https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/08/23/feature-02
جرم و انصاف

سندھ میں عدالتوں کی حفاظت کے لیے رینجرز تعینات

از آمنہ ناصر جمال

image

12 اگست کو کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے باہر رینجرز پہرہ دیتے ہوئے۔ [آمنہ ناصر جمال]

کراچی -- 8 اگست کو بلوچستان میں کوئٹہ سول ہسپتال پر خود کش بم دھماکے کے بعد قانونی برادری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سندھ رینجرز کو سندھ ہائی کورٹ، شہری عدالتوں، خصوصی عدالتوں اور ٹربیونلز پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

ایک خود کش بمبار نے بلوچستان کے دارالحکومت کی قانونی برادری کو اس وقت قتل و غارت کو نشانہ بنایا تھا جب اس نے خود کو ہسپتال میں دھماکے سے اڑا لیا اور کم از کم 70 افراد جاں بحق ہو گئے۔تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے جماعت الاحرار اور "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) دونوں نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

جاں بحق ہونے والے میں چند صحافیوں کے علاوہ تقریباً باقی سبھی وکلاء تھے۔ وہ اس روز بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کے قتل کے بعد ہسپتال میں جمع ہوئے تھے۔ وکلاء ان کا سوگ منانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

اپنی برادری کے خلاف دہشت گردی پر احتجاج کرنے کے لیے ملک بھر میں وکلاء نے 9 اگست کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اسی روز سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بلال اکبر نے سندھ ہائی کورٹ میں وکلاء سے ان کے تحفظ پر تشویشوں پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے ملاقات کی تھی۔

پاکستان بار کونسل، سندھ بار کونسل، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر قانونی تنظیموں کے نمائندگان کے ساتھ ملاقات کے بعد، بلال نے 11 اگست کو رینجرز تعیناتکرنے کا فیصلہ کیا۔

عدالتوں کے لیے حفاظتی منصوبہ

پاکستان بار کونسل کے نائب صدرنشین فروغ نسیم نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک گھنٹہ طویل ملاقات کے دوران، بلال نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حال ہی میں صوبے میں دہشت گردی کے 34 واقعات کو رونما ہونے سے روکا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کوئٹہ کے واقعات کے فوراً بعد، سندھ رینجرز سے صوبے میں عدالتوں اور وکلاء کے لیے سیکیورٹی مانگنے کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔ رینجرز نے موبائل فون درخواستوں کے ذریعے قانونی برادری کے ارکان کے اندراج کا بھی آغاز کیا ہے۔"

نسیم نے کہا کہ وکلاء اور عدالتوں کے لیے پورے ملک میں ایک حفاظتی منصوبہ تشکیل دینے کے لیے وہ رینجرز ڈائریکٹر جنرل اور پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیکیورٹی کے سربراہان کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گرد وکلاء اور صحافیوں پر بزدلانہ حملے کر کے انہیں زیر نہیں کر سکتے۔"

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات درکار

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، کراچی کے سابق سیکریٹری، ریحان عزیز ملک نے کہا، "میں کوئٹہ میں معصوم وکلاء اور دیگر شہریوں کے بے رحمانہ قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ دہشت گردی سے وکلاء کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم سیکیورٹی کے لیے لڑیں گے، [اور] ہم سندھ سے ابتداء کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ وکلاء کی ٹارگٹ کلنگ اور ناقص سیکیورٹی ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ "اس کا مقابلہ کرنے کے لیے، کراچی میں ضلعی عدالتوں کی عمارات اور سندھ ہائی کورٹ کی عمارت میں اور ان کے اردگرد حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے، جو کہ ۔۔۔ بہت پہلے ہو جانا چاہیئے تھا۔"

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں، اور خصوصاً کراچی میں امن و امان کی ناقص صورتحال، فوری اور سنجیدہ کارروائی کی متقاضی ہے۔

ملک نے کہا، "اس عفریت کو قابو کرنے کے لیے حکومت کو مزید سنجیدہ اور انتہائی تاکیدی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ فی الحال، دفاعی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔"

ملک نے مزید کہا، "سندھ ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں ۔۔۔ کے داخلی اور خارجی مقامات پر رینجرز کی تعیناتی ہر ایک کو نظر آ سکتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمارے ملک میں امن واپس لانے کے لیے خدا ہماری مدد کرے۔"

عدالتوں میں زیادہ حفاظتی اقدامات

حکام سندھ میں تمام عدالتوں میں سخت حفاظتی اقدامات کا اطلاق کر رہے ہیں۔ وکلاء، مقدمہ بازوں اور دیگر ملاقاتیوں پر داخلے سے قبل حفاظتی جانچ پڑتال میں سے گزرنا لازمی ہے۔

جیل میں سے لائے جانے والے قیدیوں کی حفاظت کے انچارج سب انسپکٹر، کراچی کے خالد خان نے کہا، "ہزاروں افراد روزانہ شہری عدالتوں میں آتے ہیں۔ رینجرز کی تعیناتی نے شہری عدالتوں کی عمارت کے پانچ داخلی اور خارجی راستوں پر افرادی قوت میں اضافہ کر دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس ایچ سی بی اے) حیدرآباد اور ضلعی بار ایسوسی ایشن حیدرآباد کے وفود نے بھی رینجرز حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی۔

ایس ایچ سی بی اے کے صدر ایاز تونیو نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "رینجرز نے عدالتوں کی حفاظت کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)