لاہور میں نو عمر ملازمہ کی مبینہ قاتل گرفتار

اے ایف پی

لاہور -- 16 سالہ ملازمہ عظمیٰ بی بی کی نہر میں بہائی گئی مسخ شدہ لاش ملی تھی اور اس کی مالدار مالکن پر قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا، یہ ایک تازہ ترین مقدمہ ہے جو پاکستان میں گھریلو ملازمین -- خصوصاً بچوں -- کو درپیش خطرات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتا ہے۔

پولیس نے کہا کہ عظمیٰ کے سر پر باورچی خانے میں استعمال ہونے والے برتن مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ وہ لاہور کے اس خاندان کے ہاں آٹھ ماہ سے ملازم تھی جب اسے اس سال جنوری میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اس کی مالکن اور دو دیگر خواتین قتل اور بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس کے زیرِ حراست رہی ہیں۔

عظمیٰ کے غمزدہ باپ، محمد ریاض نے اے ایف پی کو بتایا، "میں پیچھے نہیں ہٹوں گا، میں مر جاؤں گا مگر انہیں نہیں چھوڑوں گا، انہوں نے جو کیا ہے میں انہیں اس کا خمیازہ بھگتتے دیکھنا چاہتا ہوں۔"

بچی محض 4،000 روپے (28 ڈالر) ماہانہ کماتی تھی۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق، پاکستان میں، 8.5 ملین گھریلو ملازمین -- بشمول بہت سے بچے -- امیر خاندانوں کے ہاں ملازمت کرتے ہیں، جسے بہت سے لوگ پاکستان میں سماجی نظام کی خرابی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

گھریلو ملازمین کی یونین، ملک کی پہلی -- اور تاحال واحد -- ایسی تنظیم کی جنرل سیکریٹری اروما شہزاد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "والدین اکثر اپنے بچوں کو اپنے خاندانوں کو غربت سے نکالنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔"

لیکن گھریلو ملازمین کو اکثر استحصال، تشدد اور جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

7
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha