دہشتگردی

ایک پاکستانی تھنک ٹینک کے مطابق، وسطی ایشیاء کے ایسے عسکریت پسند جنہوں نے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے اور جن میں آئی ایم یو اور ای ٹی آئی ایم سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں، افغانستان اور پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

فضائی حملوں اور پست ہوتے ہوئے حوصلوں سے زخم خوردہ، افغانستان میں داعش نے معاشرے کے سب سے حساس ارکان -- بچوں -- کو خراب کرنے کے ذریعے اپنے بڑھتی ہوئی مایوس کن صورتحال کا جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "میں نے بند آنکھوں کے ساتھ سوات چھوڑا اور اب میں کھلی آنکھوں کے ساتھ واپس آ گئی ہوں۔"

داعش کی طرف سے افغانستان آنے والے عسکریت پسندوں کو افغان اور اتحادی فورسز کے ہاتھوں صرف موت، عسکریت پسندوں کے خلاف عوام کا کھڑا ہو جانا اور طالبان کی طرف سے مزاحمت ہی ملے گی۔

یہ دعویٰ کرنے کے باوجود کہ ان کا مقصد اسلام میں جائز ہے، عسکریت پسند ناجائز ذرائع جیسا کہ منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے دولت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک خودکش بمبار نے 3 فروری کو وادی سوات میں 11 فوجیوں کو شہید کر دیا۔

اس دہشت گردانہ گروہ نے تقریبا 300 افغان بچوں کو ان کے خاندانوں سے اغوا کر لیا تھا تاکہ وہ انہیں دہشت گردی کے حملے کرنے کے لیے تیا رکر سکے۔ مبینہ طور پر ان میں سے تقریبا آدھوں نے اپنی تربیت مکمل کر لی ہے۔

حکام عوام کو ترغیب دے رہے ہیں کہ ایسے گروہوں کو عطیات دینے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع حکام کو دیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کی شکست افغانستان، پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ – جہاں سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں – میں اس گروہ کے خاتمہ کی موجب ہو گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ آوروں کو چرچ میں داخل ہونے سے روک کر سینکڑوں جانیں بچائیں۔

1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | next