دہشتگردی

انہوں نے بتایا کہ طالبان سے تعلق رکھنے والے جنگجو 'بہت جارحانہ' تھے اور انہیں، ان کے شوہر اور ان کے اب چار سالہ بیٹے کو مارا کرتے تھے۔

تنظیم سرحد کے آر پار اپنی اس 'خلافت' کے 95 فیصد سے محروم ہو چکی ہے جس کا اس نے سنہ 2014 میں عراق اور شام میں اعلان کیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب طالبان کی تاریخ خواتین کی عصمت دری کرنے اور بچوں کو قتل کرنے سے بھری ہوئی ہے۔

سینیئر القاعدہ رہنما کی ایرانی تحفظ کے تحت کام کرنے کی واضح صلاحیّت ان دعووں کی توثیق کرتی ہے کہ تہران اور بن لادن کی سرگرمیاں باہم مربوط تھیں۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ آخری حربے کے طور پر، گروہ نے عورتوں سے درخواست کی ہے کہ وہ شام اور عراق میں لڑیں جس سے اس کے ناگزیر خاتمے کا اشارہ ملتا ہے۔

مغربی افغانستان میں ایک سیکیورٹی ذریعہ کے مطابق، طالبان ایسا جدید اسلحہ استعمال کر رہے ہیں جو صرف روسی فوج کے پاس ہی دستیاب ہے۔

ملا رسول کی زیرِ قیادت کام کرنے والے طالبان کے ایک ذیلی گروہ کے نائب راہنما ملا منان نیازی نے کہا ہے کہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے وفاداروں نے انہیں قتل کرنے کے لیے تین خودکش بمباروں کو بھیجا ہے۔

درجن بھر سے زیادہ جاں بحق ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار شامل ہیں جنہوں نے بمبار کو مزار میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادارانہ تعلقات کے سخت خلاف ہیں اس لیے وہ ان کے تعلقات کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔