https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/08/09/feature-01
| دہشتگردی

پاکستان میں شرپسندی نے ہزاروں خاندان برباد کر دیے

جاوید محمود

image

4 جولائی کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف بنوں میں عارضی طور پر بے دخل افراد کے ساتھ ایک شام گزار رہے ہیں۔ انہوں نے نوآبادکاری اورترقیاتی کام کے پہلوؤں پر بات چیت کی۔ [بشکریہ جاوید محمود]

کراچی — رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شرپسندی نے خیبرپختونخوا (کے پی) اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کے ان خاندانوں کی زندگیاں برباد کر دی ہیں جو قبل ازاں خوشحال تھے۔

میران شاہ، شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی مہرین خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم ایک خوش اور آسودہ حال زندگی گزار رہے تھے، لیکن چند برس قبل دہشتگردی نے ہمیں برباد اور بے گھر کر دیا۔“

انہوں نے اپنی املاک کی مالیت 20 ملین روپے (200,000 امریکی ڈالر) بتاتے ہوئے کہا، ”میرا خاندان چند دکانوں اور ایک چھوٹی آٹا چکی کا مالک تھا۔ ہم ایک کشادہ گھر میں رہتے تھے۔“

سب کچھ کھو دینا

انہوں نے کہا، ”چند برس قبل تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے شرپسندوں نے ۔۔۔ ہمارے علاقے میں زبردستی نوجوان مردوں کو بھرتی کرنا اور ٹی ٹی پی کی حمایت نہ کرنے والوں کو بدترین نتائج کی دھمکی دینا شروع کر دیا۔“

انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان چار برس قبل اپنی جان کے خطرے سے اسلام آباد چلا آیا۔

انہوں نے اشکبار ہو کر کہا، ”گزشتہ عید الفطر کے دوران ہم اپنے آبائی گھر گئے اورپتہ چلا کہ ہماری دکانیں، چکی اور گھر برباد ہو چکے ہیں۔ ہماری دکانوں اور گھر کے تالے اور دروازے ٹوٹے ہوئے تھے۔ ہمارا مال و اسباب زنگ آلود ہو چکا تھا۔“

انہوں نے کہا، ”میرے خاوند کی اسلام آباد میں ایک سرکاری ملازمت ہے، اور اب یہی ہمارا آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ تاحال کچھ پتہ نہیں کہ ہمیں اپنی املاک اور کاروبار کی بحالی کے لیے حکومت سے کس قدر امداد ملتی ہے۔“

مہرین نے کہا کہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں ان کے خاندان جیسے اور کئی خاندان ایسی ہی صورتِ حال سے دو چار ہوئے ہیں۔

کسان سے موچی تک

باجوڑ ایجنسی میں زرعی زمین اور مویشیوں کے مالک خاندان سے تعلق رکھنے والے گل خان نے بھی ایسی ہی روداد بیان کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے، لیکن چند برس قبل اچانک طالبان اس علاقہ میں آن گھسے اور ہماری زندگیاں بدحال کر دیں۔“

گل ہجرت کر کے کراچی چلے گئے اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے نواح میں ایک موچی کے طور پر کام کر کے گزر بسر کر رہے ہیں۔ وہ یہاں باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک دوست کے ساتھ مفت رہتے ہیں، جو کہ ڈی ایچ اے کے ایک دفتر میں چوکیدار کے طور پر کام کرتا ہے۔

گل اپنے چھوٹے کاروبار سے جو بھی روپیہ بچاتے ہیں، وہ باجوڑ ایجنسی میں اپنے اہلِ خانہ کو بھیج دیتے ہیں۔

انہوں نے شرپسندوں اور دہشتگردوں کے خلاف جون 2014 سے جاری پاک فوج کے آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”اگرچہ فوج نے کئی برس قبل باجوڑ میں ٹی ٹی پی کا گڑھ صاف کر دیا تھا، تاہم آپریشن ضربِ عضب متعدد دیگر علاقے صاف کر رہا ہے۔“

انہوں نے کہا، ”لیکن شرپسندی نے ہمیں مکمل طور پر برباد کر دیا ہے۔“

کسی دور کے لکھ پتی

کوئٹہ کے قریب انگور اور سیب کے باغات کے مالک، طارق خان نے کہا کہ چند ہی برس قبل وہ ایک لکھ پتی تھے۔ اب وہ اور ان کے اہلِ خانہ بغیر کسی کاروبار کے کراچی میں رہتے ہیں۔

خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں شرپسندی کے خطرہ کو نہایت کم کر دیا ہے، وہ کوئٹہ واپس جا کر اپنے باغات اور اپنے ذریعۂ معاش کو بحال کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

واپسی کی امّید

2014 کے بعد سے شرپسندوں کو مارنے اور انہیں نکال باہر کرنے میں فوج کی کامیابیاں عارضی طور پر بے گھر افراد (ٹی ڈی پیز) کی گھر واپسی کو ممکن بنا رہی ہیں۔

وزارتِ سٹیٹس و سرحدی علاقہ جات کے جائنٹ سیکریٹری اور ترجمان کیپٹن (ریٹائرڈ) طارق حیات نے کہا کہ حکومت بے گھر افراد کی گھر واپسی کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”رواں اکتوبر تک، ہم 400,000 عارضی طور پر بے گھر خاندانوں کی شمالی اور جنوبی وزیرستان اور اورکزئی ایجنسی کو واپسی کے کام کو مکمل کریں گے۔ ہم پہلے ہی 345,000 خاندانوں کو واپس بھیج چکے ہیں، اور اکتوبر تک باقی 55,000 خاندان بیان شدہ علاقوں میں دوبارہ آباد کر دیے جائیں گے۔“

انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ہر خاندان کو چھ ماہ تک ہر ماہ 90 کلوگرام خوراک کے پیکٹس کے ساتھ 35,000 روپے (350 امریکی ڈالر) بطور نقد معاونت ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاوہ ازیں حکومت خاندانوں کو تباہ شدہ گھروں کی تلافی کے لیے 400,000 روپے (4,000 امریکی ڈالر) اور نقصان زدہ گھروں کے لیے 160,000 روپے (1,600 امریکی ڈالر) ادا کر رہی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha