دہشتگردی

بلوچستان میں شرپسندوں کی کمین گاہوں پر کریک ڈاؤن

عبدالغنی کاکڑ

image

12 جولائی کو کوئٹہ میں پاکستانی حکام ضبط شدہ اسلحہ اور گولہ بارود کی نمائش کر رہے ہیں۔ فرنٹیئر کور نے اسی روز بلوچستان کے علاقہ ٹوبہ اچکزئی سے یہ اشیاء ضبط کیں۔ [عبدالغنی کاکڑ]

کوئٹہ — عہدیداران نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں انسدادِ شورش کے ایک خصوصی آپریشن کے نتیجہ میں چھ چوٹی کے دہشتگرد گرفتار ہوئے اور دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی سمیت اسلحہ کا ایک بڑا ذخیر ضبط کر لیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز نے 12-14 جولائی کو ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقوں ٹوبہ اچکزئی اور چمن میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔

یہ آپریشن انسدادِ دہشتگردی کے قومی ایکشن پلان کا جزو تھا، جس کا آغاز پاکستان نے دسمبر 2014 میں کیا۔ بلوچستان انسدادِ دہشتگردی ڈیسک کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار، محمّد عمران نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حکام نے ”بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں شرپسند گروہوں کے از سرِ نو ظہور کو ناکام بنانے کے لیے“ یہ چھاپہ مارا۔

انہوں نے کہا، ”ماضی میں پاک-افغان سرحد کے قریب بلوچستان کے متعدد بے امن علاقے شرپسندوں کے گڑھ رہے ہیں اور ہمیں خبریں ہیں کہ اب بھی قلعہ عبداللہ، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور صوبے کے دیگر ملحقہ علاقوں میں شرپسندوں کی پوشیدہ کمین گاہیں موجود ہیں۔“

عمران نے کہا، ”شرپسندوں کی کمان کی کڑی اور معاون نیٹ ورک کو تباہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔“

کامیاب آپریشن

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک اعلیٰ عہدیدار منظور احمد نے کہا کہ حکام نے چمن کے سرحدی شہر کے قریب دریافت ہونے والے ایک احاطے سے چھ دہشتگرد ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، ”ٹوبہ اچکزئی اور چمن میں سرچ آپریشنز کے دوران بازیاب ہونے والے اسلحہ میں 107 ایم ایم کے 20 میزائل، 43 انتہائی دھماکہ خیز دستی بم، 36 آر پی جی-7 راکٹ، 60 مارٹر گولے، دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی اور دیگر اسلحہ شامل ہے۔“

انہوں نے گروہ کی شناخت بتائے بغیر کہا، ”گرفتار ہونے والے ملزمان صوبے کے مختلف علاقوں میں بم حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ایک کالعدم شرپسند تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے۔“

احمد نے کہا، ”صوبے کے دیگر حصوں میں بھی ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے اور ایف سی، لیویز فورس، اور نفاذِ قانون کی دیگر ایجنسیوں کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ عسکریت پسندوں کے خلاف اس کامیاب مہم سے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔“

عمران نے کہا کہ گرفتار شدگان نے انکشاف کیا کہ ان کا نیٹ ورک بلوچستان میں اغوا برائے تاوان، بنک ڈکیتیوں اور دیگر مجرمانہ کاروائیوں میں ملوث تھا، جو کہ ان کی فنڈ ریزنگ کے ایک بڑے جزُ پر مشتمل تھا۔

انہوں نے جون 2014 میں پاک فوج کی جانب سے شروع کی گئی انسدادِ دہشتگردی کی جارحانہ کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب بلوچستان کے عوام کے دلوں سے دہشتگردی کے خوف کو کم کر رہا ہے۔ ”بلوچستان میں متعدد لوگ صوبے میں امن کی کوششوں کی مکمل حمایت کر رہے ہیں اور شرپسند بڑی تعداد میں ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔“

شرپسند راہِ فرار پر

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ دفائی تجزیہ کار جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”جاری آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے بڑی تعداد میں طالبان عسکریت پسند اپنی کمین گاہوں سے فرار ہو کر افغانستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں کی جانب فرار ہو گئے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”خیبر پختونخواہ اور ملک کے دیگر علاقوں سے بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر حکمتِ عملی ہونی چاہیے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ قبیلے شرپسندی کے خلاف لڑائی میں ایک بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حکومتِ بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”بلوچستان میں امن کی کوششوں نے صوبے کے عام آدمی کے لیے امّید کی ایک کرن دکھائی ہے، اور اس سے خطے میں ترقیاتی عمل تیز ہو رہا ہے۔“

انہوں نے کہا، ”دہشتگردی کے لیے ہماری پالیسی صفر برداشت کی ہے۔ ریاست پائیدار امن کے لیے ہمارے خطے میں انسدادِ عسکریت پسندی کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے“۔

انہوں نے کہا، ”گزشتہ برس ہم نے صوبے کے مختلف حصوں میں انٹیلی جنس پر مبنی 450 سے زائد ٹارگٹڈ آپریشن کیے ہیں اور عسکریت پسندوں کے متعدد کیمپ تباہ کیے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”جون میں منظور ہونے والے حالیہ مالی سال کے بجٹ میں ہم نے صوبے میں امنِ عامہ کی صورتِ حال کے لیے ایک بڑی رقم مختص کی۔ حکومت لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مستعدی سے کام کر رہی ہے۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500