دہشتگردی

کے پی پولیس نے دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا

از جاوید خان

image

پشاور کیپیٹل سٹی پولیس افسر مبارک زیب (درمیان میں) 22 جون کو ماوتانی میں دوسرے پولیس افسران کے ساتھ متنی کی ایک چوکی پر بات چیت کرتے ہوئے۔ [جاوید خان]

پشاور - پولیس کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس نے جون کے آخر میں کے پی میں دہشت پھیلانے کے دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

کے پی کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کا کہنا ہے کہ اس نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ایک شاخ جماعت الاحرار کے ایک نیٹ ورک کو توڑا ہے۔

دو ممکنہ خود کش بمباروں اور ان کے سہولت کاروں کے 20 مئی کو سفید سانگ گاؤں میں حادثاتی طور پر خود کو اڑا لینے کے بعد تحقیقات کا آغاز ہو گیا تھا۔

کے پی سی ٹی ڈی کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس میاں سعید احمد نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "وہ ایک سرکاری اسکول پر حملہ کرنے کے لیے [ایک موٹر سائیکل پر سوار ہو کر] جا رہے تھے جب ان کے بم قبل از وقت پھٹ گئے۔"

ایک آدمی جس نے 20 مئی کے دھماکے سے قبل گروہ کو اپنے ہاں ٹھہرایا تھا وہ زیرِ حراست افراد میں شامل ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "گروہ کے چار ارکان بشمول خود کش بمباروں کے سہولت کاروں کو جون کے تیسرے ہفتے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا [اور] ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔"

کل تعداد آٹھ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیگر چار ملزمان زیرِ حراست ہیں اور ان سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

احمد نے کہا، "ہم نے سرغنہ کی شناخت کر لی ہے، لیکن وہ افغانستان میں ہے۔"

پولیس کو بارودی مواد ملا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ اگر دھماکے میں تینوں سازش کرنے والے ہلاک نہ ہو جاتے، تو گروہ نے دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور کی طرف پر ایک قتلِ عام کرنے کی کوشش کرنی تھی۔

اے پی ایس حملے میں، ٹی ٹی پی کے بندوق برداروں نے تقریباً 150 بچوں اور اساتذہ کو ہلاک کر دیا تھا۔

سفید سانگ میں قبل از وقت ہونے والے دھماکے کے بعد، مقامی لوگوں نے پولیس کو بلا لیا۔ کے پی بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ایک دوسری خود کش جیکٹ جو پھٹی نہیں تھی، گرنیڈز اور دیگر بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا۔

تفتیش میں منکشف ہونے والی معلومات اور ملزمان سے کی جانے والی پوچھ گچھ کی بنیاد پر، سی ٹی ڈی نے حال ہی میں ریگی، پشاور میں ایک گھر پر چھاپہ مارا۔ پولیس افسران نے 50 کلوگرام بارود، 14 ٹائمر، سیکنڑوں فٹ بارودی فیتہ اور بم بنانے کا دیگر سامان برآمد کیا۔

احمد نے کہا، "ہم یہ معلوم کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں آیا کہ انہوں نے بارودی مواد کو پشاور کے دیگر حصوں میں چھپا رکھا تھا۔"

اسی گروہ نے 18 مئی کو ماتھرا میں ایک دوہرا بم دھماکہ کیا تھا جس میں ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق اور 16 دیگر پاکستانی زخمی ہوئے تھے۔ دوسرا بم پولیس، امدادی کارکنان اور صحافیوں کے پہلے دھماکے کی جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد پھٹا تھا۔

سرحد کی حفاظت

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پشاور میں بڑے حملوں میں ملوث گروہ کی ناکامی علاقے میں دیگر عسکریت پسندوں کے عزم کو کمزور کرے گی۔

پشاور کے مقامی ایک دفاعی مشیر، میجر (ر) شکیل احمد خان نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ اس سے "پولیس ۔۔۔ اور عام عوام کے حوصلے بھی بلند ہوں گے۔"

دیگر کارروائیاں دہشت گردوں کی پاکستان پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے حال ہی میں افغان سرحد کے سامنے، طورخم چوکی پر ایک سرحدی انتظامی نطام نصب کیا ہے تاکہ تمام آنے والوں کا معائنہ کیا جائے۔

اس اقدام کا مقصد دہشت گردوں کو پاکستان میں آنے سے روکنا تھا۔

پشاور میں دہشت گرد نیٹ ورک کی گرفتاری دیگر سازشی عناصر کے لیے ایک انتباہ ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے خان نے کہا، "حال ہی میں نصب ہونے والا ۔۔۔ نظام اور شہروں میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں دہشت گردوں کی کارروائیوں کو متاثر کریں گے۔"

عوام ان دہشت گردوں پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں جو بچوں کو ہدف بناتے ہیں۔

اسکول جانے کی عمر کے پانچ بچوں کے والد، پشاور کے دلاور خان نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "وہ جنہوں نے اسکول کے بچوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے انہیں زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔"

انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور کالجوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو کچل دیں۔

یونیورسٹی آف پشاور کے ایک طالب علم، یحییٰ خان نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "اے پی ایس اور چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر [جنوری میں] ہونے والے حملوں کے بعد ایک اور واقعہ [عوامی مورال] پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

Mera khyal ha keh sare pakistaniun ko jange bonyado ketarah hokam de jaye keh bela khof wa khatar jahan be ho har jaga dasht gardo awer saholatkaro per nazar raken awer fawran fors ko itla da

جواب