کاروبار

اعلیٰ سطحی عہدیداران نے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا، جبکہ طرفین کے تاجر کاروبار میں تیزی سے اضافے سے متعلق پرامّید ہیں۔

خیبرپختونخوا، خصوصاً درہ آدم خیل اور پشاور میں، چھوٹے ہتھیاروں کی تیاری کی صدیوں پرانی تاریخ کا حامل ہے۔

کاروباری افراد قبائلی پٹی سے قربت کی وجہ سے اکثر، بطورِ خاص نقد لین دین کرتے ہوئے غیر محفوظ محسوس کرتے تھے اور اغوا برائے تاوان سے بھی خوفزدہ تھے۔

مہمند کے سنگِ مرمر کے متعدد رنگ پاکستان میں اور بین الاقوامی طور پریکساں مقبول ہیں۔

شالوں کی صنعت جو کہ عسکریت پسندی کے باعث تقریبا ختم ہو گئی تھی، وادیِ سوات کے گاؤں کی تقریبا 80 فیصد آبادی سے جڑی ہوئی ہے۔

ترقیاتی بجٹ میں 40 فیصد اضافہ اس وقت آیا ہے جب پاکستان کی معیشت تقریبا 5.3 فیصد سے بڑھی ہے -- یہ ایک دیہائی میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

دہشت گردی نے خطے کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا تھا، جس کے بارے میں کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں اس کی بحالی اور بہتری کی امید ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی ضوابط اور کامیاب دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کی صورت میں نکل رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے، عسکریت پسند غیر قانونی طور پر رقم کی منتقلی کے نظام جیسے کہ ہنڈی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو کے پاکستان کی معیشت کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی اقتصادی زون ملازمت کے زیادہ امکانات پیدا کریں گے اور نوجوانوں کو دہشت گردوں کے ہتھے چڑھنے سے محفوظ رکھیں گے۔

1