جرم و انصاف

اگرچہ کے پی میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائیں دینے کی شرح میں 2014 سے اضافہ ہوا ہے مگر یہ شرح 2016 میں 28 فیصد رہی جو کہ مقابلتا کم ہے۔ 50 فیصد سے زیادہ مقدمات کا نتیجہ رہائی کی صورت میں نکلا۔ نئے آلہ کا مقصد اس شرح کو بہتر بنانا ہے۔

3 اپریل کو ایک تقریب میں کے پی پولیس کی ایلیٹ فورس کے 400 سے زائد کمانڈو فارغ التحصیل ہوئے۔

اس اقدام کا مقصد حافظ محمّد سعید کی قیادت میں کالعدم جماعت الدعویٰ اور اس کی خیراتی شاخ فلاحِ انسانیت فاوٴنڈیشن کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران ہزاروں افسران کو بدعنوانی کے الزامات پر تعزیری کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے کارکردگی میں قابلِ قدر اضافہ ہوا ہے اور بد انتظامی میں کمی آئی ہے۔

مرکزی جیل پشاور نے موبائل فون کی مرمت کی ورکشاپ شروع کی ہے تاکہ رہائی کے بعد، قیدیوں کو اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کرنے اور جرائم سے دور رہنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے تاخیر شدہ ڈی این اے لیباریٹری اور کے پی پولیس کی فرانزک لیب کو جدید بنانا، ہائی پروفائل جرائم کی تحقیقات کو تیز تر کر دے گا۔

ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی جنسی اور متشدد درندوں کے بارے میں آگاہی پیدا کر رہے ہیں جب کہ پولیس ایسے درندوں کو ڈھونڈ کر گرفتار کر رہی ہے۔

مشال خان، جس پر توہینِ مذہب کا جھوٹے الزام لگایا گیا تھا، کو پچھلے سال مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک مشتعل ہجوم نے ہلاک کر دیا تھا۔

حکومتِ پاکستان نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے عمل کو تیز کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بہتر ٹیکنالوجی اور تحقیقات اور ثبوت جمع کرنے کی مہارتیں گزشتہ دو ماہ میں 19 افراد کو سزائیں دلوانے پر منتج ہوئی ہیں۔

1