دہشتگردی

ملک ابھی تک 2014 میں پشاور میں قتل کیے جانے والے ڈیڑھ سو اساتذہ اور بچوں کا ماتم کر رہا ہے۔

گزشتہ ماہ سیکیورٹی فورسز نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی کلیدی ارکان کو ہلاک یا گرفتار کیا ہے۔

گزشتہ دو ماہ میں عسکریت پسندوں نے 50 مساجد، 300 سے زائد اسکولوں، اور 40 سے زائد مراکزِ صحت کو نقصان پہنچایا ہے۔

طالبان باقاعدگی کے ساتھ صحت مراکز میں بنیادی ڈھانچے کو اڑاتے رہتے ہیں، جس سے ویکسینیشن کے لیے سرد سلسلے کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

سیکیورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ چھ خودکش حملہ آور جو ممکنہ طور نفاذِ قانون کے اہلکاروں کا روپ دھارنے کی کوشش کر سکتے ہیں، ایک حملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

فوج کے کامیاب آپریشنز اور اندرونی جھگڑوں نے عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ گزشتہ 7 برسوں میں لگ بھگ 500 اسکول طالبان کی جانب سے تباہ کیے جا چکے ہیں، بچے تعلیم حاصل کرنے کا عہد کیے ہوئے ہیں۔

ملک بھر میں دہشت گردی کی مہمات کے زبردست معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ ساٹھ ہزار افراد بھی اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔

فاٹا میں مزدوروں نے ابھی تک 472 اسکول دوبارہ تعمیر کر دیئے ہیں اور دیگر 374 زیرِ تعمیر ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پہلے زمینی دورے کے لیے شمالی وزیرستان کا انتخاب کیا جس سے یہ پیغام ملا کہ وہ اپنے پیشرو کی کامیابیوں کو جاری رکھیں گے۔