سلامتی

پاک فوج نے 11 اپریل کو دیر بالا اور دیر زیریں کی سولین حکومت کو سیکیورٹی فرائض منتقل کر دیے۔

طورخم سرحدی کراسنگ پر فلیگ میٹنگ سرحد پر کچھ عرصہ پہلے مختصر جھڑپ کے بعد ہوئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی ملاقاتیں ابلاغ کو بہتر بنائیں گی اور تناؤ کو ختم کریں گی۔

قبائلی بزرگوں اور مقامی حکام نے فوری طور پر صورتِ حال کو خراب ہونے سے روکا اور کہا کہ سرحد پر لڑائی سے صرف دہشت گردوں کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔

آگاہی کی ایک جاری مہم وزیرستان میں مقامی افراد کو سکھا رہی ہے کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے پیچھے چھوڑی جانے والی آئی ای ڈیز، بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز آلات کو کیسے شناخت کیا جا سکتا ہے۔

حکام نے تین افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جن پر پاراچنار میں دہشت گرد حملوں کا شبہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے درمیان نصب کیے گئے 31 ناکوں کا ’حلالِ سلامتی‘ دہشتگردی کے خدشات کا خاتمہ کرے گا۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا، "میرا نہیں خیال کہ اب ٹیموں کے پاس پاکستان نہ آنے کا کوئی جواز باقی رہ گیا ہے۔"

محمد اکرم اور صغراں بی بی کو اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں/ نواسے نواسیوں کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تاکہ وہ مشرقی غوطہ میں روسی حمایت یافتہ متشدد حملے سے فرار ہو سکیں۔

عہدیداران اور سابق طالبان ارکان کا کہنا ہے کہ تہران کے احکامات کے بعد، طالبان نے ملک کو کمزور رکھنے کی کوشش میں افغانستان میں بنیادی ڈھانچے کے کلیدی منصوبوں کو تباہ کرنے پر نظریں جما رکھی ہیں۔

آزادانہ طور پر تحقیقات کرنے والوں نے کریملین کا یہ دعوی مسترد کر دیا ہے کہ ویگنر گروپ کے زرخرید فوجی، رضاکار ہیں اور ان کا تعلق روسی فوج سے نہیں ہے۔

1