دہشتگردی

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک خودکش بمبار نے 3 فروری کو وادی سوات میں 11 فوجیوں کو شہید کر دیا۔

اس دہشت گردانہ گروہ نے تقریبا 300 افغان بچوں کو ان کے خاندانوں سے اغوا کر لیا تھا تاکہ وہ انہیں دہشت گردی کے حملے کرنے کے لیے تیا رکر سکے۔ مبینہ طور پر ان میں سے تقریبا آدھوں نے اپنی تربیت مکمل کر لی ہے۔

حکام عوام کو ترغیب دے رہے ہیں کہ ایسے گروہوں کو عطیات دینے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع حکام کو دیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کی شکست افغانستان، پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ – جہاں سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں – میں اس گروہ کے خاتمہ کی موجب ہو گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ آوروں کو چرچ میں داخل ہونے سے روک کر سینکڑوں جانیں بچائیں۔

قازقستان نے پاکستان میں گزشتہ ہفتے اختتام پذیر ہونے والی انسدادِ دہشتگردی کی بین الاقوامی مشقوں ‘فرینڈشِپ 2017’ میں شرکت کی۔

حکام نے بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے پانچوں حملہ آوروں کو، جو سارے خودکش جیکٹ پہنے ہوئے تھے، ہلاک کر کے بڑے قتل عام سے بچا لیا۔

افغانستان اور پاکستان ان 41 ممالک میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف 'مکمل اسلامی اتحادی مورچہ' میں شمولیت اختیار کی ہے۔

دونوں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان تعلقات گزرتے وقت کے ساتھ انتہائی تلخ ہو گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری آپریشنز اور عوامی حمایت کے فقدان نے افغانستان اور پاکستان میں داعش کے پھیلاوٴ کو مسدود کر دیا ہے۔