معیشت

سرحد کی دونوں جانب کے کاروباری رہنما ان مواقع کے منتظر ہیں جو سرحدی چوکیوں کے دوبارہ کھلنے سے پیدا ہوں گے۔

اگرچہ گُڑ بنانے میں کچھ سائنسی ترقی دیکھی گئی ہے مگر صدیوں پرانا یہ عمل ابھی بھی کافی حد تک پہلے جیسا ہی ہے۔

امریکہ پاکستان کے اہم ترین تجارتی شراکت داروں میں سے ہے اور ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے ساتھ پاکستان کو ہر سال تجارتی منافع ہوتا ہے۔

مستقبل کی ترجیحات میں سے ایک پاکستان کے ساتھ اس تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے جو انڈونیشیا کے ساتھ موجود ہے اور دو طرفہ سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے اور اس طرح اقتصادی تعلقات کو متنوع اور وسیع بنایا جا سکے گا۔

کسان غیر قانونی منشیات کی نسبت زعفران کی پیداوار سے کہیں زیادہ روپیہ کما سکتے ہیں، اور اس سے دہشتگرد گروہوں کی بیخ کنی کا اضافی فاعدہ بھی ہے۔

خیبر پختونخواہ میں کمرشل بینک زیادہ قرضے دے رہے ہیں اور مقامی کاروباری افراد کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دو طرفہ تعاون کو مضبوط کرنا "دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر" کرے گا۔

توقع ہے کہ حکومت کی طرف سے قائم کردہ عمومی سہولیات جن کا ابھی ابھی افتتاح ہوا ہے، مقامی طور پر پیدا ہونے والے شہد اور ریشم کے معیار اور مالیت کو بہتر بنائیں گی۔

توقع ہے کہ اگلے دس برسوں میں ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں کئی بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 27 ستمبر کو اس سرنگ کا افتتاح کیا۔

1