دہشتگردی

ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی ملکیتی ہوائی کمپنی پر، علاقے بھر کے جنگ زدہ علاقوں تک ہتھیاروں اور جنگجوؤں کو لے جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

پاکستانی دارالحکومت نے اپریل 2014 کے بعد سے دہشت گرد حملوں سے پاک رہنے کے لیے کئی اقدامات استعمال کیے ہیں۔

حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے اغوا ہو کر خودکش حملہ آور بنائے جا رہے ہیں، کیوںکہ عسکریت پسند گروہوں کو بھاری نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔

دہشت گرد حملوں کو روکنے میں مدد دینے کے لیے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مکین 1135 پر، جبکہ کے پی اور فاٹا کے مکین 1125 پر کال کر سکتے ہیں۔

پاکستانی پولیس، فوج اور رینجرز نے لاہور میں پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) کے پرامن اختتام کو یقینی بنایا۔

عسکریت پسندوں کے حملوں کی لہر کے بعد 22 فروری سے شروع ہونے والی مہم کے آغاز سے اب تک سینکڑوں آپریشنز کا پہلے ہی آغاز ہو چکا ہے۔

سنہ 2016 میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 11،000 عام شہری، بشمول تقریباً 4،000 بچے شہید کیے گئے، جس پر علماء کا کہنا ہے کہ یہ 'جہاد' نہیں قتال ہے۔

دہشت گرد حملوں کی حالیہ طغیانی کے بعد صوبائی حکومت نے رینجرز سے مدد کی درخواست کی تھی۔

اس سے پہلے کہ وہ چارسدہ کے اپنے مرکزی ہدف کو نشانہ بنا سکتے، ممکنہ خودکش بمباروں کو عدالت کے اندر دھماکہ خیز مواد کو پھاڑنے سے پہلے ہلاک کر دیا گیا۔

افغان اور پاکستانی شعیہ جنگجوؤں پر مشتمل فاطمیون برگیڈ اور زینبیون برگیڈ حکومتِ شام کے لیے لڑ رہے ہیں۔