https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/07/14/feature-01
سلامتی |

پاکستانیوں کا آرمی چیف کے وزیرستان میں دستوں کے دورے پر سیلیوٹ

از ظاہر شاہ

image

پاکستانی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل راحیل شریف (بائیں) 6 جولائی کو شمالی وزیرستان میں سپاہیوں سے ملتے ہوئے۔ راحیل شریف نے عید میدانِ جنگ میں سپاہیوں کے ساتھ منائی۔ [تصویر بشکریہ آئی ایس پی آر]

پشاور - پاکستانی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل راحیل شریف نے عیدالفطر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہراول دستوں کے سپاہیوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں منائی، جس سے تمام اقسام کے دہشت گردوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان انہیں ختم کر دے گا۔

راحیل شریف نے عید کی نماز 6 جولائی کو وادیٔ شوال میں ادا کی، جو کبھی دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز اور مقامی اور القاعدہ سے الحاق شدہ جنگجوؤں دونوں کے لیے ایک محفوظ جنت ہوا کرتی تھی۔

وادیٔ شوال میں سپاہیوں کے ساتھ عید منانے کے بعد، راحیل شریف نے شمالی وزیرستان اور ساتھ ہی ساتھ جنوبی وزیرستان کے دیگر علاقوں میں سپاہیوں سے ملنے میں دن گزارا۔

فوج نے آپریشن ضربِ عضب کے ساتھ دہشت گردوں کو شمالی وزیرستان سے بھگا دیا ہے، جو جون 2014 میں شروع ہوا تھا۔

راحیل کا کہنا ہے کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی

دتہ خیل، شمالی وزیرستان میں سپاہیوں سے بات کرتے ہوئے، راحیل نے ہراول دستوں میں لڑنے پر ان کے حوصلے کو سراہا، یہاں تک کہ وہ اپنے اہلِ خانہ سے دور عید گزار رہے ہیں۔

راحیل نے کہا کہ پاکستانی عوام اور سپاہیوں نے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے بھاری قیمت چکائی ہے۔

انہوں نے سپاہیوں سے کہا، "ہم ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ فاٹا [وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات] کو صاف کرتے ہوئے اور پورے ملک میں دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے، ہم پرعزم ہیں کہ انہیں واپس لوٹنے اور ہماری کامیابیوں کو خاک میں ملانے کی اجازت نہیں دیں گے۔"

انہوں نے کہا کہ تمام رنگوں کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

راحیل نے عہد کیا کہ پاکستان کسی کو بھی افغانستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی کبھی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے تمام کمانڈروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو ہدایات دیں کہ اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔

انہوں نے کہا، "سرحدی انتظام اور افغان مہاجرین کی باعزت واپسی دیرپا امن کے لیے اہم عوامل ہیں۔"

پاکستان افغانستان کی جانب سے بھی ایسی ہی توقع رکھتا ہے کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہم اخلاص، ذمہ داری اور عزم کے ساتھ مفاہمت کے عمل میں سہولت کاری کرنے میں مخلص ہیں۔"

آرمی چیف کو سیلیوٹ

سپاہیوں اور ساتھ ہی ساتھ افغان اور پاکستانی سویلینز نے چیف کے عید پر دورے کو امن کے لیے شاندار اقدام اور تحریک کے طور پر سراہا۔

پشاور میں ایک داخلی چوکی پر تعینات، فرنٹیئر کور کے رکن رحمت ولی نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "ہم سب سپاہی ہیں۔ آرمی چیف اور عام سپاہی سب ایک جیسے ہیں، ہمارا نعرہ اپنی سرزمین کا دفاع ہے۔ ہم یہ لازماً کریں گے۔"

انہوں نے کہا، "آرمی چیف نے عید سپاہیوں کے ساتھ منائی، جو کہ ان کے لیے ایک بہت بڑی تحریک ہے۔ ہمارے کمانڈروں نے ہمیشہ ہراول دستوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے دہشت گردوں کو تمام محاذوں پر شکست دی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم آرمی چیف کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔"

ایک افغان مہاجر اور پشاور کے حیات آباد کے علاقے میں ایک بیکری والے، نور ولی نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "افغان بھی پاکستانی آرمی چیف کو سیلیوٹ کرتے ہیں۔ وہ ۔۔۔ واقعی خطے میں امن بحال کرنا چاہتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "میں انہیں ہمیشہ اگلے مورچوں پر دیکھتا ہوں۔ آج میں نے انہیں میدانِ جنگ میں سپاہیوں کے ساتھ عید مناتے دیکھا ہے۔ میں بہت متاثر ہوا ہوں۔"

پشاور ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار، ہدایت اللہ نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "آگے بڑھ کر قیادت کرتے ہوئے آرمی چیف نے ایک مثال قائم کی ہے۔"

میدانِ جنگ میں شہید ہونے والے ایک فوجی افسر کی بیوہ، پشاور کی گلفام نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "پوری قوم ان کی پشت پر ہے۔"

فاٹا کے لیے ایک سابق سیکریٹری دفاع، پشاور کے بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، راحیل شریف کے جنگی علاقوں کے کثرت سے دورے ایک تزویراتی فتح ہیں۔

انہوں نے کہا، "میدانِ جنگ میں سپاہیوں کے ساتھ عید منانا دستوں کے حوصلے میں بہت زیادہ اضافہ ہے۔"

شاہ، جنہوں نے بہت برسوں تک وزیرستان میں فوج میں خدمات انجام دیں، نے کہا کہ مہینوں تک میدانِ جنگ میں لڑنے والے سپاہی جب آرمی چیف کو اپنے ساتھ عید مناتے دیکھتے ہیں تو انہیں اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔

ضربِ عضب کی مسلسل کامیابی اس نظریے کو ثابت کرتی ہے کا اضافہ کرتے ہوئے، شاہ نے کہا کہ اگلی صفوں پر جا کر قیادت کرنا سپاہیوں میں ایک نیا جذبہ اور لڑنے کی ہمت پیدا کر دیتا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha