دہشتگردی

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس طاہر خان داور، جنہیں 26 اکتوبر کو اسلام آباد سے اغواء کر لیا گیا تھا، مبینہ طور پر افغانستان میں ایک غیر دستخط شدہ یادداشت کے ساتھ مردہ پائے گئے ہیں۔

22 ستمبر کو جاری آپریشن کے جزُ کے طور پر پاک فوج نے شمالی وزیرستان کے علاقہ گرلامئی میں نو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

سترہ برس بعد بھی القاعدہ نظریاتِ سازش کے حامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے 11 ستمبر کو امریکہ میں دہشتگردانہ حملوں میں اپنی ’فتح‘ پر مرتکز ہے – اور اس میں اپنے کردار سے متعلق خسارے کو ثابت کر رہی ہے۔

حکام نے غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف ایک کاوش کے جزُ کے طور پر پشاور میں چوک یادگار کرنسی مارکیٹ کو سیل کر دیا اور 40 سے زائد منی ایکسچینجرز کو حراست میں لے لیا۔

ایران کے القائدہ کے ساتھ تعلقات کا آغاز اسامہ بن لادن کے زمانے کے دوران ہوا اور اس کے اہلِ خانہ کی میزبانی کرنے کے ساتھ اس کی موت کے بعد جاری رہا۔

26 نکاتی عملی منصوبہ جون 2018 سے ستمبر 2019 تک کے 15 ماہ کے عرصے کا احاطہ کرتا ہے، جو وہ وقت ہے جب ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کوششوں کا جائزہ لے گا۔

ایک پاکستانی تھنک ٹینک کے مطابق، وسطی ایشیاء کے ایسے عسکریت پسند جنہوں نے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے اور جن میں آئی ایم یو اور ای ٹی آئی ایم سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں، افغانستان اور پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

فضائی حملوں اور پست ہوتے ہوئے حوصلوں سے زخم خوردہ، افغانستان میں داعش نے معاشرے کے سب سے حساس ارکان -- بچوں -- کو خراب کرنے کے ذریعے اپنے بڑھتی ہوئی مایوس کن صورتحال کا جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا، 'میں نے بند آنکھوں کے ساتھ سوات چھوڑا اور اب میں کھلی آنکھوں کے ساتھ واپس آ گئی ہوں۔'

داعش کی طرف سے افغانستان آنے والے عسکریت پسندوں کو افغان اور اتحادی فورسز کے ہاتھوں صرف موت، عسکریت پسندوں کے خلاف عوام کا کھڑا ہو جانا اور طالبان کی طرف سے مزاحمت ہی ملے گی۔

1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | next