سفارتکاری

رکاوٹوں کے باوجود، انڈیا کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرنے کے لیے، وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دکھائے جانے والے خیرسگالی کے حالیہ اشارے ایک مثبت قدم ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ کا حالیہ دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تناؤ سے بھرپور تعلقات کی 'از سرِ نو تشکیل' کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ انہیں پاکستانی حکام کے ساتھ اپنی ملاقات سے 'خوشی ہوئی' اور وہ پُرامید ہیں کہ پاکستان افغان تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

عسکریت پسندوں کی افغانستان کی طرف اور افغانستان سے بین سرحدی نقل و حرکت نے حالیہ سالوں میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو کشیدہ کر دیا ہے۔

امریکی سفیر ایلس ویلس کا کہنا ہے کہ "پاکستان کو افغانستان کے امن کے عمل میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے"۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں بہتری سے پاکستان کے باقی تمام دنیا سے تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ افغانستان-پاکستان ایکشن پلان برائے امن و استحکام (اے پی اے پی پی ایس) بالخصوص باہمی سلامتی اور معاشی امور پر تعلقات مستحکم کرنے کے لیے لائحہ عمل دیتا ہے۔

سرحد کی دونوں اطراف کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے جنگ اور علاقے میں پائیدار امن کو قائم کرنے کے لیے ایک متحدہ محاذ اور مضبوط تر تعلقات ضروری ہیں۔

مشاہدین اور شرکاء کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بارے میں تاشقند کانفرنس میں شرکت نہ کرنے سے طالبان نے ممکنہ طور پر اپنے مقصد کو ہی نقصان پہنچایا ہے۔

اپنے حالیہ دورے کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف نے جو کچھ بھی کہا اس کے باوجود، ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بداعتمادی کو پروان چڑھا رہی ہے۔

1