https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/08/15/feature-01
| ٹیکنالوجی

بلوچستان پولیس کو انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی تربیت دے رہا ہے

از عبدالغنی کاکڑ

image

بلوچستان پولیس 28 جولائی کو کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی کی تربیت حاصل کرتے ہوئے۔ فوج بلوچستان میں پولیس اور دیگر دفاعی قوتوں کو انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی تربیت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ [تصویر بشکریہ عبدالغنی کاکڑ]

کوئٹہ -- وزارتِ داخلہ کے حکام نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستانی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے میں صوبہ بلوچستان کی پولیس اور لیویز فورس کے اہلکاروں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے کوئٹہ سول ہسپتال میں ایک خودکش بمبار کی جانب سے 70 افراد کو ہلاک کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ صوبائی حکام کو ڈر ہے کہ صوبے میں دہشت گرد اپنی نظریں "آسان" اہداف پر مرکوز کر سکتے ہیں۔

فوج کی جانب سے مدد

فوج کی جانب سے تربیت جلد ہی دی جا رہی ہے۔

ایک اعلیٰ دفاعی عہدیدار، کوئٹہ کے محمد بلال درانی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستانی فوج کا انسدادِ دہشت گردی یونٹ پولیس اور لیویز فورس کے اہلکاروں کے پہلے دو بیچوں کا انتخاب کرنے کے بعد انہیں خصوصی تربیت دے گا۔"

انہوں نے کہا کہ تربیت میں "فوری اور درست نشانہ لگانا، منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کرنا، ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جنگ" اور دیگر مہارتیں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکام تربیت حاصل کرنے والوں کے "ٹریک ریکارڈ کی بنیاد پر" ان کا انتخاب کریں گے۔

انہوں نے کہا، شروع میں، تربیت 30 دن کی ہو گی، لیکن "اس کو بڑھا کر دو ماہ کیا جا سکتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "تربیت کے دوسرے مرحلے میں ۔۔۔ پولیس اور لیویز فورس کے اہلکار انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کرنے والے پیچیدہ آلات کو استعمال کرنے کے بارے میں دو ہفتے کا ایک خصوصی کورس کریں گے۔"

انہوں نے مزید کہا، "یہ تربیت ہمارے محکموں کو اندرونی سلامتی کے چیلنجز پر پورا اُترنے کے قابل بنائے گی۔"

انہوں نے کہا کہ فوج پہلے بھی مدد کر چکی ہے۔

درانی نے کہا، "سنہ 2013 میں، فوج نے سینکڑوں پولیس افسران کو انسدادِ دہشت گردی کی تربیت دینے کے علاوہ، بلوچستان پولیس کو 5،000 ہتھیار اور 500،000 روپے (4،778 امریکی ڈالر) مالیت کا اسلحہ فراہم کیا تھا۔"

کوئٹہ کے مقامی دفاعی تجزیہ کار محمد ندیم نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ بلوچستان میں مقامی محکموں کو کوئٹہ میں حالیہ خود کش دھماکے جیسے فساد کی روشنی میں، "انسدادِ دہشت گردی کی جدید تربیت کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا، "بلوچستان میں، پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تربیت ۔۔۔ بہت مفید ثابت ہو گی۔"

ندیم نے کہا جیسا کہ کوئٹہ بم دھماکے سے ظاہر ہوا ہے، بلوچستان میں دہشت گرد گروہوں "نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے" انہوں نے مزید کہا کہ اس پیش رفت نے پولیس اور لیویز کی تربیت کو ایک فوری امر بنا دیا ہے۔

خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پُرعزم

صوبائی وزیر برائے داخلہ و قبائلی امور، میر سرفراز بگٹی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کو نافذ کرنے کے لیے تہہ دل سے پُرعزم ہے۔"

انہوں نے کہا، "انٹیلیجنس اہلکاروں کی جانب سے کی جانے والی خصوصی کارروائیاں دہشت گرد گروہوں کے منصوبوں کو بے نقاب کر رہی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کا مقصد ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔ دہشت گرد گروہ ۔۔۔ صوبے میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔"

انہوں نے کہا "ہمیں امید ہے کہ پولیس اور لیویز کے نئے تربیت یافتہ اہلکار صوبے کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید طاقت کا اضافہ کریں گے۔"

قبائل سے مدد کے متلاشی

فوج بلوچستان میں قبائل سے اٹھ کھڑے ہونے اور دہشت گردی کو شکست دینے میں ہاتھ بٹانے کے لیے کہہ رہی ہے۔

فوج کی جنوبی کمانڈ کے کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے 29 جولائی کو چمن میں قبائلی عمائدین کے ایک جرگہ سے کہا، "قبائلی عمائدین اور ان کے قبیلوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ایک مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے آگے آئیں۔"

انہوں نے کہا، "قبائلی عمائدین کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ایسے عناصر کی شناخت کریں جو بدامنی میں ملوث ہیں۔ امن غالب آئے گا ۔۔۔ ہمیں مل جُل کر کام کرنا ہو گا۔"

ریاض نے کہا، "دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha