توانائی

علاقائی حکام ایران کی جانب سے منصوبے کو پٹڑی سے اتارنے کی بہت سی کوششوں، خواہ سیاسی ہوں یا فسادی، کے باوجود ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیا (تاپی) پائپ لائن سے مخلص رہے ہیں۔

ٹیوب ویل جو اب شمسی توانائی سے چلتے ہیں، نے علاقے کے اہم مسئلے کو حل کر دیا ہے اور انتہائی قابلِ اعتماد نظام کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل آٹھ گھنٹوں تک آرام سے چلتا رہتا ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے شیل پاکستان کو آئل ٹینکر کے ایک حادثے کا ذمہ دار پایا ہے جس میں کم از کم 218 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کے دوران خیبرپختونخوا میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا۔

تیل اور گیس کی تلاش کرنے والے ادارے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں وسیع ذخائر ڈھونڈنے کی توقع رکھتے ہیں۔