صحت

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ڈاکٹر دہشت گردی اور جنگ سے متعلقہ پرتشدد کارروائیوں میں زخمی ہونے والے مریضوں کا علاج کرنے میں صفِ اول میں ہیں۔

دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والی، قطرے پلانے والی ٹیمیں طورخم، خیرلاچی، غلام خان اور چمن کی بارڈر کراسنگ پر ٹرانزٹ پوائنٹس پر ملتی ہیں اور بچوں کو قطرے پلانے اور رجسٹریشن کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ اعداد و شمار کا تبادلہ کرتی ہیں۔

افغان مریضوں کو علاج کے لئے سرحد پار سفر میں سہولت فراہم کرنے سے انھیں بروقت اپائنمنٹ پر پہنچنے اور اشد ضروری طبی سہولت کے حصول میں آسانی ہو گئی۔

اس مہم کا مقصد ایسے غیر قانونی کلینکوں اور ڈاکٹروں کے پاس جانے کے خطرات کے بارے میں آگاہی کو بڑھانا ہے جو اپنی اہلیت یا مہارت سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ نوتشکیل شدہ خیبر پختونخوا مقتدرہٴ تحفظِ خوراک و حلال خوراک نے شہر بھر میں خلاف ورزی کرنے والوں کے کاروبار بند کر دیے اور انہیں جرمانے کیے ہیں۔

سیکورٹی کی بہتر صورتِ حال نے طبی ٹیموں کو قطرے پلانے اور پاکستان بھر سے اس وائرس کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کرنے کے قابل بنایا ہے۔

ڈاکٹروں نے جنوری سے مفت علاج مہیا کرنا شروع کیا ہے تاکہ اس ہلاکت خیز بیماری کے پھیلاؤ سے جنگ کی جا سکے۔

طبی ماہرین کے مطابق، دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے نتیجے میں 2 دہائی قبل والی تعداد سے زیادہ بچے مختلف دماغی عارضوں میں مبتلا ہیں۔

اس قدم کا مقصد علاقے کے ہسپتالوں میں طبی ماہرین کو لانا ہے جن میں سے اکثر ماضی میں عسکریت پسندوں کا نشانہ رہے ہیں۔

پہلے ہی سے دہشتگردانہ حملوں کے متاثرین کے علاج کے پوری طرح سے ماہر ڈاکٹروں، نرسوں، معاون طبی عملہ اور ہسپتال کے دیگر عملہ نے ہنگامی حالات میں زندگی بچانے کی تراکیب سے متعلق اپنے علم کی تجدید کی ہے۔

1 | 2 | 3 | next