https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/10/24/feature-02
| سلامتی

ضربِ عضب نے دہشت گردوں کی خودکش بمبار بھرتی کرنے کی صلاحیت کمزور کر دی ہے

از عدیل سعید

image

پاکستانی فوجی دستے فوجی آپریشن ضربِ عضب کے دوران ایک مشق کے جزو کے طور پر حال ہی میں فاٹا کی شمالی وزیرستان ایجنسی میں ایک محصور علاقے کے باہر گشت کرتے ہوئے۔ [بشکریہ آئی ایس پی آر]

پشاور -- مبصرین کا کہنا ہے پاکستان کی قبائلی پٹی میں جاری فوجی آپریشن اور باقی ماندہ ملک میں مخبری کی بنیاد پر جامع آپریشنوں نے دہشت گردوں کی اپنے خودکش اسکواڈ کے لیے بھرتی کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔

پاکستان کی ششماہی دفاعی رپورٹ کے مطابق، فوجی آپریشن ضربِ عضب نے پاکستان میں خودکش بم دھماکوں کے لیے عسکریت پسندوں کی نئی بھرتی کو راغب کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔

رپورٹ، جو کہ فاٹا ریسرچ سنٹر (ایف آر سی)، پاکستان کے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) پر خصوص توجہ مرکوز کرنے والے پہلے تھنک ٹینک کی جانب سے مرتب کی گئی ہے، سنہ 2016 کی پہلی ششماہی کے لیے دفاعی رجحانات کا جائزہ لیتی ہے۔

یہ عسکریت پسندوں اور انسدادِ عسکریت پسندی سرگرمیوں کی نگرانی، پاکستان میں تنازعہ کے حالیہ رجحانات کے جائزوں جیسے کہ عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد اور اقسام، عسکریت پسندوں کی جانب سے استعمال کردہ حربوں اور حکمتِ عملیوں، اور نتیجتاً ہونے والی اموات کے جائزوں کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ جنوری اور جون کے درمیان، سیکیورٹی فورسز نے انسدادِ عسکریت پسندی کی 255 کارروائیاں انجام دیں، جن کے نتیجے میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کی خراسان شاخ، ٹی ٹی پی کے ایک علیحدہ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار اور دیگر کئی عسکری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 1،629 جنگجو گرفتار ہوئے۔

کارروائیوں میں 660 جنگجو ہلاک اور دیگر 156 زخمی بھی ہوئے۔

خودکش اسکواڈ سکڑ گئے، جنگجوؤں نے حربے بدل لیے

رپورٹ میں کہا گیا، "پورے پاکستان میں کثیر اور متواتر عسکری کارروائیوں کے شروع ہونے کے بعد جنگجوؤں کے حربوں میں بھی بہت زیادہ تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔"

اس میں کہا گیا، مثال کے طور پر، عسکری گروہوں کی نئے بھرتی ہونے والوں کو ترغیب دینے کی ناقابلیت نے ان کے خودکش اسکواڈ کو زیادہ متاثر کیا ہے، نتیجتاً، خود کش بم دھماکوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق، جنگجو ٹارگٹ کلنگز اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) استعمال کرتے ہوئے حملے کرنے پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

پورے ملک میں 79 ٹارگٹ کلنگز ریکارڈ کی گئیں، جو سنہ 2016 کی پہلی ششماہی کے دوران عسکریت پسندی سے متعلق کُل واقعات کا 34 فیصد بنتے ہیں، اور 74 آئی ای ڈی حملے، یا کل واقعات کا 32 فیصد۔ سیکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے 44 گھات لگا کر کیے گئے حملے (کل واقعات کا 19 فیصد)، 13 سرحد پار سے حملے (6 فیصد) اور 12 اغواء (5 فیصد) ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا، اس کے برعکس جنوری اور جون 2016 کے درمیان صرف دس خودکش حملے (کل واقعات کا 4 فیصد) رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا، "آئی ای ڈی حملوں کی بلند ترین شرح فیصد عسکریت پسند حلقوں کے بتدریج تنزل اور ان کی فعال ہونے کی گرتی ہوئی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔"

ایف آر سی رپورٹ نے کہا کہ فاٹا میں پاکستان کی انسدادِ عسکریت پسندی کی شدید کارروائیوں اور بلوچستان، کراچی، خیبرپختونخوا (کے پی) اور پنجاب میں مخبری پر مبنی کارروائیوں نے "عسکریت پسندوں کی پاکستان میں فعال ہونے کی جگہ کو چھین لیا ہے۔"

ایف آر سی ذرائع کے مطابق، "تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، محسود طالبان، لشکرِ اسلام، جماعت الاحرار، القاعدہ، ترکستان اسلامی پارٹی اور اسلامی تحریک ازبکستان (آئی ایم یو) جیسے عسکری گروہ، جو ماضی میں ملک کے اندر فعال تھے، افغانستان کے خوست، پکتیکا، پکتیا اور ننگرہار صوبوں میں محفوظ ٹھکانوں میں منتقل ہو گئے۔"

پُرتشدد انتہاپسندی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنا

پاکستان میں پُرتشدد انتہاپسندی کے خلاف اپنی جدوجہد کی وجہ سے این-پیس ایوارڈ کے لیے حال ہی میں نامزد ہونے والی امن کی کارکن، مسرت قدیم نے کہا کہ پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں دہشت گردوں کے کام کرنے اور لوگوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو توڑنے میں انتہائی مؤثر رہی ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "16 دسمبر 2014 کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر سفاکانہ مسلح حملے کے بعد عسکری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کیے گئے سخت اقدامات نے انتہائی مثبت نتائج ظاہر کیے ہیں اور ملک میں بہت زیادہ حد تک امن بحال ہو گیا ہے۔"

انہوں نے کہا، تاہم، حکام کو پاکستان میں شدت پسندی کی بنیادی وجوہات کی شناخت کے لیے اقدامات کرنے چاہیئیں۔

انہوں نے کہا، "[ہم پر لازم ہے کہ] نئی نسل کو ترقیاتی سرگرمیاں انجام دینے، تعلیم اور ملازمت کو فروغ دینے کے ذریعے اس عفریت سے بچائیں۔"

مسرت نے کہا، "بہتر حکمرانی کو یقینی بنانا، انصاف تک رسائی، مدارس کو منضبط کرنا، نفرت انگیز تقریر پر پابندی، ایک مضبوط جوابی دلیل تیار کرنا اور دہشت گردوں کی سرمایہ کاری کو روکنا یہ سب بھی دہشت گردی کے خلاف کے ضروری اجزاء ہیں جن کی مدد سے ہم انتہاپسندی کے خوف سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔"

ایک دفاعی تجزیہ کار اور اخباری کالم نگار، ملک محمد اشرف نے کہا، "آپریشن ضربِ عضب نے عسکریت پسندوں کی کمر توڑتے ہوئے، انہیں اکٹھے ہونے اور حملہ کرنے سے قاصر بناتے ہوئے امن کی بحالی کے لیے جگہ بنائی ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گرد بھاگ رہے ہیں اور بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے ان کی بہت زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت بہت حد تک شکستہ ہو چکی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو کمزور کرتے اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پہلا مرحلہ تقریباً مکمل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا، "تاہم، دوسرا مرحلہ ہمارے معاشرے کے شدت پسند بننے کے پسِ پُشت نطریات کے خلاف جنگ ہے اور اس میں وقت لگے گا، ہو سکتا ہے دہائیاں لگ جائیں۔"

عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے سماجی مدد

انہوں نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کے بعد، اب شہریوں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں عسکریت پسندوں اور انتہاپسند عناصر کی موجودگی کی بالکل درست نشاندہی کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیں۔"

انہوں نے کہا "عسکریت پسندی کی مکمل تباہی صرف سماجی ارکان کی شمولیت اور ملک میں سیاسی ترقی کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے۔"

فاٹا کے ریٹائرڈ سیکریٹری دفاع بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے حملوں کے نتائج کو اس حقیقت کے ساتھ ناپا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہماری سیکیورٹی فورسز نے پاکستان کے قبائلی علاقے کو مکمل طور پر صاف کر دیا ہے جہاں کبھی جنگجو کھلے عام گھوما کرتے تھے اور اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کے لیے منصوبے تیار کیا کرتے تھے۔"

پشاور سے ایک بڑے صحافی عقیل یوسفزئی جو کہ دفاعی امور پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، نے کہا، "بم دھماکوں کا خوف، جس نے کبھی پورے ملک خصوصاً کے پی اور فاٹا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، اب مزید نہیں ہے اور لوگ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں کیونکہ دہشت گردوں کی فعال ہونے کی صلاحیت ختم کر دی گئی ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے سخت اقدامات کی وجہ سے، دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو توڑ دیا گیا ہے اور ان کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوسرے مرحلے کی توجہ انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کے خطرات کو نمایاں کرنے کے ذریعے لوگوں کی ذہنیت کو تبدیل کرنے پر مرتکز ہونی چاہیئے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
4
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

سب سے بڑی چیز کرپشن ہے کرپشن ختم تو ایسا سمجو کے دشتگردی ختم ہوگیا

جواب