دہشتگردی

مبصرین کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں لوگوں کی حمایت کو جیتنے کے لیے راہنماؤں کو گورنس کو بہتر بنانے اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

دہشتگرد حملوں کے متاثرین اور ان کے خاندان ان کی زندگیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدل دینے والے دھماکوں کے طویل عرصہ بعد بھی صدمہ کے بعد کے اثرات کو جھیل رہے ہیں۔

ایران ایک مکارانہ دوہرا کھیل کھیل رہا ہے: عراق اور شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعویدار ہے جبکہ دوسری طرف پورے افغانستان میں سفاکی کی حمایت کر رہا ہے۔

ملک ابھی تک 2014 میں پشاور میں قتل کیے جانے والے ڈیڑھ سو اساتذہ اور بچوں کا ماتم کر رہا ہے۔

گزشتہ ماہ سیکیورٹی فورسز نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی کلیدی ارکان کو ہلاک یا گرفتار کیا ہے۔

گزشتہ دو ماہ میں عسکریت پسندوں نے 50 مساجد، 300 سے زائد اسکولوں، اور 40 سے زائد مراکزِ صحت کو نقصان پہنچایا ہے۔

طالبان باقاعدگی کے ساتھ صحت مراکز میں بنیادی ڈھانچے کو اڑاتے رہتے ہیں، جس سے ویکسینیشن کے لیے سرد سلسلے کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

سیکیورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ چھ خودکش حملہ آور جو ممکنہ طور نفاذِ قانون کے اہلکاروں کا روپ دھارنے کی کوشش کر سکتے ہیں، ایک حملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

فوج کے کامیاب آپریشنز اور اندرونی جھگڑوں نے عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ گزشتہ 7 برسوں میں لگ بھگ 500 اسکول طالبان کی جانب سے تباہ کیے جا چکے ہیں، بچے تعلیم حاصل کرنے کا عہد کیے ہوئے ہیں۔