دہشتگردی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نظام دہشت گردی سے متعلقہ واقعات میں گاڑیوں کے غلط استعمال کو روکے گا۔

قبائلی عمائدین کے ایک جرگے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستانی حکام اور دینی علماء کا کہنا ہے کہ مدینہ میں مسجدِ نبوی کے قریب خود کش دھماکہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردوں کو کوئی مذہب نہیں ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے قتلِ عام کی طرز پر ایک کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔

صحت مند سرگرمیاں نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکیں گی۔

یہ اقدام اکتوبے، قازقستان میں 5 جون کے دہشت گرد حملے کے ردِ عمل میں کیا گیا ہے۔

طالبان رہنماء مئی میں ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

وسط ایشیا کے یہ بڑے ممالک شدت پسندی کو شکست دینے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔