دہشتگردی

پاکستان علماء کونسل 'پاکستان سے دہشت گردی، انتہا پسندی، اور فرقہ وارانہ فساد کے خاتمے' کو فروغ دینے کے لیے مارچ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کر رہی ہے۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2017 میں ہونے والے 35 عسکریت پسندانہ حملے 2018 میں کم ہو کر 19 رہ گئے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں سے تعلق رکھنے والے گرفتار شدہ ملزمان سپاہِ محمد پاکستان (ایس ایم پی) کے دھڑے المہدی کے رکن ہیں، جو کہ ایران کی پشت پناہی رکھنے والی کالعدم شیعہ دہشت گرد تنظیم ہے۔

ایک دہائی سے زائد عرصے کے آپریشنوں سے کچلی ہوئی، تحریکِ طالبان پاکستان اُدھڑ رہی ہے، اور حکومتِ پاکستان اور فوج یقینی بنا رہے ہیں کہ اس کی دوبارہ واپسی نہیں ہو گی۔

خصوصی مشقیں شغور وادی کے پہاڑوں میں 9,000 فٹ سے زیادہ کی بلندی پر منعقد ہوئیں۔

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس طاہر خان داور، جنہیں 26 اکتوبر کو اسلام آباد سے اغواء کر لیا گیا تھا، مبینہ طور پر افغانستان میں ایک غیر دستخط شدہ یادداشت کے ساتھ مردہ پائے گئے ہیں۔

22 ستمبر کو جاری آپریشن کے جزُ کے طور پر پاک فوج نے شمالی وزیرستان کے علاقہ گرلامئی میں نو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

سترہ برس بعد بھی القاعدہ نظریاتِ سازش کے حامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے 11 ستمبر کو امریکہ میں دہشتگردانہ حملوں میں اپنی ’فتح‘ پر مرتکز ہے – اور اس میں اپنے کردار سے متعلق خسارے کو ثابت کر رہی ہے۔

حکام نے غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف ایک کاوش کے جزُ کے طور پر پشاور میں چوک یادگار کرنسی مارکیٹ کو سیل کر دیا اور 40 سے زائد منی ایکسچینجرز کو حراست میں لے لیا۔

ایران کے القائدہ کے ساتھ تعلقات کا آغاز اسامہ بن لادن کے زمانے کے دوران ہوا اور اس کے اہلِ خانہ کی میزبانی کرنے کے ساتھ اس کی موت کے بعد جاری رہا۔

1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | next