https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/10/14/feature-02
صحت

پاکستان کے پی، فاٹا میں صحت کے شعبے کو مضبوط بنا رہا ہے

از اشفاق یوسفزئی

image

ستمبر میں اورکزئی ایجنسی میں ایک ڈاکٹر مریض کی آنکھوں کا معائنہ کرتے ہوئے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور -- زچہ و بچہ کی صحت کو بہت بنانے کے لیے پاکستانی حکومت خیبرپختونخوا (کے پی) اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں مزید خواتین ڈاکٹروں کو تعینات کر رہی ہے۔

کے پی محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل پرویز کمال نے کہا، "ہم نے 1،100 ڈاکٹروں کو تعینات کیا ہے، جن میں 500 خواتین میڈیکل افسران شامل ہیں، جنہیں کے پی میں صحت مراکز میں تعینات کیا جائے گا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حکومت دہشت گردی سے نقصان زدہ علاقوں، خصوصاً مالاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع میں صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کو اولین ترجیح بنا رہی ہے۔

صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو

سنہ 2005 اور 2014 کے درمیان، طالبان جنگجوؤں نے کے پی اور فاٹا میں صحت کے کم از کم 300 مراکز کو تباہ کر دیا تھا، جس سے مکینوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو گئے۔

کمال نے کہا، "ہم نے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بیماریوں کے بوجھ سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی وہاں اضافی ادویات، سامان اور جراحی کے آلات مہیا کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے خواتین کی صحت خصوصاً بہت زیادہ متاثر ہوئی تھی، جس نے صحت مراکز کو نقصان پہنچایا اور خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں کو گھروں میں رہنے کی تنبیہ کی تھی۔

انہوں نے کہا، "حمل سے متعلقہ پیچیدگیوں کی وجہ سے امواتِ زچہ بچہ کو کم کرنے کے لیے ہم مالاکنڈ ڈویژن میں مزید خواتین ڈاکٹروں کو بھیج رہے ہیں۔"

سوات کے ضلعی صحت افسر ڈاکٹر سید علی خان نے کہا کہ طالبان نے سنہ 2007 اور 2009 کے درمیان جو کچھ تباہ کیا تھا حکام اس کی تعمیرِ نو پہلے ہی شروع کر چکے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم نے جنگجوؤں کے ہاتھوں نقصان زدہ 14 مراکز کو پہلے ہی دوبارہ تعمیر کر دیا ہے اور تقریباً 200 خواتین صحت اہلکاروں کو دوبارہ تعینات کر دیا ہے جنہیں طالبان نے استعفے دینے پر مجبور کر دیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ، طالبان کے تشدد نے ان گنت لوگوں کو معذور بنا دیا۔ ان لوگوں کی چلنے پھرنے اور آزادی دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کے لیے، صحت مراکز ضرورت مندوں کو مفت فزیو تھیراپی اور وہیل چیئرز فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا، طالبان جنگجوؤں نے لوگوں کو ان صحت سہولیات جن کے وہ حقدار تھے، سے محروم کرنے کے لیے صحت مراکز کو تباہ کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ویکسینیشن پر پابندی لگانے اور بچوں کو ویکسین سے قابلِ روک تھام بچپن کی بیماریوں کی زد میں لانے پر ہم طالبان جنگجوؤں کی مذمت کرتے ہیں۔"

فاروق نے محکمۂ صحت کو فساد سے متاثرہ تمام علاقوں میں مزید عملہ اور وسائل مہیا کرنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا، "دیگر علاقوں کے علاوہ، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور چترال میں مراکز کو جدید بنانے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ وہاں مریضوں کے مفت علاج کو یقینی بنایا جائے۔ ان اضلاع نے قریبی فاٹا میں دہشت گردی کی وجہ سے نقصان اٹھایا ہے۔"

زچہ، بچہ کی صحت کو بہتر بنانا

پشاور کے ایک معالج، ڈاکٹر فیاض علی نے کہا کہ انہیں فاٹا اور کے پی میں صحت کے ناقص اشاریوں کے بارے میں تشویش ہے اور وہ مکینوں کی صحت کے مصائب، خصوصاً زچہ کی بلند شرح اموات کے لیے جنگجوؤں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان میں ہر 100،000 زچگیوں میں تقریباً 206 خواتین انتقال کر جاتی ہیں، جبکہ کے پی اور فاٹا میں صورتحال مزید سنگین ہے کیونکہ ہر 100،000 زچگیوں میں 300 خواتین انتقال کر جاتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "زچگی سے متعلقہ پیچیدگیوں کو روکنے کے لیے حکومت کو ایمبولنسیں، تربیت یافتہ دائیاں اور ادویات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔"

کے پی میں نوزائیدہ اور شیرخوار بچوں کی صحت کے شعبے کے سربراہ، ڈاکٹر صاحب گل نے کہا کہ حکومت اگلے دو برسوں میں ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے 16.2 ملین ڈالر سے زائد رقم خرچ کر رہی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم ایمبولنسیں فراہم کر رہے ہیں یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ہنگامی مریضوں کو فوری دیکھ بھال میسر ہو، خصوصاً کے پی کے عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں۔"

انہوں نے کہا کہ حفاظتی ٹیکوں، غذائیت اور خواتین صحت اہلکاروں کو تربیت دینے پر بھی توجہ مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا، "گزشتہ دو ماہ میں، ہم نے 1،340 مقامی دائیوں، 46 خواتین ڈاکٹروں اور 98 لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہسپتالوں میں تعینات کیا ہے تاکہ کے پی میں خواتین کو وضع حمل میں ہنگامی دیکھ بھال میسر ہو۔"

لیڈی ہیلتھ ورکرز صحت کی علاقائی خواتین اہلکار ہوتی ہیں جو عام بیماریوں کے تدارک اور علاج میں تربیت یافتہ ہوتی ہیں، خصوصاً ایسی بیماریاں جو پانچ سال سے کم عمر بچوں اور خواتین کے صحت کے مسائل سے متعلقہ ہیں۔

گل نے کہا، "ہمارا ہدف ہے کہ وضع حمل کی جامع ہنگامی دیکھ بھال تیار کریں اور سرکاری ہسپتالوں ور دیہاتی علاقوں میں ماؤں اور بچوں دونوں کو صحت کی سہولیات فراہم کریں۔"

انہوں نے مزید کہا، "مالاکنڈ ڈویژن کو مزید امداد کی ضرورت ہے یہ یقینی بنانے کے لیے کہ حمل سے متعلقہ کیسز تربیت یافتہ دائیاں سنبھالیں اور اگر ضرورت ہو، تو وہ خواتین جنہیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے انہیں خصوصی علاج کے لیے قریب ترین ہسپتال پہنچایا جائے۔"

فوجی آپریشن نے فاٹا میں شعبۂ صحت کو کھول دیا ہے

فاٹا صحت خدمات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جواد حبیب نے کہا کہ عسکریت پسندی نے فاٹا میں صحت کے شعبے کو بھاری نقصان پہنچایا ہے کیونکہ زیادہ تر عملہ کام پر آتے ہوئے ڈرتا تھا، جس سے مریض چھوٹی موٹی بیماریوں تک کے لیے بھی کے پی کے صحت مراکز پر جانے پر مجبور تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے صحت سہولیات کو دیہاتی علاقوں تک وسیع کرنے کے لیے فاٹا میں 1،050 ڈاکٹر تعینات کیے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اب، ہم نے خواتین کی بیماریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 200 خواتین میڈیکل افسران اور 150 نرسوں کو تعینات کیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "فاٹا میں 450 صحت مراکز پر آبادی کو مفت علاج مہیا کرنے کے لیے کم از کم 10 ماہرینِ اطفال اور 20 گائنالوجسٹ اور 210 میڈیکل افسران کی خدمات میسر ہوں گی۔"

حبیب نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں کے خلاف کامیاب فوجی آپریشن کے ساتھ، صحت سہولیات کی فراہمی میں بہتر آئی ہے، بشمول دیہاتی علاقے، کیونکہ اب ہسپتال محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا، "ماضی میں، صحت اہلکار فاٹا کے ہسپتالوں میں کام کرنے سے ہچکچاتے تھے، خصوصاً رات کی شفٹوں کے دوران، لیکن فوج کی موجودگی کے ساتھ خوف ختم ہو گیا ہے۔"

ہسپتال کے میڈیا اور پروٹوکول افسر، فرہاد خان کے مطابق، جب عسکریت پسندی اپنے عروج پر تھی، پشاور میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں فاٹا سے بہت سے مریض آتے تھے۔

انہوں نے کہا، "گزشتہ دو برسوں سے، علاقے میں سہولیات بہتر ہونے کی وجہ سے پشاور کے ہسپتالوں میں فاٹا کے مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔"

انہوں نے کہا، "اب، یہاں صرف شدید یا دائمی بیمار مریض آ رہے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

جناب میں صحت کے حوالہ سے فاٹا کے لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں میں آنکھوں کا ڈاکٹر بن رہا ہوں

جواب

ماشاءالله

جواب