انتخابات

پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہونے والے عمران خان نے انتخابات میں جیت کے بعد کی جانے والی اپنی تقریر میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا عہد کیا اور کھلی سرحد اور آزاد تجارت پر زور دیا۔

تعصب پسندی کے واضح اظہار کے طور پر عام انتخابات میں بنیاد پرست اسلامی جماعتوں کی جانب سے کھڑے کیے گئے 1،500 امیدواروں میں سے محض دو نے نشستیں جیتیں۔

بہت سی خواتین کے لیے، عام انتخابات میں ووٹ دینا ایک خواب ہی تھا۔ یہ سب گزشتہ ہفتے تبدیل ہو گیا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی، معیشت، آبادی میں اضافہ، پانی کی کمی اور سول-فوجی تعلقات مستقبل کی سب سے اہم مشکلات ہیں۔

خان نے احتساب اور تمام پاکستانیوں کے مفاد میں پالیسی اصلاحات کا عہد کیا، جبکہ مخالف جماعتیں انتخابی دھاندلی کا دعویٰ کر رہی ہیں اور انہوں نے ووٹوں کے شمار کی آزادانہ نگرانی کا مطالبہ کیا۔

19 ملین نئے ووٹر، بشمول کئی ملین خواتین اور نوجوان، مقابلے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سول سوسائٹی کے گروہ اس بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ کالعدم گروہ 25 جولائی کے عام انتخابات میں شرکت کرنے کا راستہ تلاش کر چکے ہیں۔

انتخابات سے متعلقہ حالیہ پر تشدد واقعات نے 25 جولائی کے عام انتخابات سے قبل اور ان کے دوران بہتر سیکیورٹی انتظامات کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔

آگاہی مہم کا مقصد من گھڑت معلومات کو پھیلنے سے بچانا ہے۔

سیاسی جماعتوں اور ان کے راہنماؤں کی حفاظت کے لیے جوائنٹ کرائسس مینجمنٹ یونٹس بنائے گئے ہیں۔

1 | 2 | next