پاکستان نے مبینہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث کم از کم 8 چینیوں کو گرفتار کر لیا

اے ایف پی

اسلام آباد -- حکام نے منگل (7 مئی) کے روز اے ایف پی کو تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے کم از کم آٹھ چینی نژاد مردوں کو مبینہ طور پر نوجوان پاکستانی لڑکیوں کو ورغلا کر جعلی شادیاں کرنے اور پھر چین میں ان سے جبراً جسم فروشی کروانے پر گرفتار کر لیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی محکمے (ایف آئی اے) نے کہا ہے کہ چار پاکستانی جنہوں نے جعلی شادیوں میں سہولت کاری کی تھی انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ تحقیقات کے آگے بڑھنے پر ایف آئی اے کو مزید گرفتاریوں کی توقع ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپریل میں ایک رپورٹ میں "دلہنوں" کی پاکستان سے چین اسمگلنگ پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جہاں اس نے کہا تھا کہ ان اطلاعات پر اسلام آباد کو "خبردار" ہو جانا چاہیئے۔

اپریل میں ایک پاکستانی نیوز چینل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے لاہور میں رشتے کروانے والے ایک مرکز میں داخلہ حاصل کیا تھا جہاں غریب خاندان پیسے اور ویزے کے بدلے اپنی بیٹیوں کی شادی چینی مردوں سے کر دیتے ہیں۔

اسلام آباد میں چینی سفارت خانے نے کہا، "رشتے کروانے کے غیر قانونی مراکز کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے چین پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔"

دہشت گرد تنظیموں جیسے کہ "دولت اسلامیہ" (داعش) نے انسانی اسمگلنگ کو اپنے مقاصد میں سرمایہ کاری میں مدد کے لئے اور بطور بھرتی کا ذریعہ استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر، نئے جنگجوؤں کو راغب کرنے کے لیے، داعش نے عراق میںیزیدی خواتین اور لڑکیوںکو اغواء کیا تاکہ انہیں ان مردوں کے لیے بطور جنسی غلام استعمال کیا جائے جو دہشت گرد گروہ میں شامل ہوتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

1
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha