تعلیم

مبصرین کا کہنا ہے کہ جسمانی سزا اور جسمانی بدسلوکی، جو کہ پاکستانی اسکولوں میں وسیع طور پر قبول کردہ روایت ہے، نے طلبا کی اسکول جانے میں حوصلہ شکنی کی ہے۔

کے پی کی نئی حکومت کو توقع ہے کہ وہ اندازاً 250،000 اسکول نہ جانے والے بچوں کو اس سال سرکاری اسکولوں میں داخل کرے گی۔

یہ مسودہِ قانون اگر قانون بن گیا تو اس کے تحت کے پی کے اسکولوں میں جسمانی سزا پر جرمانے اور قید کی سزا دی جا سکے گی۔

حکام کے مطابق پاکستان میں افغان طلباء کے لیے تعلیمی مواقع دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات کی علامت ہیں۔

اساتذہ نئے موضوعات کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں جن کا مقصد نوجوان نسل کو سماجی طور پر ذمہ دارانہ طور پر عمل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مدرسوں کو مرکزی دھارے میں لے آئے گا، جس سے دہشتگردی سے روابط کا انسداد ہو گا اور حکومت نئی تنصیبات کے لیے مالیات فراہم کر سکے گی۔

صوبہ میں مختلف باغیانہ سرگرمیوں کے باعث 15,000 سے زیادہ اسکول بند ہو چکے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں انتہاپسندی ایک پیچیدہ خطرہ ہے۔

حالیہ طور پر یہ پروگرام پشاور اور مردان کی جیلوں میں چل رہا ہے۔ حکام اس پروگرام کو مزید توسیع دینے کا سوچ رہے ہیں۔

حکومتِ پاکستان افغان طالب علموں کے لیے خصوصی اسٹوڈنٹ ویزا، اسکولوں میں مخصوص نشستیں اور اسکالرشپس جاری کر رہی ہے۔

1