|

پاکستان کو عسکریت پسندوں کے خلاف 'فیصلہ کن کارروائی' کی ضرورت ہے: سینٹکام کمانڈر

پاکستان فارورڈ

واشنگٹن، ڈی سی – منگل (27 فروری) کو ایک اعلیٰ یوایس جنرل نے بتایا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ پاکستان سے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ارکان جو اس کے علاقے سے کام کرتے ہیں، کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی توقع کرتا ہے۔

یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی سربراہی کرنے والےجنرل جوزف ووٹل نے ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا، کئی عسکریت پسند گروہوں کے ارکان اور رہنما "پاکستان میں پناہ گاہ حاصل کر رہے ہیں،" یہ صورتحال علاقائی سلامتی کو متنازعہ بناتی ہے اور امریکی اہلکاروں کی زندگی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مفادات لئے خطرہ ہے۔

ووٹل نے مزید بتایا کہ انھیں پاکستانی فوج کی جانب سے "مثبت اشارے" نظر آنے شروع ہوگئے ہیں۔

"اپنی مراسلت کے ذریعے، وہ ہمیں زمین پر کی جانے والی اپنی کارروائیوں کی اطلاع دے رہے ہیں۔ ... حکمت عملی میں تبدیلی کی مناسبت سے یہ پھر بھی اس فیصلہ کن اقدام کی برابری نہیں کرتا جو ہم چاہیں گے کہ وہ لیں، لیکن یہ مثبت اشارے ہیں، اور یہ مجھے امید دلاتا ہے کہ ہماری نقطہ نظر صحیح ہے۔"

ووٹل نے مزید بتایا، پاکستان کے ساتھ تعاون افغانستان کی 16 سال پرانی جنگ میں کامیابی کی کلید ہے، جہاں اس بہار کے موسم میں ہزاروں اضافی امریکی فوجی اپنے افغان ہم منصبوں کی تربیت شروع کرنے والے ہیں۔

اعلیٰ سینٹکام کمانڈر نے "القاعدہ کو نمایاں طور سے نقصان پہنچانے اور داعش [دولتِ اسلامیہ] سے جنگ میں اہم اعانت کے بشمول دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بہت سی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا، وہ اپنے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ معمولاً بات چیت کرتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج