سفارتکاری

امریکی سفیر ایلس ویلس کا کہنا ہے کہ "پاکستان کو افغانستان کے امن کے عمل میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے"۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں بہتری سے پاکستان کے باقی تمام دنیا سے تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ افغانستان-پاکستان ایکشن پلان برائے امن و استحکام (اے پی اے پی پی ایس) بالخصوص باہمی سلامتی اور معاشی امور پر تعلقات مستحکم کرنے کے لیے لائحہ عمل دیتا ہے۔

سرحد کی دونوں اطراف کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے جنگ اور علاقے میں پائیدار امن کو قائم کرنے کے لیے ایک متحدہ محاذ اور مضبوط تر تعلقات ضروری ہیں۔

مشاہدین اور شرکاء کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بارے میں تاشقند کانفرنس میں شرکت نہ کرنے سے طالبان نے ممکنہ طور پر اپنے مقصد کو ہی نقصان پہنچایا ہے۔

اپنے حالیہ دورے کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف نے جو کچھ بھی کہا اس کے باوجود، ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بداعتمادی کو پروان چڑھا رہی ہے۔

پاکستانی مفادات کے خلاف طالبان حملوں کو مربوط کرنے سے لے کر معصوم پاکستانی شعیوں کو بنیاد پرست بنانے تک، ایرانی وزیرِ خارجہ ظریف کو ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے متعلق کافی چیزوں کی وضاحت کرنا ہے۔

تہران نے افغانستان میں ہونے والی ایک تقریب جس میں پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی شریک تھے پر حملے کا حکم دینے کے مبینہ الزامات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

پاکستان کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات کی تاکہ علاقائی سیکورٹی اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون کے بارے میں بات چیت کی جا سکے۔

صدر غنی نے اقوامِ متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا مطالبہ کیا۔

1