احتجاج

عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے ایک مسیحی عورت کو توہینِ مذہب کے الزام سے بری کیے جانے کے بعد ٹی ایل پی رہنماؤں پر احتجاج اور تشدد کو تحریک دینے کے لیے بغاوت اور دہشتگردی کے الزام لگائے جا رہے ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والا امن کاروان افغانستان میں بہت سے دوسرے کاروانوں کے ساتھ شامل ہوا جو طالبان اور دوسرے عسکریت پسندوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ لڑنا بند کر کے امن قائم کریں۔

2،000 کی تعداد میں قبائلیوں نے 'گو ایف سی آر گو' اور 'ہم فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا مطالبہ کرتے ہیں' کے نعرے لگائے۔