یو ایس ایس میسن کا کراچی کا دورہ امریکہ اور پاکستان کے جاری بحری تعاون کو اجاگر کرتا ہے

از ضیاء الرحمان

کراچی -- اس ماہ کے شروع میں امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس میسن کے کراچی کے دورے نے امریکی بحریہ اور پاکستان کے درمیان جاری شراکت داری کو نمایاں کیا ہے۔

ڈیلی ٹائمز نے خبر دی کہ ارلیح بیورک-کلاس کے تباہ کن جہاز نے 13 جون کو اپنا کراچی کا دورہ مکمل کیا جہاں اس کا روایتی پُرتپاک استقبال کیا گیا۔

دونوں ممالک کے حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ بحری جہاز کا دورہ دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرے گا۔

پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے کہا، "دونوں ممالک کی بحری افواج علاقے میں بحری دفاع تشکیل دینے اور سمندر میں آزادانہ تجارتی نقل و حمل سے مخلص ہیں، اور یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں مفید ثابت ہو گا۔"

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ بحری جہاز کے دورے نے امریکی اور پاکستانی بحری افواج کی باہمی عملیت کو بہتر بنایا ہے، جو کہ کثیر ملکیمشترکہ ٹاسک فورس 150(سی ٹی ایف 150) پر اکٹھی کام کرتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا، "سی ٹی ایف 150 کا مقصد بحرِ مردار، خلیجِ عدن، بحرِ ہند اور خلیجِ عمان میں دہشت گرد تنظیموں اور ان سے متعلقہ غیر قانونی سرگرمیوں کو ختم کرنا ہے۔ جب سے پاکستان نے اپریل 2019 میں سی ٹی ایف 150 کی کمان کینیڈا سے لی ہے، ٹاسک فورس نے کئی ملین ڈالر مالیت کی غیر قانونی منشیات پکڑی ہیں۔"

یو ایس ایس میسن کا دورہ امریکی بحری افواج کے مرکزی کمانڈر، وائس ایڈمرل جم مولی کے دورے کے ساتھ ہی ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مولی نے اسلام آباد اور کراچی کا دورہ کیا اور فوج کے فوج کے ساتھ تعلقات اور خطے میں تعاون پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے چیف آف نیول اسٹاف ظفر محمود عباسی اور پاکستانی بحریہ کے دیگر حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

2
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha