صحت

میڈیکل ٹرانسپلانٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ایم ٹی آر اے) جسے اس سال کے آغاز میں قائم کیا گیا تھا، اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری کو روکنے اور پیوندکاری کرنے والے ہسپتالوں کی نگرانی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وہ لوگ جو فرقہ ورانہ تشدد سے متاثر ہوئے ہیں مایوسی اور ذہنی دباؤ سے جسمانی ورزش اور متبادل طریقہ ہائے علاج سے آرام حاصل کر رہے ہیں۔

صحت سے متعلق ایک کلیدی پروگرام، صحت سہولت، عسکریت پسند گروہوں کے ہاتھوں طویل عرصہ سے نگہداشت صحت سے محروم خیبرپختونخوا کی آبادی کے 69 فیصد کو کور کرتا ہے۔

باجوڑ ایجنسی ڈسٹرکٹ کے ایک ہسپتال میں اگست میں قائم کیے جانے والے نئے ہنگامی زچگی مرکز کے قیام سے شیرخوار بچوں کی اموات کو کم کرنے کی امید میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ایک پریشان کن شرح پر واقع ہوتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ محکمۂ صحت کے 400،000 سے زائد اہلکار تمام صوبوں کے اندازاً 6 ملین افراد کو ویکسین دیں گے۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ڈاکٹر دہشت گردی اور جنگ سے متعلقہ پرتشدد کارروائیوں میں زخمی ہونے والے مریضوں کا علاج کرنے میں صفِ اول میں ہیں۔

دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والی، قطرے پلانے والی ٹیمیں طورخم، خیرلاچی، غلام خان اور چمن کی بارڈر کراسنگ پر ٹرانزٹ پوائنٹس پر ملتی ہیں اور بچوں کو قطرے پلانے اور رجسٹریشن کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ اعداد و شمار کا تبادلہ کرتی ہیں۔

افغان مریضوں کو علاج کے لئے سرحد پار سفر میں سہولت فراہم کرنے سے انھیں بروقت اپائنمنٹ پر پہنچنے اور اشد ضروری طبی سہولت کے حصول میں آسانی ہو گئی۔

اس مہم کا مقصد ایسے غیر قانونی کلینکوں اور ڈاکٹروں کے پاس جانے کے خطرات کے بارے میں آگاہی کو بڑھانا ہے جو اپنی اہلیت یا مہارت سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ نوتشکیل شدہ خیبر پختونخوا مقتدرہٴ تحفظِ خوراک و حلال خوراک نے شہر بھر میں خلاف ورزی کرنے والوں کے کاروبار بند کر دیے اور انہیں جرمانے کیے ہیں۔

1