دہشتگردی

قازقستان نے پاکستان میں گزشتہ ہفتے اختتام پذیر ہونے والی انسدادِ دہشتگردی کی بین الاقوامی مشقوں ‘فرینڈشِپ 2017’ میں شرکت کی۔

حکام نے بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے پانچوں حملہ آوروں کو، جو سارے خودکش جیکٹ پہنے ہوئے تھے، ہلاک کر کے بڑے قتل عام سے بچا لیا۔

افغانستان اور پاکستان ان 41 ممالک میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف 'مکمل اسلامی اتحادی مورچہ' میں شمولیت اختیار کی ہے۔

دونوں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان تعلقات گزرتے وقت کے ساتھ انتہائی تلخ ہو گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری آپریشنز اور عوامی حمایت کے فقدان نے افغانستان اور پاکستان میں داعش کے پھیلاوٴ کو مسدود کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان سے تعلق رکھنے والے جنگجو 'بہت جارحانہ' تھے اور انہیں، ان کے شوہر اور ان کے اب چار سالہ بیٹے کو مارا کرتے تھے۔

تنظیم سرحد کے آر پار اپنی اس 'خلافت' کے 95 فیصد سے محروم ہو چکی ہے جس کا اس نے سنہ 2014 میں عراق اور شام میں اعلان کیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب طالبان کی تاریخ خواتین کی عصمت دری کرنے اور بچوں کو قتل کرنے سے بھری ہوئی ہے۔

سینیئر القاعدہ رہنما کی ایرانی تحفظ کے تحت کام کرنے کی واضح صلاحیّت ان دعووں کی توثیق کرتی ہے کہ تہران اور بن لادن کی سرگرمیاں باہم مربوط تھیں۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ آخری حربے کے طور پر، گروہ نے عورتوں سے درخواست کی ہے کہ وہ شام اور عراق میں لڑیں جس سے اس کے ناگزیر خاتمے کا اشارہ ملتا ہے۔

Previous | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | next