دہشتگردی

داعش مقامی عسکری گروہوں جیسے کہ ایل ای جے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جماعت الاحرار دھڑے کے ساتھ اتحاد کے ذریعے پاکستان میں داخلے کے راستے بنا رہی ہے۔

طویل عرصے سے مصیبتیں جھیلنے والے شہریوں سے لوٹ مار کرنے کی اہلیت پر یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان نے ابھی تک مجوزہ تنظیموں کی 12،968 ویب سائٹیں بلاک کی ہیں۔

خیبرپختونخواہ کی حکومت نے شہید کیے جانے والے بچوں کے بہن بھائیوں کو مفت میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مساجد میں مسلمانوں کو قتل کرنے اور سکولوں کو تباہ کرنے سمیت طالبان کے افعال اسلام اور قومی مفادات کے منافی ہیں۔

پاکستان ایرانی عناصر کو زہریلے نظریات پھیلانے اور پاکستانی شیعہ نوجوانوں کو شام میں لڑنے کے لیے بھرتی کرنے سے روکنے میں مصروفِ عمل ہے۔

فوجی آپریشنوں کی وجہ سے قتلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے گزشتہ دو سالوں میں 1,657 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جب کہ آپریشن ردالفساد نے ان کامیابیوں کو جاری رکھا ہے۔

یہ حملہ بڑے پیمانے پر مذمت اور اس عہد کا باعث بنا کہ مردم شماری بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گی۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے دھڑے، جماعت الاحرار نے کار بم دھماکے کی فوراً ہی ذمہ داری قبول کر لی جس میں ایک مصروف مارکیٹ میں 20 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔