|

متحدہ سمندری فوج نے بحیرۂ عرب میں 8 ٹن حشیش برآمد کر لی

پاکستان فارورڈ

سڈنی، آسٹریلیا -- اے ایف پی نے 30 دسمبر کو خبر دی تھی کہ ایک آسٹریلوی جنگی بحری جہاز نے بحیرۂ عرب میں لگ بھگ آٹھ ٹن حشیش پکڑی تھی، جس کی امریکی ڈالروں میں اندازاً مالیت 325 ملین ڈالر تھی۔

30 دسمبر کو پکڑی جانے والی حشیش سے تین روز قبل ایچ ایم اے ایس وارامونگا نے علاقے میں سمندری حفاظتی مہمات کے دوران 69 کلوگرام ہیروئین بھی پکڑی تھی۔

آسٹریلوی بحری جہاز مشترکہ سمندری فوج (سی ایم ایف) بحری شراکت داری کا ایک حصہ ہے جس میں 32 ممالک بین الاقوامی پانیوں کے تقریباً 3.2 ملین مربع میل میں گشت کرتے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ اس اتحاد کا حصہ ہیں، جس کا ہیڈکوارٹر بحرین میں امریکی نیول بیس پر ہے۔

جہاز کے کمانڈنگ افسر، دوگالڈ کلیلینڈ نے کہا، "عملے کو خصوصی طور پر اس طرح کے کاموں کے لیے تیار کیا گیا تھا، اور ہم تین مشتبہ کشتیوں کو تلاش کرنے اور جہاز پر چڑھانے کے لیے اپنے ہیلی کاپٹر اور سمندری عملے کو استعمال کرنے کے قابل تھے۔"

منشیات کے سمگلروں کے لیے ایک دھچکا

مشرقِ وسطیٰ میں آسٹریلوی فوج کے سربراہ، میجر جنرل جان فریون نے اس برآمدگی کو منشیات کے سمگلروں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "اس کارروائی کا دنیا بھر میں منشیات کے بہاؤ اور منشیات سے کمائے جانے والے پیسے کو انتہاپسند تنظیموں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیے جانے پر اثر پڑے گا۔"

ایچ ایم اے ایس وارامونگا مشترکہ ٹاسک فورس (سی ٹی ایف) 150 کے جزو کے طور پر مشرقِ وسطیٰ اور بحرِ ہند کے علاقوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے سمندری دفاع کا اطلاق کرتا ہے، جو کہ سی ایم ایف کے تابع کام کرتی ہے۔

دسمبر میں پاکستان نے بحرین میں ہونے والی ایک تقریب میں سی ٹی ایف 150 کی کمان آسٹریلیا کے حوالے کی تھی۔ بدلتی رہنے والی کمان 2018 کے آخر میں کینیڈا کے پاس جانا طے پائی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج