https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/10/17/feature-01
| حقوقِ انسانی

عالمی برادری نے امن کی پاکستانی کارکن کو اعزا سے نوازا

از عدیل سعید

image

پیمان ایلومنی ٹرسٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، مسرت قدیم 2013 میں پشاور میں نوجوانوں کے ایک میڈیا میلے میں شریک ہیں۔ مسرت (درمیان میں) کو وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں تعصب پسندی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف ان کی انتھک کوششوں کے اعتراف میں بین الاقوامی این-پیس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ [تصویر بشکریہ عدیل سعید]

پشاور -- پاکستانی امن کی کارکن مسرت قدیم کی پاکستان، خصوصاً عسکریت پسندی سے گھرے علاقوں میں تعصب اور انتہاپسندی کے خلاف لڑائی کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

ہر سال این-پیس ایوارڈ، جس کا اہتمام این-پیس نیٹ ورک اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی جانب سے کیا جاتا ہے، تین زمروں میں خواتین اور امن کوششوں پر کام کرنے والے علاقائی رہنماؤں کی قدر افزائی کرتا ہے: ان کہی کہانیاں - نچلی سطح سے اپنے علاقوں کو تبدیل کر رہی خواتین، عمل کے لیے مہم چلانا - قومی سطح پر امن کے لیے تحریک دے رہے خواتین و حضرات، اور امن کی نسل - اپنے علاقوں میں امن قائم کر رہے نوجوان (30 سال سے کم عمر) خواتین و حضرات۔

این-پیس نیٹ ورک پاکستان، نیپال، انڈونیشیاء، افغانستان، میانمار اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے امن کے حمایتیوں پر مشتمل ہے۔

امن کے لیے مہم چلانا

مسرت کو پاکستان میں فروغِ امن اور سماجی اتصال سے ان کی اختراعی سوچوں اور وابستگی کے لیے "عمل کے لیے مہم چلانا" زمرے کے تحت این-پیس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں واقع ایک بلامنافع کام کرنے والی تنظیم، پیمان ایلومنی ٹرسٹ کی انتظامی ڈائریکٹر، مسرت نے تنازعات کی روک تھام اور حل کے لیے پورے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں ہزاروں نوجوان لوگوں اور خواتین کی مدد کی ہے۔

مسرت اپنے زمرے میں 23 نامزد ہونے والوں میں سے ایک ہیں، جن میں سے ایک مرد اور ایک خاتون کو ایوارڈ دیا جائے گا۔ سنہ 2016 کے انعام یافتگان کا اعلان 24 اکتوبر کو ہو گا۔

مسرت کی زیرِ قیادت، پیمان نے مقامی امن گروپ بنائے ہیں جو تولانا، پشتو کا ایک لفظ جس کا مطلب "اجتماعیت" ہے، کہلاتے ہیں۔ 32 مائیں اور 55 نوجوان جو تولانا میں کام کرتے ہیں سماجی ثالثی، مکالمے اور آگاہی کے ذریعے پرتشدد انتہاء پسندی پر توجہ دیتے ہیں۔

نامزد کرنے والی کمیٹی کے مطابق، انہوں نے "54 عداوتوں کا تصفیہ کرنے اور انتہاپسند گروہوں کے منصوبوں کو بے نقاب کرتے ہوئے پرتشدد انتہاء پسندی/بم دھماکوں کے آٹھ معاملات کو روکنے میں مدد کی ہے۔"

این-پیس نیٹ ورک نے کہا، "مسرت فخریہ طور پر دعویٰ کر سکتی ہیں کہ اس پلیٹ فارم سے انہوں نے علاقے کے افراد میں آگاہی پیدا کرتے ہوئے، انہیں چوکس بناتے ہوئے اور سب سے بڑھ کر ماؤں کو بااختیار بناتے ہوئے، سینکڑوں اور ہزاروں نوجوانوں کو انتہاپسند بننے سے روکا ہے۔ وہ انتہاپسندوں کے گھروں، اسکولوں اور کام کے مقامات پر جاتی ہیں اور ایسے لوگوں سے بات چیت کرتی ہیں جو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس اور کوئی متبادل نہیں ہے۔"

سب کے لیے ایک تحریک

مسرت نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "این-پیس ایوارڈ کے لیے نامزدگی نے میرے اندر میرے دہشت گردی سے متاثرہ ملک میں امن لانے کے لیے مزید کوششیں کرنے اور اسے ایک آگے بڑھنے والا اور ترقی یافتہ ملک بنانے کا ایک نیا جذبہ اور حوصلہ بھر دیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "میری امن کوششوں کے پیچھے مقصد پاکستان کو ایک ایسا پُرامن ملک بنانا ہے جہاں لوگوں کو تعلیم کے مساوی حقوق ملیں، انسانی حقوق محفوظ ہوں، اور ہر کوئی پورے احترام اور عزت سے زندگی بسر کرے۔"

انہوں نے کہا، "پیمان کے پلیٹ فارم سے، ہم نے فاٹا اور کے پی میں لچکدار اور چوکس گروہ تخلیق کرنے کے لیے پرتشدد انتہاء پسندی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک اندرونی علاقائی نظام کے طور پر کام کرنے کے لیے نوجوان لڑکوں اور ماؤں کی ایک ٹیم بنائی جو تولانا کہلاتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ خیال سنہ 2008 میں پیمان کی ایک مہم کے دوران لیا گیا تھا جس کا عنوان تھا "آئیے امن سے رہیں۔"

مسرت کے مطابق، تولانا ٹیم کے ارکان کی کوششوں کی وجہ سے، متعصب نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد، خصوصاً قبائلی علاقہ جات میں، کامیابی کے ساتھ "امن پسندوں" میں تبدیل کر دی گئی۔"

انہوں نے کہا کہ پروگرام نے کے پی اور فاٹا میں پرتشدد انتہاء پسندی کے اسباب و علل سے علاقے کے تقریباً 250،000 ارکان کو زود اثر بنایا، اور اس کردار سے جو وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ادا کر سکتے ہیں۔

مسرت نے کہا، "ابھی تک ہماری ٹیم کے ارکان کے پی اور فاٹا کے مختلف حصوں میں 35،000 زدپذیر مردوں اور 11،500 زدپذیر خواتین تک پہنچنے کے قابل رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کم از 1،256 متعصب لوگوں کو پرتشدد انتہاء پسندی چھوڑنے کے لیے قائل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانا

کے پی امورِ داخلہ و قبائل کے شعبے کے سابق سیکریٹری، سید اختر علی شاہ نے کہا کہ اعلیٰ درجے کی شہرت یافتہ ایوارڈ کے لیے مسرت کی نامزدگی پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانے میں مدد کرے گی جو بین الاقوامی دہشت گردی کی وجہ سے مسخ ہو گیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مسرت قدیم نے پرتشدد انتہاء پسندی کے خلاف ایک بہت پختہ وابستگی اور مشنری جذبے کے ساتھ کام کیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ایوارڈ کے لیے ان کی نامزدگی عالمی برادری کو ایک پیغام دے گی کہ پاکستانی شہری امن کے خواہاں ہیں، اور ان میں سے کچھ ملک میں قیامِ امن کے لیے بہت فعال طریقے سے کام کر رہے ہیں۔"

ڈاکٹر فضلِ اکبر، ایک معالج جو پیمان کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں نے کہا، "مسرت قدیم نے سینکڑوں ہزاروں نوجوانوں کو لوگوں میں معاشرے اور اس کے ارکان کے لیے تعصب پسندی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے ذریعے انتہاء پسند بننے سے روکا ہے۔"

پشاور یونیورسٹی میں ایک لیکچرار اور کے پی میں انسدادِ تعصب پسندی میں خصوصی مہارت رکھنے والے واحد استاد، محمد ظفر نے کہا، "ہمارے خطے میں، انتہاء پسندی نے بڑی تیز رفتاری سے جڑیں بنائی ہیں اور بحالیٔ امن کی کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔"

ظفر نے اس امید کا اظہار کیا کہ مسرت کی نامزدگی انہیں اور دیگر امن کارکنوں کو اس مسئلے پر اپنا کام جاری رکھنے کی ترغیب دے گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "انتہاء پسندی میں جکڑے ہوئے ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کی کوششیں کرنا ایک طوفان میں چلنے کے برابر ہے اور ایسی کوششوں کے تسلسل کے لیے حوصلہ افزائی انتہائی ضروری ہے۔"

انہوں نے کہا، "مسرت پاکستان میں اپنی امن کوششوںکے لیے اعلیٰ ترین تحسین کی حقدار ہیں اور ان کی نامزدگی امن اور عدم تشدد کے لیے ہماری آرزو کے بارے میں عالمی برادری کو ایک اچھا پیغام دے گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

میں انجنیئرنگ کا طالبِ علم ہوں اور آپ کے معاشرے کا جزُ بننا چاہتا ہوں۔

جواب

مصنف سے قطعی متفق ہوں۔

جواب

میں درج بالا آراء سے قطعی متفق ہوں۔ محترمہ مسرّت نے پاکستان میں قیامِ امن کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے، بطورِ خاص فاٹا کی زدپزیر کمیونیٹیز کے لیے۔ ہم مسرّت کے مشکور ہیں اور ان کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ محترمہ مسرّت کو سلام۔

جواب