیصلہ انتہائی قابل تعریف ہے اور معاشرہ سے انتہاپسند نظریات کے خاتمے کے ذریعے ہمارے ملک کو خوشحال ہونے میں مدد کرے گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی

میں ٹی سی ایف اسکول کا حصہ ہوں.

جواب