دہشتگردی

حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے قتلِ عام کی طرز پر ایک کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔

صحت مند سرگرمیاں نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکیں گی۔

یہ اقدام اکتوبے، قازقستان میں 5 جون کے دہشت گرد حملے کے ردِ عمل میں کیا گیا ہے۔

طالبان رہنماء مئی میں ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

وسط ایشیا کے یہ بڑے ممالک شدت پسندی کو شکست دینے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تقریبًا 300 مدارس غیر ملکی مالی امداد حاصل کرتے ہیں.