تعلیم

صوبہ خیبر پختونخواہ کے اسکول ون- کلک ایس او ایس سسٹم سے منسلک

جاوید خان

image

ایک سیکورٹی گارڈ جون میں پشاور کے ایک نجی اسکول کے باہر کھڑا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے بارے میں میں تیزی سے پولیس کو مطلع کرنے کے لیے 22،000 سے زائد اسکول وَن- کلک ایس او ایس سسٹم سے منسلک کیے گئے ہیں۔ [جاوید خان]

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) میں 22،00 سے زائد اسکول اور تقریباً 1،800 دیگر حساس عمارتوں کو ون- کلک ایس او ایس سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے۔ یہ سسٹم مشکوک سرگرمیوں یا دہشت گردی کے خطرات کی اطلاع دینے کے لئے سمارٹ فون کی ایک ایپلیکیشن یا ایپ پر انحصار کرتا ہے۔

کے پی حکام نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں 16 دسمبر، 2014 کو 140 سے زائد بچوں اور اساتذہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہونے والےقتلِ عام کے بعد، اس نظام کو پہلے پشاور اور اس کے بعد کے پی کے دوسرے حصّوں میں متعارف کرایا۔

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس، محمد افضل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کے پی پولیس نے یہ نظام جنوری 2015 ء میں متعارف کرایا۔ یہ نظام تمام اسکولوں میں لگایا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں پولیس نے یہ نظام اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں نصب کیا اور بعد میں اس کی توسیع بینکوں، نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفاتر، زیورات کی دکانوں اور کرنسی ڈیلروں تک کر دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے اسمارٹ فونز پر یہ اپلی کیشن (ایپ) موجود ہے، وہ حکام کو ہنگامی حالات کے بارے میں مطلع کرنے کے لئے محض ایک بٹن پر کلک کرتے ہیں۔

سیکورٹی اہلکار اور پہلی جوابی کاروائی کرنے والوں کو فوری طور پر چوکس کرنے والوں کا محل وقوع اور وہاں کے لئے تیز ترین راستہ معلوم ہو جاتا ہے۔

مئی کے آخر میں کے پی سینٹرل پولیس آفس میں آئی ٹی کے ڈائریکٹر، نوید احمد نے ایک بریفنگ کے دوران کے پی کے انسپکٹر جنرل پولیس، ناصر خان درانی کو بتایا کہ اب تک کے پی میں 22،798 اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو اس نظام تک رسائی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا، "اس کے علاوہ، 1،191 زیورات کی دکانیں، 484 بینک، 68 کرنسی ڈیلر اور نادرا کے نو دفاتر اب اس نظام سے منسلک ہیں۔"

حکام نے گزشتہ دسمبر میں نادرا کے ضلع مردان کے دفتر میں ایک بم حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد، نادرا کے دفاتر کو اس نظام سے منسلک کرنا شروع کیا تھا۔

پولیس، اسکول سیکورٹی میں اضافہ کر رہے ہیں

وَن کلک سسٹم نصب کرنے کے علاوہ، حکام نے تعلیمی اداروں کو کلوزڈ سرکٹ ٹی وی کیمرے نصب کرنے، مزید گارڈز کی خدمات حاصل کرنے، اپنی چار دیواری اونچی کرنے، اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔

پشاور کیپیٹل سٹی پولیس افسر، مبارک زیب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنے سینئر افسران کے ساتھ میں نے سیکورٹی انتظامات کا معائنہ کرنے اور خامیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کا دورہ کیا۔"

زیب اور کے پی پولیس آپریشنز کے سینئر سپرنٹنڈنٹ، عباس مجید مروت نے پشاور میں مئی میں اسکولوں کے سربراہوں، (قصبے کی) بلدیات اور بازار کے دکانداروں کی انجمنوں جیسے مقامی نمائندہ اداروں کے نمائندوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔

پولیس افسران نے اساتذہ اور مقامی رہنماؤں سے کہا کہ وہ عوام کے تحفظ کو برقرار رکھنے اور بہتر جدید حفاظتی اقدامات اپنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ایک کلک کے نظام کی کارگزاری کو یقینی بنانے کیلئے، مارچ سے مئی تک فوج اور پولیس نے متعدد مشقیں کیں، جس میں انہوں نے یہ جائزہ لیا کہ اگر کسی نے ایس او ایس بٹن پر کلک کیا تو وہ کتنی تیزی سے جواب کاروائی کر سکیں گے۔

سینئر افسران نے کے پی کے مختلف حصّوں میں کی جانے والی مشقوں کی نگرانی کی۔

ایک نجی اسکول کے مالک، جہان زیب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ نظام اسکولوں اور دیگر اداروں کے مالکان اور پرنسپلوں کو سکون کا یہ احساس فراہم کرتا ہے کہ ایک ایسی جگہ موجود ہے جہاں کسی ضرورت کی صورت میں آپ فوری مدد حاصل کر سکتے ہیں۔"

بینک، زیورات کی دکانیں نظام سے منسلک

کے پی کے متعدد بینک، سرکاری دفاتر، سنار اور کرنسی تبادلہ کرنے والے دوکاندار وَن- کلک سے منسلک ہیں، اور دکاندار اس نظام سے خوش ہیں۔

مستفید ہونے والوں میں مانسہرہ کے 76 اور پشاور کے 55 بینک شامل ہیں۔

دریں اثنا، مردان میں 349 زیورات کی دکانیں اور سارے کے پی میں زیورات کی سینکڑوں دوسری دکانیں بھی میں ون-کلک سے جڑی ہوئی ہیں۔

پشاور کے جیولر، طاہر حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "جواہرات کے مزید بیوپاریوں، بینکوں اور کرنسی ڈیلروں کو اس نظام کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہیئے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500